Showing posts with label محبوبِ خدا کو تکلیف دینے والے پر لعنت. Show all posts
Showing posts with label محبوبِ خدا کو تکلیف دینے والے پر لعنت. Show all posts

Thursday, 30 March 2017

گستاخِ رسول ابو جہل کا انجام:






گستاخِ رسول ابو جہل کا انجام:
سیدنا عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ اُنہوں نے کہا: میں بدر والے دن صف میں کھڑا تھا۔ میں نے اپنے دائیں بائیں جانب نظر ڈالی تو دیکھا کہ میرے دونوں طرف دو نوجوان انصاری لڑکے کھڑے ہیں۔ میں نے تمنا کی: کاش !میرے نزدیک کوئی طاقتور اور مضبوط آدمی ہوتے۔ ا ن میں سے ایک مجھے میرے پہلو میں ہاتھ مار کرکہنے لگا:
«یا عم! هل تعرف أباجهل؟» ''چچا !کیا تم ابوجہل کو پہچانتے ہو؟''میں نے کہا: ہاں ، بھتیجے!تمہیں اس کی کیا غرض ہے؟ اُس نے کہا :«أُخبرت أنه یسبّ رسول الله ﷺ والذي نفسي بیده لئن رأیته لا یفارق سوادي سواده حتی یموت الأعجل منا»
''مجھے خبر دی گئی ہے کہ وہ رسو ل اللہﷺ کو گالی دیتا ہے۔ اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میرا جسم اس کے جسم سے اتنی دیر تک جدا نہیں ہوگا جب تک ہم میں سے جس کو جلدی موت آنی ہے، آجائے۔''
عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ مجھے اس نوجوان لڑکے کے جذبات پر بڑا تعجب ہوا۔پھر مجھے دوسرے لڑکے نے بھی اسی طرح پہلو میں ہاتھ مارا او راُس جیسی بات کہی۔ اتنے میں میری نظر ابوجہل پر پڑی۔ وہ لوگوں میں گھوم رہا تھا۔ میں نے کہا: کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ ابوجہل ہے جس کے بارے میں تم دونوں سوال کررہے تھے۔ابن عوف کہتے ہیں: وہ دونوں جلدی سے اس کی طرف دوڑے اور دونوں نے اس پر تلوار کا وار کیا یہاں تک کہ اسے جہنم رسید کردیا۔ پھر وہ رسول اللہﷺکےپاس آئے اور آکر آپ کو خبر دی۔ آپﷺ نے پوچھا «أیکما قتله؟»تو دونوں میں سے کس نے اس کو قتل کیا ؟ اُن دونوں میں ہر ایک کہنے لگا: ''أنا قتلته''میں نے اسے قتل کیا ہے۔ آپﷺنے فرمایا: «هل مسحتما سیفیکما؟» ''کیا تم دونوں اپنے تلواریں صاف کردی ہیں؟ اُنہوں نے کہا: نہیں آپﷺنے ان دونوں تلواروں پر نظر دوڑائی اور فرمایا: «کلاکما قتله»تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے اور ابوجہل کا پہنا ہوا سامان وغیرہ معاذ بن عمرو بن الجموع کو عطا کردیا۔
اور وہ دونوں نوجوان لڑکے معاذ بن عمرو بن جموع اور معاذ بن عفراء تھے۔
صحیح مسلم:42‎ ‎‎/1752، صحیح البخاري (3141) مع فتح الباري:7‎ ‎‎/422، مسند أحمد: 3‎ ‎‎/207(1672)، صحیح ابن حبان(4840) 11‎ ‎‎/172، مسند أبي یعلی (866) 2‎ ‎‎/170، المستدرك علی الصحیحین للامام الحاکم:3‎‎‎ /425، السنن الکبری للبیهقي:6‎ ‎‎/305، 306، البحر الذخار المعروف بمسند البزار:3‎‎ ‎/225 (1013)، مسندالشاشي:(248)1‎‎‎/279

اورصحیح البخاري (رقم الحديث:3988) میں ہے کہ عبداللہ بن عوف کہتے ہیں: «فأشرت لهما إلیه فشدّا علیه مثل الصقرین حتی ضرباه وهما ابنا عفراء»
''میں نے ابوجہل کی طرف ان دونوں کو اشارہ کیا ۔وہ دونوں لڑکے دو عقابوں کی طرح اس پر شدت سے ٹوٹ پڑے یہاں تک کہ اسے واصل جہنم کردیا او روہ دونوں عفراء کے بیٹے تھے۔''

Sunday, 26 March 2017

عصماء بنت مروان کا قتل



عصماء بنت مروان کا قتل :
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :
’’ خَطمَہ ‘‘ قبیلے کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اس عورت سے کون نمٹے گا۔ ‘‘ اس کی قوم کے ایک آدمی نے کہا۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کام میں سرانجام دوں گا ، چنانچہ اس نے جا کر اسے قتل کر دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہ ٹکرائیں یعنی اس عورت کا خون رائیگاں ہے اور اس کے معاملے میں کوئی دو آپس میں نہ ٹکرائیں۔ ( الصارم المسلول 129 ) بعض مورخین نے اس کی تفصیل یوں بیان کی ہے۔ 
عصماء بنت مروان بنی امیہ بن زید کے خاندان سے تھی وہ یزید بن زید بن حصن الخطمی کی بیوی تھی یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء و تکلیف دیا کرتی۔ اسلام میں عیب نکالتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لوگوں کو اکساتی تھی۔ عمیر بن عدی الخطمی کو جب اس عورت کی ان باتوں اور اشتعال انگیزی کا علم ہوا۔ تو کہنے لگا۔ اے اللہ میں تیری بارگاہ میں نذر مانتا ہوں اگر تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخیر و عافیت مدینہ منورہ لوٹا دیا تو میں اسے ضرور قتل کردوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بدر میں تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر سے واپس تشریف لائے تو عمیر بن عدی آدھی رات کے وقت اس عورت کے گھر میں داخل ہوئے۔ تو اس کے ارد گرد اس کے بچے سوئے ہوئے تھے۔ ایک بچہ اس کے سینے پر تھا جسے وہ دودھ پلا رہی تھی۔ عمیر نے اپنے ہاتھ سے عورت کو ٹٹولا۔ تو معلوم ہوا کہ یہ عورت اپنے اس بچے کو دودھ پلا رہی ہے۔ عمیر نے بچے کو اس سے الگ کر دیا۔ پھر اپنی تلوا ر کو اس کے سینے پر رکھ کر اسے زور سے دبایا کہ وہ تلوار اس کی پشت سے پار ہو گئی۔ پھر نماز فجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو عمیر کی طرف دیکھ کر فرمایا کیا تم نے بنت مروان کو قتل کیا ہے ؟ کہنے لگے۔ جی ہاں۔ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔
عمیر کو اس بات سے ذرا ڈر سا لگا کہ کہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے خلاف تو قتل نہیں کیا۔ کہنے لگے۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس معاملے کی وجہ سے مجھ پر کوئی چیز واجب ہے ؟ فرمایا دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہ ٹکرائیں۔ پس یہ کلمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلی مرتبہ سنا گیا عمیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اردگرد دیکھا پھر فرمایا تم ایسے شخص کو دیکھنا پسند کرتے ہو جس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی غیبی مدد کی ہے تو عمیر بن عدی کو دیکھ لو۔
( الصارم المسلول 130 )

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فتویٰ



حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فتویٰ :

حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ : 
( کنت عند ابی بکر رضی اللہ عنہ ، فتغیظ علیٰ رجل ، فاشتد علیہ ، فقلت : ائذن لی یا خلیفۃ رسول اللّٰہ اضرب عنقہ قال : فاذھبت کلمتی غضبہ ، فقام فدخل ، فارسل الی فقال : ما الذی قلت آنفا ؟ قلت : ائذن لی اضرب عنقہ ، قال : اکنت فاعلا لو امرتک ؟ قلت : نعم قال : لا واللّٰہ ما کانت لبشر بعد رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم )
میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تھا آپ کسی شخص سے ناراض ہوئے تو وہ بھی جواباً بدکلامی کرنے لگا ۔ میں نے عرض کیا ۔ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ۔ مجھے اجازت دیں ۔ میں اس کی گردن اڑا دوں ۔ میرے ان الفاظ کو سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا سارا غصہ ختم ہو گیا ۔ آپ وہاں سے کھڑے ہوئے اور گھر چلے گئے ۔ گھر جا کر مجھے بلوایا اور فرمانے لگے ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ نے مجھے کیا کہا تھا ۔ میں نے کہا ۔ کہا تھا ۔ کہ آپ رضی اللہ عنہ مجھے اجازت دیں میں اس گستاخ کی گردن اڑا دوں ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرمانے لگے اگر میں تم کو حکم دے دیتا ۔ تو تم یہ کام کرتے ؟ میں نے عرض کیا اگر آپ رضی اللہ عنہ حکم فرماتے تو میں ضرور اس کی گردن اڑا دیتا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ نہیں ۔ اللہ کی قسم ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ کسی کے لئے نہیں کہ اس سے بدکلامی کرنے والے کی گردن اڑا دی جائے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے کی ہی گردن اڑائی جائے گی ۔

( رواہ ابوداود ، کتاب الحدود باب الحکم فیمن سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم )

Saturday, 25 March 2017

janwar bhi jantay hain k gustakh Rasool wajabul qatal hain



تمام پیغمبروں کو رب تبارک وتعالیٰ نے معصوم پیدا فرمایا۔ عصمت انبیاء کا تقاضہ یہ ہے کہ ان خدا رسیدہ ہستیوں سے کوئی بات بھی ایسی
منسوب نہ کرے جو گستاخی ہو 

آپ ﷺ سے جانور بھی محبت کرتے اور سلام پیش کرتے اپنے مالکوں کے ظلم کی باتیں بتاتے اور آپ ﷺ کے گستاخوں کو جانوروں نے بھی مار کر جہنم رسید کیا غزوہ احد میں رخ انور کو زخمی کرنے والا بدبخت عبد اللہ بن قیمہ پر اللہ تعالیٰ نے ایک پہاڑی بکرا مسلط کر دیا جس نے اسے دوڑا دوڑا کر سینگ مار مار کر لہولہان کر کے اسے گرا دیا اور اس کے پرخچے اڑا دئیے جب تک وہ مرا نہیں سینگ مارتے رہا اس بد بخت کے مرنے کے بعد بکرا نے زور دار آواز نکالی مفسرین فرماتے ہیں کہ اس نے خوشی کا اظہار کیا اس سے یہ معلوم ہوا کہ جانور بھی سمجھتے ہیں کہ گستاخ رسو ل ﷺ واجب القتل ہے۔

Friday, 24 March 2017

غلاف کعبہ سے لپٹے ہوئے توہین رسالت ﷺ کے مرتکب کو قتل کرنے کا حکم حضور اکرم ﷺ نے دیا۔



غلاف کعبہ سے لپٹے ہوئے توہین رسالت ﷺ کے مرتکب کو قتل کرنے کا حکم حضور اکرم ﷺ نے دیا۔ 
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں تشریف فرما تھے کسی نے حضور سے عرض کیا: (آپ ﷺ کی شان میں توہین کرنے والا ) ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اسے قتل کر دو 
(صحیح بخاری ،باب دخول الحرم و باب این رکز النبی ﷺ الرایہ یوم الفتح ، الصارم ا لمسلول علی شاتم الرسول ،) 
عبد اللہ بن خطل مرتد تھا جو رسول اللہ ﷺ کی ہجو میں شعر کہہ کر حضور ﷺ کی شان میں توہین کرتا تھا۔ اس نے دو گانے والی لونڈیاں اس لئے رکھی ہوئی تھیں کہ وہ حضور ﷺ کی ہجو میں اشعار گایا کریں۔ جب حضور اکرم ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا تو اسے غلاف کعبہ سے باہر نکا ل کر باندھا گیا اور مسجد حرام میں مقام ابراہیم اور زم زم کنویں کے درمیان اس کی گردن اڑا دی گئی
( فتح الباری ، باب این رکز النبی ﷺ الرایہ یوم الفتح )۔
اس دن ایک ساعت کے لئے حرم مکہ کو حضور اکرم ﷺ کے لئے حلال قرار دیا گیا تھا بیت اللہ سے صرف چند قدم کے فاصلے پر اس کا قتل کیا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ گستاخ رسول ﷺ باقی مرتد ین سے بدر جہا بدتر ہے

Wednesday, 22 March 2017

صلاح الدین ایوبی رحمتہ اﷲ علیہ



                        فاتح بیت المقدس حضرت صلاح الدین ایوبی رحمتہ اﷲ علیہ نے جب بیت المقدس کو فتح کیا تو آپ نے عام معافی کا اعلان کیا۔ لیکن ساتھ میں یہ بھی فرمایا کہ آج ہر ایک کے لئے معافی ہے سوائے ایک شخص کے جس نے میرے پیارے آقا ومولیٰ جناب محمدﷺ کی بارگاہ اقدس میں گستاخی کی‘ جب تک اس گستاخ کو انجام تک نہیں پہنچائوں گا چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ اس گستاخ رسول نے پوری امت مسلمہ کو چیلنج کیا تھا کہ (نعوذ باﷲ من ذالک) کہ کہاں ہے تمہارا محمدﷺ‘ آکے بیت المقدس کو کیوں نہیں چھڑاتا‘ حضرت صلاح الدین ایوبی رحمتہ اﷲ علیہ نے اس گستاخ رسول کو تلاش کرکے سب لوگوں کے سامنے قتل کیا اور للکار کر کہا کہ اس سلطنت میں گستاخ رسولﷺ کے علاوہ ہر ایک کو رہنے کی اجازت ہے۔ آپ نے اس گستاخ رسول کو چیلنج کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے آقاﷺ کو چیلنج کرنے والے گستاخ آج اس محمدﷺ کا غلام بیت المقدس کو آزاد کرنے آیا ہے۔

حضرت صلاح الدین ایوبی رحمتہ اﷲ علیہ نے اس گستاخ رسول کو واصل جہنم کرنے کے بعد سکون کا سانس لیا اور نبی کریمﷺ کے ہر امتی کو ناموس مصطفیﷺ پر مرمٹنے کا عملی درس دیا کہ گستاخ رسولﷺ کا انجام سوائے موت اور واصل جہنم کے اور کچھ نہیں (الروضتین فی اخبار الدولتین ج 2 ص 81)

اے عمر ! اس کو اندھامت کہو



عصماء نامی یہودیہ خبیثہ نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا تو ۲۵رمضان ۲ھ ؁ میں ایک نابینا صحابی حضرت عمر بن عدی رضی ا للہ عنہ نے ا س کو کیفر کردار تک پہنچاکر اپنی نذر پوری فرمائی ان کے کارنامے کو دیکھ کرتاجدار عدالت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے رشک کرتے ہوئے فرمایا : انظر الیٰ ھٰذا الاعمیٰ تسرق فی طاعتہ اللہ ، ذرہ اس نابینا کو دیکھو کیسے چپکے سے اللہ کی اطاعت کر گزرا ، حضور تشریف فرماتھے آپ نے فرمایا : اے عمر ! اس کو اندھامت کہو اس کے دل کی آنکھ بہت تیز ہے (ابوداؤد )

ابولہب کا بد ترین انجام ہوا



                        میرے آقا و مولا جناب ِ محمد مصطفی ﷺ کے صحابہ نے تمام رشتہ دار وں کو ایک طرف بالائے طاق رکھتے ہوئے حضور ﷺ کے گستاخ کا سر قلم کر کے آپ کے سامنے لا کر رکھ دیا۔ جو گستاخ مسلمانوں کی تلواروں سے بچے رہے اللہ تعالیٰ نے ان کو سخت عذاب میں مبتلا فرمایا اور وہ انتہائی ذلت و رسوائی کا شکار ہوئے ابولہب کا بد ترین انجام ہوا ، لاش سڑ گئی تعفن پھیل گیا لکڑی اور پتھروں کے سہارے گڈھے میں دھکیل دیا گیا اس کی بیوی کا بھی انتہائی برا انجام ہوا قرآن و احادیث ، سیرت و تاریخ میں یہ ذکر صراحت کے ساتھ موجود ہے یہاں تک کہ گستاخ رسول ﷺ کو قبر نے اپنے اندر جگہ نہ دی۔
فَاعْتَبِرُوْ یٰٓاُ ولیِ الْاَبْصَارِ ( سورہ حشر ۵۹آیت ۲ )
اے صاحب نظر عبرت حاصل کرو۔ 
کہ گستاخ رسول کا ا نجام کیا ہے دریائے نیل نے بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے گستاخوں کو ہلاک کر کے فورا لاشوں کو باہر پھینک دیا تفسیروں میں اس کا ذکر بھی موجود ہے۔

Sunday, 19 March 2017

ناموسِ رسالت کا نابینا محافظ


ناموسِ رسالت کا نابینا محافظ 
حضرت سَیِّدْنا عبدْ اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہْ تَعَالٰی عَنْہ کا بیان ہے کہ ایک نابینا شخص کی اْمِّ وَلَد لونڈی رسولِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہْ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کو مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ گالیاں دیا کرتی اور بْرا بھلا کہا کرتی تھی وہ نابینا اسے منع کرتا مگر وہ باز نہ آتی وہ اسے جھڑکتا تھا مگر وہ نہ رکتی ، ایک رات جب اس عورت نے رسولْ اللہ صَلَّی اللّٰہْ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کو گالیاں دینا شروع کیں تو اس نابینا نے بھالا (دھاری دار آلہ ) لے کر اس کے پیٹ میں پیوست کر دیا اور اتنی زور سے دبایا کہ وہ ہلاک ہو گئی۔ صبح رسولِ اَکرم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہْ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس اس بات کا تذکرہ کیا گیا تو آپ صَلَّی اللّٰہْ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا : جس شخص نے ایسا کیا ہے میں اسے قسم دیتا ہوں میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے۔ رسولْ اللہ صَلَّی اللّٰہْ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی یہ بات سن کر وہ نابینا آدمی کھڑا ہو گیا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا ڈگمگاتے قدموں سے آگے بڑھا حتی کہ نبی اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہْ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے جا کر بیٹھ گیا اور عرض گزار ہوا: یارسولَ اللہ! ﷺ میں اس لونڈی کا مالک تھا وہ آپ صَلَّی اللّٰہْ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کو گالیاں دیتی اور بْرا بھلا کہا کرتی تھی میں اسے منع کیا کرتا مگر وہ نہ مانتی ، میں اسے ڈانٹتا مگر وہ باز نہ آتی، اس کے بطن سے میرے موتیوں کی مانند دو بیٹے بھی ہیں اور وہ مجھ پر بہت مہربان تھی۔ مگر گزشتہ رات جب وہ آپ کو گالیاں دینے لگی تو میں نے بھالا لے کر اس کے پیٹ میں پیوست کر دیا اور اتنی زور سے دبایا کہ اسے قتل کر دیا۔ پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہْ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : تم سب گواہ ہو جاؤ کہ اس کا خون رائیگاں (ضائع) ہو گیا۔
(ابو داود،کتاب الحدود،باب الحکم فیمن سب النبی، ۴/۲۷۱، حدیث: ۱۶۳۴)

Friday, 17 March 2017

5 gustakh e RASOOL ﷺ ka anjam


یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب کو تکلیفیں دی جائیں اور رب ّ عَزَّ وَجَلَّ ان گستاخوں کی خبر نہ لے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہْ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی تسکینِ خاطر کے لئے ارشاد فرمایا: 
اِنَّا کَفَیْنٰکَ الْمُسْتَہْزِءِ یْنَ (پ۱۴، الحجر:۹۵)
ترجَمہء کنز الایمان: بیشک ان ہنسنے والوں پر ہم تمہیں کفایت کرتے ہیں۔
صدرْ الافَاضِل حضرت علّامہ مولانا سَیِّد محمد نعیمْ الدین مْراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَہْ اللّٰہِ الُہَادِی اس آیت کے تحت فرماتے ہیں : کْفّارِ قریش کے پانچ سردار (۱) عاص بن وائل سہمی (۲) اسود بن مطلب (۳) اسود بن عبدِ یغوث (۴) حارث بن قیس اور ان سب کا افسر (۵) ولید ا بنِ مغیرہ مخزومی۔ یہ لوگ نبی کریم صَلَّی اللّٰہْ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کو بہت ایذا دیتے اور آپ کے ساتھ تمسخْر و استہزاء (ہنسی مذاق ) کرتے تھے۔ اسود بن مطلب کے لئے سیِّدِ عالَم صَلَّی اللّٰہْ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے دعا کی تھی کہ یاربّ اس کو اندھا کر دے۔ ایک روز سیِّدِ عالَم صَلَّی اللّٰہْ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم مسجد حرام میں تشریف فرما تھے ، یہ پانچوں آئے اور انہوں نے حسبِ دستور طعن و تمسخْر کے کلمات کہے اور طواف میں مشغول ہو گئے۔ اسی حال میں حضرت جبریل امین حضرت (محمد مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہْ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم) کی خدمت میں پہنچے اور انہوں نے ولید بن مغیرہ کی پنڈلی کی طرف اور عاص کے کَفِ پا کی طرف اور اسود بن مطلب کی آنکھوں کی طرف اور اسود بن عبد یغوث کے پیٹ کی طرف اور حارث بن قیس کے سر کی طرف اشارہ کیا اور کہا میں ان کا شر دفع کروں گا چنانچہ تھوڑے عرصہ میں یہ ہلاک ہو گئے۔ 
ولید بن مغیرہ تیر فروش کی دوکان کے پاس سے گزرا اس کے تہہ بند میں ایک پیکان چبھا مگر اس نے تکبّر سے اس کو نکالنے کے لئے سر نیچا نہ کیا اس سے اس کی پنڈلی میں زخم آیا اور اسی میں مر گیا۔ عاص ابنِ وائل کے پاؤں میں کانٹا لگا اور نظر نہ آیا اس سے پاؤں ورم کر گیا اور یہ شخص بھی مر گیا۔ اسود بن مطلب کی آنکھوں میں ایسا درد ہوا کہ دیوار میں سر مارتا تھا اسی میں مر گیا اور یہ کہتا مرا کہ مجھے محمد نے قتل کیا (صَلَّی اللّٰہْ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم) اور اسود بن عبد یغوث کو استسقاء (پیٹ بڑھ جانے اور بہت زیادہ پیاس محسوس ہونے والا ایک مرض) ہوا اور کلبی کی روایت میں ہے کہ اس کو لْو لگی اور اس کا منہ اس قدر کالا ہو گیا کہ گھر والوں نے نہ پہچانا اور نکال دیا اسی حال میں یہ کہتا مر گیا کہ مجھ کو محمد (صَلَّی اللّٰہْ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم) کے ربّ نے قتل کیا اور حارث بن قیس کی ناک سے خون اور پیپ جاری ہوا ، اسی میں ہلاک ہو گیا۔
گستاخانِ رسول تباہ و برباد ہوتے رہے، شَمعِ عِشْقِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہْ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم جلتی رہی اور اسلام غالب آتا رہا،

Thursday, 16 March 2017

عتیبہ کو شیر نے پھاڑ ڈالا



عتیبہ کو شیر نے پھاڑ ڈالا
ایک مرتبہ ابو لہب کے بیٹے عتیبہ نے بارگاہِ نبوّت میں گستاخی کی یہاں تک کہ بدزبانی کرتے ہوئے حضور رحمۃْ للعالمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم پر جھپٹ پڑا اور آپ کے مقدس پیراہن کو پھاڑ ڈالا۔ اس گستاخ کی بے ادبی سے آپ کے قلبِ نازک پر انتہائی رنج و صدمہ گزرا اور جوشِ غم میں آپ کی زبانِ مبارک سے یہ الفاظ نکلے:
اللّٰہْمَّ سَلِّطْ عَلَیْہِ کَلْباً مِّنْ کِلَابِکَ 
اے اللہ! اپنے کتّوں میں سے کسی کتّے کو اس پر مسلّط فرما دے۔ چنانچہ جب ابولہب اور عتیبہ دونوں تجارت کے لئے ایک قافلہ کے ساتھ ملکِ شام گئے تو رات کے وقت مقامِ زرقا میں ایک راہب کے پاس ٹھہرے۔ راہب نے قافلے والوں کو بتایا کہ یہاں درندے بہت ہیں اس لئے تمام لوگ ذرا ہوشیار ہو کر سوئیں۔ یہ سْن کر ابو لہب نے قافلے والوں سے کہا کہ اے لوگو! محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم) نے میرے بیٹے عتیبہ کے لئے ہلاکت کی دعا کی ہے۔ لہٰذا تم لوگ تمام تجارتی سامانوں کو اکٹھا کر کے اس کے اوپر عتیبہ کا بستر لگا دو اور سب لوگ اس کے ارد گرد سو جاؤ تا کہ میرا بیٹا درندوں کے حملے سے محفوظ رہے۔ چنانچہ قافلہ والوں نے عتیبہ کی حفاظت کا پورا پورا بندوبست کیا لیکن رات کے وقت اچانک ایک شیر آیا اور سب کو سونگھتے ہوئے کْود کر عتیبہ کے بستر پر پہنچا اور اس کے سر کو چبا ڈالا۔ لوگوں نے شیر کو تلاش کیا مگر کچھ بھی پتا نہیں چل سکا کہ یہ شیر کہاں سے آیا تھا اور کدھر چلا گیا۔ اس طرح آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کو اذیّت دینے والا عتیبہ دنیا میں ہی بدترین موت کا شکار ہو کر واصِلِ جہنّم ہوا۔
(شرح المواھب ،باب فی ذکر اولادہ الکرام، ۴/۵۲۳،۶۲۳ ملخصاً)

بال مبارک کو تکلیف پہنچانے والا


حضرت علیُّ المُرْتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُتَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں کہ نبیِ مکرّم، رسولِ مُحتشَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ
وسلَّم 
نے اپنے ایک موئے مبارک کو پکڑکر ارشاد فرمایا :جس شخص نے میرے ایک بال کو تکلیف دی بے شک اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ عَزَّ   وَجَلَّ کو تکلیف دی اور جس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو تکلیف دی اس پر زمین وآسمان کے بھرنے کے برابر خدا کی لعنت۔ تو جب سرورِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے کسی بال مبارک کو تکلیف پہنچانے والا لعنتِ خداوندی کا مستحق ہے تو اس شخص کا کیا حال ہوگا جو محبوبِ خدا کی گستاخی کرکے آپ کی ذات کو تکلیف اور قلبِ نازنیں کو رنج پہنچائے ،ایسے بدبخت کو یقیناً قہرِ الٰہی کی مار پڑے گی اور اس کا نشان صَفحۂ  ہستی سے مٹ جائے گا۔

 کنزالعمال،کتاب الفضائل، باب فضائل النبی…الخ، ۱۲/۱۵۹، حدیث:۳۵۳۴۷

Wednesday, 15 March 2017

محبوبِ خدا کو تکلیف دینے والے پر لعنت



سرورِ کائنات،فخر موجودات 
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکائنات کی سب سے مکرّم ومُعَظّم ہستی ہیں اور بارگاہِ الٰہی میں سب سے زیادہ مقبول ومحبوب ہیں ایسے میں اگر کوئی دُشْمنِ نبوّت پیارے آقا،مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمپر طعنہ زنی کرے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ خالقِ کائنات عَزَّ  وَجَلَّاس بات کو گوارا کرلے، وہ ہستی جنہیں حبیبِ خدا ہونے کا شرف حاصل ہواس کے مُتَعَلِّق کسی بھی قسم کے نازیبا الفاظ استعمال کرنا یا انہیں کسی بھی طرح سے تکلیف پہنچانا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو ہرگز ہرگز پسند نہیں بلکہ ایسی جسارت کرنے والوں کو تو دردناک عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :وَالَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ رَسُوۡلَ اللہِ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۶۱۱۰، التوبة:۶۱) ترجَمۂ کنز الایمان:اور وہ جو رسولُ اللہ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
ایک اور مقام پر اللہعَزَّ  وَجَلَّ نے ایسے لوگوں پر لعنت فرمائی۔ ارشادباری تعالیٰ ہے:اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللہُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمْ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿۵۷﴾ (پ۲۲، الاحزاب:۵۷) ترجَمۂ کنز الایمان:بیشک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہنے ان کے کئے ذلّت کا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔