Showing posts with label Unki Mahek Nay Dil Ke Gunche Khila Diye Hai (ترجمہ و تشریح). Show all posts
Showing posts with label Unki Mahek Nay Dil Ke Gunche Khila Diye Hai (ترجمہ و تشریح). Show all posts

Saturday, 22 September 2018

ملک سخن کی شاہی تم کو رضا ؔ مسلم


(شعر نمبر11)
ملک سخن کی شاہی تم کو رضا ؔ مسلم 
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں                   
مشکل الفاظ کے معنی
* سخن سین پر زبر اور خا پر پیش یا بضم السین و سکون الخابات ، کلام
* شاہی۔ حکومت * مسلم سپر دیا تسلیم کی ہوئی * سمت طرف * سکے بٹھا دینا۔ ڈنکے بجا دینا اپنا سکہ رائج کرد ینا رعب جما دینا، اپنا لوہا منوا لینا
مفہوم اشعار و خلاصہ تشریح
(تحدیث نعمت اور حقیقت واقعہ ہے) احمدر ضا تو تحریر و تقریر اور فصاحت و بلاغت (چاہے نظم ہو یا نثر ) کا بادشاہ ہے اور حقیقت پسند لوگوں نے اس میدان میں تیری بادشاہی کو تسلیم کر لیا ہے جس موضوع پر تو نے قلم اٹھایا ہے حق ادا کر دیا ہے کونسا وہ علم ہے کہ جس میں تیری کئی کئی تصانیف نہیں ملتیں تو جس موضوع کی طرف رخ کرتا گیا اپنی علمیت کا رعب جماتا گیا ، سکے بٹھاتا گیا ، لوہا منواتا گیا۔

میرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا


(شعر نمبر10)
میرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا 
دریا بہا دیئے ہیں دُر بے بہا دیئے ہیں                       
مشکل الفاظ کے معنی
** کریم --سخی (و حضور علیہ السلام ) * قطرہ-- بوند *دو --موتی *بے بہا-- بہت قیمتی یا بہت زیادہ
مفہوم اشعار و خلاصہ تشریح
میرے کریم آ قا وہ ہیں کہ اگر ان سے کسی نے قطرے کا سوال کیا ہے تو سوال کرنے والے نے تو اپنی ضرورت کے مطابق سوال کیا مگر آقا علیہ السلام نے اس کی ضرورت کے مطابق دینے کی بجائے اپنی شان کے مطابق عطا فرمایا ہے چنانچہ کسی نے اگر ایک قطرے کا سوال کیا ہے تو آپ نے در یا عطا کر دیا ہے یعنی بیش قیمت ہیرے جواہرات سے نواز دیا ہے۔
کبھی ایک ایک سائل کو سو سو اونٹ اور ہزار ہزار بکریاں دے دیں۔ ایک بدو کو آپ نے پوری وادی بکریوں کی بھری ہوئی عطا کر دی تو وہ جا کر اپنے قبیلے میں اعلان کرنے لگا کہ جاؤ ان کے پاس جو اتنا دیتے ہیں کہ خود تنگ دستی سے بھی نہیں ڈرتے۔
؂ حسن ؔ ہے جن کی سخاوت کی دھوم عالم میں
انہی کے تم بھی ہو اک ریزہ خوار ہم بھی ہیں                       

اللہ کیا جہنم اب بھی نہ سرد ہو گا


(شعر نمبر09)
اللہ کیا جہنم اب بھی نہ سرد ہو گا 
رو رو کے مصطفی نے دریا بہا دیئے ہیں                     
مشکل الفاظ کے معنی
*اللہ۔ تعجب کے لیے بولا گیا 
مفہوم اشعار و خلاصہ تشریح
اے میرے اللہ ! کیا تیرا جہنم تیرے محبوب کی امت کے لیے ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا؟ حالانکہ تو جانتا ہے تیرے محبوب نے اپنی امت کی بخشش کی خاطر تیری بارگاہ میں رو رو کرا تنی دعائیں مانگی ہیں کہ گویا آپ کے آنسو دریا بن کر بہہ رہے ہیں۔
؂ بے یار و مدد گار جنہیں کوئی نہ پوچھے ایسوں کا تجھے یار و مدد گار بنایا
ہر بات بد اعمالیوں سے میں نے بگاڑی اور تم نے میری بگڑی کو ہر ہار بنایا
؂ ڈھونڈا ہی کریں صدر قیامت کے سپاہی
وہ کس کو ملے جو تیرے دامن میں چھپا ہو              
(مولانا حسن رضابریلوی) 

دولہا سے اتنا کہہ دو پیارے سواری روکو

(شعر نمبر08)
دولہا سے اتنا کہہ دو پیارے سواری روکو
مشکل میں ہیں براتی پر خار با دیئے ہیں                      
مشکل الفاظ کے معنی
*دولہا۔ جس کی شادی ہورہی ہو * پرخار ۔ کانٹوں سے بھرے ہوئے * باد ئیے۔ جنگل 
مفہوم اشعار و خلاصہ تشریح
اے فرشتو ! میرے آقا ﷺ! شب اسریٰ کے دولہا تک میری یہ درخواست پہنچا دو کہ یا رسول اللہ ﷺ ! میدان محشر میں ذرا سواری روک روک کر چلنا کیونکہ آپ ﷺ کے براتی (امتی) ان پر خار واویوں (محشر کی مشکلات ) میں پھنسے ہوئے ہیں ان کو ساتھ ساتھ ہی لے کر جائیے۔

آنے دو یا ڈبو دو اب تو تمہاری جانب

(شعر نمبر07)
آنے دو یا ڈبو دو اب تو تمہاری جانب
کشتی تمہیں پر چھوڑی لنگر اٹھا دیئے ہیں

مشکل الفاظ کے معنی
ڈبودود ۔ غرق کردو * جانب ۔ طرف، سمت * لنگر وہ رسا جس سے کشتی باندھی جاتی ہے 
مفہوم اشعار و خلاصہ تشریح
اے میرے آقا ! ﷺ مدینہ شریف حاضری کے لیے ہم بحری جہاز پر سوار ہو چکے ہیں اور جہاز چل پڑا ہے لنگر (رسے ) کھول دیئے گئے ہیں اب آپ کی مرضی ہے ہمیں سمندر میں ڈبو دیں یا اپنی بارگاہ میں آنے دیں۔ ڈوب گئے تو۔
ومن یھاجر فی سبیل اللہ یجد فی الارض مراغما کثیرا وسعۃ
کا مصداق بن کر اجر و ثواب کے مستحق ٹھہریں گئے اور مدینے پہنچ گئے تو سید ھے جنت میں جائیں گے ، یہ اس شعر کا ظاہری معنی تھا اور باطنی اور روحانی معنی یہ ہے کہ اے میرے آقا ! ﷺ ہم نے اپنی ز ندگی کی کشتی آپ ﷺ کے بھروسے پر ونیا کے سمندر میں چلا دی ہے اور ر سے کھول دیئے ہیں اب آپ ﷺ کی مرضی ہمیں راستے میں رکھیں یعنی ناکامی کی طرف اشارہ ہے یا شفاعت کر کے اپنے ساتھ جنت میں لے جائیں لیکن آپ تو جانتے ہیں۔
؂ لج پال پر یت نوں تو ڑ دے نیں جاندی ہاں پھر دے اونہوں چھوڑ دے نیں 

اسرا میں گزرے جس دم بیڑے پہ قدسیوں کے

(شعر نمبر06)
اسرا میں گزرے جس دم بیڑے پہ قدسیوں کے
ہونے کی سلامی پرچم جھکا دیئے ہیں                          
مشکل الفاظ کے معنی
*اسرا-- سفر معراج* بیڑا ۔ جماعت* قدسی ۔ فرشتے *پرچم-- جھنڈے
مفہوم اشعار و خلاصہ تشریح
شب اسریٰ کے دولہا شب معراج جب آسمانوں کی بلندیوں پر فرشتوں کے جم غفیر ( جو آپ ﷺ کے استقبال کے لیے سدرۃ المنتہیٰ کے پاس جمع تھے تا کہ حضور کا استقبال بھی کریں اور جو آج تک زیارت سے مشرف نہیں ہو سکے وہ زیارت بھی کر لیں۔
اذ یغشی السدرۃ ما یغشی تو تمام فرشتوں نے پرچم جھکا کر سلائی پیش کی اور اھلا وسھل، تعم المجین جاء کا نورانی ترانہ بھی گایا۔
اعلی حضرت فرماتے ہیں 
؂ تجلی حق کا سہرہ سرپر صلاۃ و تسلیم کی نچھاور 
در در پہ قدسی پر جما کر کھڑے سلامی کے واسطے تھے                  

ہم سے فقیر بھی اب پھیری کو اٹھتے ہوں گے

(شعر نمبر05)
ہم سے فقیر بھی اب پھیری کو اٹھتے ہوں گے 
اب تو غنی کے در پر بستر جما دیئے ہیں                                    
مشکل الفاظ کے معنی
*پھری-- پھرا لگانا، چکر لگانا* غنی ۔ مالدار* جما دینا ۔ جم کر بیٹھ جانا
مفہوم اشعار و خلاصہ تشریح
ہم میں بھی گئے گزرے گئے اور بھکاری اب کسی اور در پر بھیک کے لیے کیوں پھیرے اور چکر لگائیں بس اب پھیرے اور چکر ختم، کیونکہ ایسے سخی کا دروازہ مل گیا ہے کہ جس کے در سے
؂ ما منگتے خالی ہاتھ نہ لوٹیں کتنی ملی خیرات نہ پوچھو
اُن کا کرم پھر اُن کا کرم ہے اُن کے کرم کی بات نہ پوچھو                       
اور
؂آ تا ہے فقیروں سے نہیں پیار کچھ ایسا
خود بھیک دیں اور خود کہیں منگتے کا بھلا ہو                    
لہذا یسے غنی کے در پہ ہم پکے ہوکر بیٹھ گئے ہیں جس نے ہمیں پھیروں اور چکروں سے بچالیا ہے۔

ان کے نثار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو

(شعر نمبر04)
ان کے نثار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو 
جب یاد آ گئے ہیں سب غم بھلا دیئے ہیں

مشکل الفاظ کے معنی
*نثار-- قربان* رنج۔ تکلیف 
مفہوم اشعار و خلاصہ تشریح
میرے آقا ﷺ! آپ کے ذکر پر کیوں نہ ہم قربان ہو جائیں کہ جتنی بھی پریشانیاں کیوں نہ ہوں جب آپ کی یاد آ جائے تو سب تکلیفیں دور اور سب غم کا فور ہو جاتے ہیں اور دل پُر نور ہو جاتے ہیں۔ دنیا تو دنیا آپ کا نام لینے سے اور آپ پر درود و سلام پڑنے سے قبر کے عذاب ٹل جا تے ہیں۔
دیکھیں (روح البیان پ ۲۲ زیرایت ان اللہ وملائکتہ یصلون علی النبی ایمان افروز حکایات و واقعات) 

اک دل ہمارا کیا ہے آزار اس کا کتنا

(شعر نمبر03)
اک دل ہمارا کیا ہے آزار اس کا کتنا
تم نے تو چلتے پھرتے مردے جلا دیئے ہیں 
مشکل الفاظ کے معنی
* آزار-- تکلیف ,سیاپا * جلادیئے --رندہ کر دیئے 
مفہوم اشعار و خلاصہ تشریح
اے میرے طہٓ کی شان والے آقا! ہمارے دل کا روگ تو آپ کے لیے بالکل معمولی بات ہے آپ نے تو چلتے پھرتے مردوں (کافروں مشرکوں درختوں پتھروں )( کو کلمہ پڑھا کر ایمان کی دولت دے کر ) زندہ فرما دیا ہے۔
در حقیقت مردہ کا فر ہی ہیں۔ اسی وجہ سے شہدا کو مردہ کہنے سے منع کیا کہ یہ مر کر بھی زندہ او ر کافر زندہ رہ کر بھی مردہ 
صم بکم عمی فھم لا یعقلون لھم قلوب لا یفقھون بھا ولئم اعین لا یصرون بھا وءھم اذان لا یسمعون بھا۔
آیات قرآنیہ سے اس حقیقت پر پوری طرح روشنی پڑتی ہے کہ زندگی حضور علیہ السلام کے قدموں سے تعلق کا نام ہے جیسے جڑھ سے تعلق نہ رکھنے والی شاخ درخت پر رہ کر بھی خشک ہو جاتی ہے اسی طرح حضور علیہ السلام سے تعلق نہ ہو آنکھ کان زبان ہونے کے با و جو د اند ھے ، بہرے اور گونگے ہیں اور کھاتے پیتے چلتے پھرتے ہو نے کے باوجود مردہ ہیں اور تعلق قائم ہو تو کفن و دفن جنازہ، بچے یتیم عورت بیوہ ہو جانے کے باوجود بھی زندہ ہیں اور ایسے کہ ان کو مردہ گمان بھی نہ کرو۔
؂زندگی زندہ دلی کا نام ہے مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں 

جب آ گئی ہیں جوش رحمت پر ان کی آنکھیں ج

(شعر نمبر02)
جب آ گئی ہیں جوش رحمت پر ان کی آنکھیں
جلتے بجھا دیئے ہیں روتے بنسا دیئے ہیں                

مشکل الفاظ کے معنی
*جوش --اُبال، غلبہ * جلتے-- جو آگ میں جل رہے ہوں 
مفہوم اشعار و خلاصہ تشریح
میرے آقا ﷺ کی رحمت کا عالم یہ ہے کہ جب ان کی رحمت کا دریا موجزن ہو ا یعنی امت کی بخشش کے لیے آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے تو آپ ﷺ کے بابرکت آنسوؤں نے جہنم کے جلتے شعلوں کو بجھا دیا اور ان شعلوں سے ڈر کر رونے والوں کی شفاعت کر کے ان روتوں کو ہسا دیا مطلب یہ ہے کہ جس طرف حضور ﷺ نے نگاہ رحمت سے دیکھا بدبختی کی آگ میں جلنے والوں کو نیک بخت بنا کر ان کے چہروں پہ مسکراہٹ کے پھول کھلا دیئے ۔
؂جس طرف اسم محمد کے اشارے ہو گئے
جتنے ذر ے سامنے آئے سب ستارے ہو گئے                  

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں

نعت شریف نمبر (33)
(شعر نمبر1)
ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
جس راہ چل گئے ہیں کوچے بسا دیئے ہیں
مشکل الفاظ کے معنی

* مہک ۔۔ بھینی بھینی خوشبو * غنچے ۔۔ غنچہ کی جمع بمعنی کلی، بند پھول * کھلا دیئے ۔۔ کھول دیئے * کوچے ۔۔ گلیاں * بسادیے ۔۔ آبادکردیئے
مفہوم اشعار و خلاصہ تشریح
میرے آقا کریم ﷺ کی کیسی شان ہے کہ آپ جدھر سے بھی گزر سے آپ کے جسم اقدس کی بھینی بھینی (جنتی) خوشبو سے دلوں کی (بند) کلیاں کھلتی گئیں ( غم مٹتے گئے محبت کی ہوائیں چلتی گئیں نفرتیں ختم ہوتی گئیں) اور گلی کوچو ں سے ویرانی دور ہوتی گئی اور آبادی و شادابی ڈیرے ڈالتی گئی۔ کسی نے کیا خوب کہا۔
؂ جہاں نظر نہیں پڑی وہاں ہے رات آج تک
 وہاں وہاں سحر ہوئی جہاں جہاں گزر گئے                 

نفس نفس پر برکتیں قد م قدم پر رحمتیں
 جدھر جدھر سے وہ شفیع عاصیاں گزر گئے                        

مسلم شریف میں حدیث ہے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بچپن میں حضور علیہ السلام نے میرے رخسار پر اپنا دست کرم پھیرا
فوجدت لیدہ بر داوریحا کا نما اخرجھا من جوند عطار۔
تو آپ کا دست اقدس ٹھنڈا او ر ا تنا خوشبودار تھا کہ گو یا ابھی عطار کے صندوقچے سے نکالا گیا ہے (ص۹۵۴ ۔ج ۲)
اسی طرح بخاری شریف میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آ پ فرماتے ہیں۔ 
ما مسست مسکا ولا حریرا الین من کف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم 
ولا شممت مسکا ولا عنبرۃ اطیب من رائحۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔(ص۲۶۴ ج ۱)
میں نے ریشم اور دیبا حضور علیہ السلام کی ہتھیلی سے بڑھ کر نرم نہیں پایا اور نہ کسی مشک و عنبر میں آپ کے جسم کی خوشبو سے بڑھ کر خوشبو پائی ہے۔

صحابہ کرام آپ کو تلاش کرنے کے لیے آپ کی خوشبو سے ہی آپ کو پا لیتے تھے جسم اقدس کی پاکیزگیو ں کا کون انداہ کر سکتا ہے آپ کا نام پاک اتنا بابرکت ہے کہ بنی اسرائیل کا بدکار شخص جس کو مرنے سے بعد روڑ ی اور گندگی کے ڈھیر پر پھینک دیا گیا تو اللہ تعالی نے موسیٰ علیہ اسلام کو حکم دیا کہ اس کو اٹھا کر اس کی نماز جنازہ پڑھو کیونکہ یہ جب بھی تورات کھولتا تھا اور میرے پیارے محمد ﷺ کا نام دیکھتا تو محبت کے ساتھ چوم لیتا تھا اور درو د شریف پڑھتا تھا۔ 
(:خصائص کبرہ ص ۱۶ج۱)
؂ مجھ کو تو اپنی جان سے بھی پیارا ہے ان کا نام
 شب ہے اگر حیات ، تارا ہے ان کا نام                 

لب وا ر ہیں تو اسم محمد ا دا نہ ہو
اظہار مدعا کا اشارہ ہے ان کا نام               

لفظ محمد اصل میں ہے حسن کا جمال
میرے خدا نے خود ہی سنوارا ہے ان کا نام            

قرآن پاک ان پہ اتا را گیا ندیم
 اور میں نے اپنے دل میں اتارا ہے ان کا نام           

(احمد ندیم قاسمی تبصرف)
جن کے نام میں اتنی برکتیں ہیں ان کی ذات میں کتنی برکتیں اور کتنی عظمتیں ہوں گی کسی نے کیا ہی اچھا کہا ہے
؂ یہ نام کوئی کام بگڑنے نہیں دیتا بگڑے بھی بنا دیتا ہے یہ نام محمد