Showing posts with label Rashk-e-Qamar Hoon Rang-e-Rukh-e-Aftab Hoon (مفہوم اشعار و خلاصہ تشریح). Show all posts
Showing posts with label Rashk-e-Qamar Hoon Rang-e-Rukh-e-Aftab Hoon (مفہوم اشعار و خلاصہ تشریح). Show all posts

Monday, 10 September 2018

حسرت میں خاک بوسئی طیبہ کے اے رضاؔ

شعر نمبر 17
حسرت میں خاک بوسئی طیبہ کے اے رضاؔ 
ٹپکا جو چشم مہر سے وہ خون ناب ہوں                          
مشکل الفاظ کے معنی
*حسرت -- تمنا * خاک بوسی -- خاک چومنا * مہر -- سورج * خون ناب-- خالص خون 
ترجمہ و تشریح
اے رضاؔ ایسا لگتا ہے کہ مدینہ منورہ کی خاک شفا کو بوسہ دینے کی آرزو میں سورج کی آنکھ سے جو خون کے آنسو ٹپکتے ہیں تو ان آنسوؤں میں سے ایک قطرہ ہوں جبھی تو تیرے اندر عشق رسول ﷺ کی اس قدر گرمی ہے کہ خود بھی مدینے کی محبت میں ٹرپتا رہتا ہے اور دوسروں کو بھی تڑپاتا رہتا ہے۔
؂ کچھ اشک ندامت کے کچھ ہار درو دوں کے
 یہ لے کے چلیں گے ہم سوغات مدینے میں                 

عصاں کی سیاہی کو دھو ڈالے جو دم بھر میں
 ہوتی ہے وہ رحمت کی برسات مدینے میں              

حضور علیہ السلام ہی کے عشق میں تڑپتے رہنا اور آپ ﷺ ہی کہ باتیں کرتے رہنا کئی لوگوں کو توحید کے خلاف نظر آتا ہے مگر ہمارے بزرگوں نے جو ہمیں تعلیم دی ہے وہ یہ ہے کہ ایک ولی اللہ ( حضرت سائیں گوہر ؒ جن سے شیخ القرآن مولانا عبدا لغفور ہزارویؒ مستفیض ہوئے) حج کرنے گئے تو مکے میں سارا عرصہ درود شریف پڑتے رہے اور مدینے جا کر ذکر الہٰی کرتے رہے مریدین نے حیران ہو کر عرض کیا ! ہمارے خیال میں اس کا الٹ ہونا چاہیے یعنی مکہ میں ذکر خدا اور مدینہ میں درود سلام تو آپ نے فرمایا اصل میں بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول علیہ السلام کو ایک دوسرے کے ساتھ اتنی محبت ہے کہ اللہ کا ذکر کر یں تو رسول اللہ ﷺ خوش ہوتے ہیں اور رسول علیہ السلام کا ذکر جتنا زیادہ کریں خدا اتنا ہی زیادہ خوش ہوتا ہے لہٰذا میں جیسے کر رہا ہوں ایسے ہی ہوتا ہے
**۔۔۔۔فیضان ضا۔۔۔جاری رہے گا۔۔۔۔ان شاء اللہ العزیز۔۔**                       

میں تو کہا ہی چاہوں کہ بندہ ہوں شاہ کا

شعر نمبر 16
میں تو کہا ہی چاہوں کہ بندہ ہوں شاہ کا
پر لطف جب ہے کہہ دیں اگر وہ جناب ہوں                    
مشکل الفاظ کے معنی
*بندہ -- نوکر * پر -- لیکن *جناب -- معزز 
ترجمہ و تشریح
میں کیا اور میری حقیقت کیا ہے؟ ہر وقت اپنے حضور علیہ السلام کا غلام سمجھتا ہوں اور کہتا ہوں ، اس سے کیا ہو گا یہ تو اپنے منہ میاں مٹھو بننے والی بات ہے اصل مزہ تو تب آئے کہ حضور فرمائیں ہاں تو ہمارا غلام ہے اور اے غلامان مصطفی مبارک ہو۔
قل یعبادی الذین اسرفواعلی انفسھم کے مظابق)
ہمارے آقا نے ہمیں اپنا بندہ (غلام) فرما دیا ہے کوئی نہیں مانتا تو نہ مانے جائے جہنم میں
؂ یا عبادی کہہ کے ہم کو شاہ نے
 اپنا بندہ کر لیا پھر تجھ کو کیا                 

دیو کے بندوں سے ہم کو کیا غرض
 ہم ہیں عبد مصطفی پھر تجھ کو کیا                     

شاہا بجھے سقر مرے اشکوں سے تانہ میں


شعر نمبر 15
شاہا بجھے سقر مرے اشکوں سے تانہ میں
آبِ عبث چکیدۂ چشم کباب ہوں                    
مشکل الفاظ کے معنی
*سقر -- دوزخ * اشکوں سے -- آنسوں سے *عبث چکیدہ -- بے فائدہ ٹپکا ہوا 
ترجمہ و تشریح
اے میرے پیارے نبی! میرے آنسو ایسے ضائع نہ ہوں جیسے سیخ کباب سے پانی آگ پہ گر کر ضائع ہو جاتا ہے بلکہ آپ ﷺ کی رحمت کا صدقہ ان لوگوں میں سے ہو جاؤں کہ جن کے آنسو دوزخ کی آگ کو بجھا دیں گے ۔
؂ بہتی رہے جو ہر وقت سرکار کے غم میں 
روتی ہوئی وہ آنکھ مجھے میرے خدا دے                         

کیا کیا ہیں تجھ سے ناز ترے قصر کو کہ میں

شعر نمبر 14
کیا کیا ہیں تجھ سے ناز ترے قصر کو کہ میں
کعبہ کی جان، عرش بریں کا جواب ہوں
مشکل الفاظ کے معنی
*قصر -- محل * عرش بریں -- عرش معلی 
ترجمہ و تشریح
اے میرے پیارے آقا ! آپ ﷺ کے وجود با کمال سے آپ کے محل (روضہ اقدس ) کو کیسی شان عطا ہوئی کہ وہ ناز کر کے کہہ رہا ہے کہ میں کعبہ کی جان (کعبہ کا کعبہ) ہوں اور عرش معلی کا ہم رتبہ ہوں ۔ بلکہ علماء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ آپ ﷺ جس جگہ تشریف فرما ہیں وہ جگہ کعبہ تو کعبہ عرش معلی سے بھی افضل و اعلیٰ ہے 
؂ جزم الجمیع بان خیر الارض ما قد احاط ذات المصطٰفی وحولھا
؂ کعبہ اے ریاض ا س کو بنا لوں گا میں دل کا
کہ نقش قدم مجھ کو نبی کا نظر آئے                             

قالب تہی کیے ہمہ آغوش ہے ہلال

شعر نمبر 13
قالب تہی کیے ہمہ آغوش ہے ہلال 
اے شہ سوار طیبہ میں تیری رکاب ہوں  

               مشکل الفاظ کے معنی
*قالب -- جسم کا ڈھانچہ * تہی --خالی *ہمہ -- تمام *آغوش-- گود، بغل *رکاب-- پائیدان               
ترجمہ و تشریح
ہلال (پہلی رات کے چاند ) کی شکل کمان کی طرح کیوں ہے؟ آ میں تمیں بتاؤں صرف اس لیے کہ جب وہ حضور علیہ السلام کو جو شہسوار طیبہ ہیں کو جب سواری پہ سوار ہوتا دیکھتا ہے تو اس کی تمنا میں اپنا پیٹ اور گود خالی کر لیتا ہے کہ میں آپ ﷺ کی رکاب بنوں تاکہ کبھی حضور میرے اندر پاؤں رکھ کر سواری پہ سوار ہوں اور میرا دل آپ ﷺ کا قدم چوم کے ٹھنڈا ہو جائے
؂آہ کیا خوب تھا حاضر در ہوتا میں ان کے سایہ کے تلے چین سے سویا کرتا 

صدقے ہوں اس پہ نار سے دے گا جو مخلصی

شعر نمبر 12
صدقے ہوں اس پہ نار سے دے گا جو مخلصی
                      بلبل نہیں کہ آتش گل پر کباب ہوں

مشکل الفاظ کے معنی
*صدقے ہوں -- قربان جاؤں * مخلصی --نجات ،آزادی * آتش گل -- وہ آگ جس کا شعلہ پھول کی شکل کا ہو 
ترجمہ و تشریح
میں اپنے آقا ﷺ کے قدموں پہ کیوں نہ قربان ہو جاؤں جو اپنی شفاعت کے ذریعے مجھے آگ سے بچا لیں گے میں وہ بے سہارا بلبل نہیں ہوں جو بیچاری آگ کے شعلے کو پھول سمجھ کر کباب بن جاتی ہے مجھے پھول کا جلوہ نہیں اللہ کے رسول ﷺ کا جلوہ چاہیے
؂ تیرہ دل کو جلوۂ ماہِ عرب درکار ہے 
                       چود ہویں کے چاند تیری چاندنی اچھی نہیں
ان کے در کی بھیک چھوڑی سروری کے واسطے 
                       ان کے در کی بھیک اچھی سروری اچھی نہیں 
                  (حسن رضا خان بریلوی)

مٹ جائے یہ خودی تو وہ جلوہ کہاں نہیں

شعر نمبر 11
مٹ جائے یہ خودی تو وہ جلوہ کہاں نہیں
دردا میں آپ اپنی نظر کا حجاب ہوں            
مشکل الفاظ کے معنی
*خودی -- انانیت، خودغرضی * دردا --اے درد * حجاب -- پردہ 
ترجمہ و تشریح
دراصل یہ میری ہستی اور انانیت ہے جو میرے لیے حضور علیہ السلام کا جلوہ دیکھنے میں رکاٹ بنی ہوئی ہے اگر میری ہستی مٹ جائے اور میں فنافی الرسول ہو جاؤں تو آپ کا دیدار تو ہر جگہ ممکن ہے۔
امام جلال الدین سیوطیؒ نے الحادی للفتاویٰ ص۳۳ ج ۱ ۔ پہ ایک بزرگ ( شیخ خلیفہ بن موسیٰ نہر بلکی علیہ الرحمۃ) کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ بیداری میں کثرت کے ساتھ حضور علیہ السلام کی زیارت کرتے تھے اور حضور علیہ السلام سے اکثر مسائل بھی پوچھتے تھے اور شیخ ابوالعباس مرسی کا فرمان ہے،
لوحجب عنی رسول اللہ ﷺ طرفۃ عین مااعددت نفسی من المسلمین۔
کہ اگر ایک لمحہ کے لیے بھی حضور علیہ السلام کو نہ دیکھوں تو اپنے آپ کو مسلمان نہیں سمجھتا ۔ ا ن سے کسی نے مصافحہ کرنا چاہا تو انہوں نے فرمایا 
ما صافحت بکفی ھذا الارسول اللہ ﷺ
اس ہاتھ سے میں نے حضور علیہ السلا م کے علاوہ کسی سے مصافحہ نہیں کیا
؂میں تجھے عالم اشیاء میں پا لیتا ہوں
 لوگ کہتے ہیں کہ عالم بالا تیرا                      

میری آنکھوں سے جو ڈھونڈیں تجھے ہر سو دیکھیں
 صرف خلوت میں جو کرتے ہیں نظارہ تیرا                  

مولا دہائی نظروں گر کر جلا غلام

شعر نمبر10
مولا دہائی نظروں گر کر جلا غلام
اشکِ مژہ رسیدۂ چشم کباب ہوں                
مشکل الفاظ کے معنی
*مولا -- آقا * دہائی --فریاد * جلا غلام -- سڑا ہرا نوکر * مژہ --پلک * رسیدہ --پہنچا ہوا
* چشم کباب -- کباب کی آنکھ
ترجمہ و تشریح
اے میرے مقدس رسول ! آپ کے گنہگار امتی ( احمد رضا) کی حالت اب سیخ کباب کی طرح ہو گئی ہے کہ جس کو آگ پہ کیا جائے تو چھم چھم برسنا شروع کر دیتا ہے میرا حال بھی گناہوں کی آگ کی وجہ سے اب ایسا ہی ہو گیا ہے اور آپ کی شفاعت کے لیے ہر وقت آنسو بہاتا رہتا ہے ، اگر آپ نے نظر کرم نہ فرمائی تو آپ کا غلام نار جہنم میں گر کر جل جائے گا۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی ایک ایمان افروز رباعی ملاحظہ فرمائیں
ھَنَاکَ رَسول اللّٰہ ینحو لِرَ بَّہِ
    شَفِیْعًا وَفَتَّا حًالَبِ الْمَوَاھِبٖ            

فَرْجِعْ مسْرُوْرًا بِنَلِ طِلَبِہٖ
 اَصَابَ مِنَ الرَّحْمٰنِ اَعْلَی الْمَرَاتِ
بٰ         
ترجمہ اس وقت اللہ کا رسول گنہگاروں کی شفاعت کے لیے اور بخششوں کے دروازوں کو کھولنے کے لیے بارگاہ الہیٰ میں حاضری کا قصد کرئے گا۔ حضور ﷺ اپنا مقصد حاصل کرنے کے بعد شادان و فرحاں واپس تشریف لئیں گے اور اللہ کی بارگاہ سے آپ کواعلیٰ مراتب ارزانی ہوئے ہوں گے

دعویٰ ہے سب سے تیری شفاعت پہ بیشتر


شعر نمبر09
دعویٰ ہے سب سے تیری شفاعت پہ بیشتر
دفتر میں عاصیوں کے شہا انتخاب ہوں                   
مشکل الفاظ کے معنی
*دفتر -- رجسٹر * عاصی --گنہگار * انتخاب -- منتخب شدہ، چنا ہوا،اول نمبر                    
ترجمہ و تشریح
اے میرے پیارے نبی! ویسے تو میری حالت یہ ہے کہ اگر گنہگاروں کے نامہ ہائے اعمال دیکھے جائیں تو میرا نام سب سے پہلے نمبر پہ ہو گا یعنی چنا ہوا منتخب شدہ اور سب سے بڑا گنہگار ہوں مگر آپ ﷺ کی رحمت کے سہارے پر آپ ﷺ کی شفاعت کے طلبگاروں میں بھی سب سے آگے ہوں کیونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے شفاعتی لا ھل الکبائر من امتی ۔ اور میں ان عاصیوں میں سے سب سے آگے ہوں۔
؂محشر میں آفتاب ادھر گرم اور ادھر
آنکھیں لگی ہیں دامن دلدار کی طرف                          

گو بے شمار جرم ہوں گو بے عدد گناہ
 کچھ غم نہیں جو تم ہو گنہگار کی طرف                           

دل بستہ ، بے قرار، جگر، چاک، اشکبار

شعر نمبر08
دل بستہ ، بے قرار، جگر، چاک، اشکبار
غنچہ ہوں ، گل ہوں، برق تپاں ہوں ، سحا ب ہوں                      
مشکل الفاظ کے معنی
*دل بستہ -- مجبور دل * بے قرار --بے چین * چاک -- پھٹا ہوا * اشکبار --آنسوؤں سے رونے والا               
* غنچہ --کلی* برق تپاق -- بے قرار بجلی * سحاب -- بادل
ترجمہ و تشریح
اے میرے آقا ! میں کلی کی طرح دل بستہ (بے قرار و مجبور) سہی، میرا جگر صدموں سے پھول کی طرح پاش پاش اور پھٹا ہوا سہی، اگرچہ میں  بجلی کی طرح لوگوں کی دل آزاریوں میں تڑپ رہا ہوں اور بادل کی طرح بتقاضائے بشریت آنکھیں برستی رہتی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی مجھے فخر ہے کہ یہ سب کچھ آپ کی ناموس و عظمت کے تحفظ کے لیے ہو رہا ہے اور آپ کے دین کا دفاع کرتے ہوئے ہو رہا ہے جس سے میرے اپنے اور آپ کی امت کے عقیدے کا تحفظ ہو رہا ہے اور عشق رسول کے جو قیمتی ہیرے آپ نے ہمیں عطا فرمائے وہ محفوظ سے محفوظ تر ہو رہے ہیں
؂ محمد کا پرچم اڑائے چلا جا
 رسالت کا ڈنکا بجائے چلا جا                  

تیرے پاس اس کے سوا اور کیا ہے
 پیام محمد سنائے چلا جا                     

خدا کے لیے سر کٹانے کا مطلب
 نبی کا پھریرا اڑائے چلا جا                

کیوں نالہ سوز سے کروں کیوں خونِ دل پیوں

شعر نمبر07
کیوں نالہ سوز سے کروں کیوں خونِ دل پیوں
سیخ کباب ہوں نہ میں جام شراب ہوں                         
مشکل الفاظ کے معنی
*نالہ -- آہ و بقا * سیخ کباب --لوہے کی سلاخوں پہ بھونا جانے والا کباب * جام شراب -- شراب کا پیالا                         
ترجمہ و تشریح
میں نالہ و فریاد کیوں کروں اور خون جگر کس لیے پیوں اس لیے کہ نہ تو میں سیخ کباب ہوں               
کہ آنسو بہاتا رہوں جیسے وہ آگ پہ آنسو گراتا رہتا ہے اور نہ میں کوئی شراب کا پیالہ ہوں جو پینے والے کو نشے میں نچاتا رہتا ہے میں تو غلام حبیب کردگار ہوں اور جس کا غلام ہوں اس کو مجھ سے زیادہ میری فکر ہے اس لیے کو ئی بات نہیں دنیا کے مصائب و آلام پہ صبر کروں گا اور وصل کا جام پی کر خاموش رہوں گا
؂ ہر کہ عشق مصطفی سامان اوست بحر و بر در گوشہء دامان است
شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کا ایمان افروز شعر ملاحظہ فرمائیں                
سا ذکر حبی للحبیب محمد اذا وصف العشاق حب الجائب
جب دوسرے عشاق اپنے اپنے محبوبوں کا ذکر کریں گے تو میں اپنے محبوب محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت کا ذکر کروں گا۔
؂ عقل والوں کے نصیبوں میں کہاں ذوق جنوں عشق والے ہیں جو ہر چیزلٹا دیتے ہیں

عبرت فزا ہے شرم گنہ سے مرا سکوت

 
شعر نمبر 06
عبرت فزا ہے شرم گنہ سے مرا سکوت
گویا لب خموش لحد کا جواب ہوں                                
مشکل الفاظ کے معنی
*عبرت فزا -- (فاعلی ترکیب)نصیحت انگیز * سکوت --خاموشی * لب خموش لحد -- خموشی کی قبر کا کنارہ                                
ترجمہ و تشریح
اے میرے آقا ! میں اپنے گناہوں کے سبب شرم کی وجہ سے ایسا چپ ہو گیا ہوں کہ اب تو لوگ                     
 میری خموشی سے عبرت حاصل کرنے لگے ہیں جیسے قبر سے عبرت حاصل کی جاتی ہے کیونکہ قبر کی خموشی کی طرح ہی میرے ہونٹ ایسے خاموش ہیں کہ اپنی صفائی میں بھی حرکت نہیں کرتے اب آپ ﷺ ہی بتائیں میں کیا کروں؟
؂ ڈر تھا کہ عصیاں کی سزا اب ہو گی یا روز جزا
دی ان کی رحمت نے صدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
ستر ستر اور اسی اسی سال شرک ، کفر ، ظلم کے اندھروں میں رہنے والے جب دامن رحمت میں آئے تو میرے آقا کریم ﷺ کی نگاہ رحمت نے ان کو فرشتوں سے افضل بنا دیا اور 
؂ خود جو نہ تھے راہ پر اوروں کے رہبر بن گے
 اک نظر میں شاہ نے قطرے کو دریا کر دیا                             

Saturday, 8 September 2018

بے اصل و بے ثبات ہوں بحرِ کرم مدد

شعر نمبر05
بے اصل و بے ثبات ہوں بحرِ کرم مدد
پرور وۂ کنارِ سراب و حباب ہوں                   
مشکل الفاظ کے معنی
*بے ثبات -- فانی، ناپائیدار * بحر کرم --سخاوت و بخشش کے سمندر * پروردہ -- پالا ہوا * کنار --گود 
* سراب --چمکنے والی ، ریت جو دور سے پابی نظر آتی ہے* حباب -- بلبلہ
ترجمہ و تشریح
اے میرے بخشش والے کریم آقا ! میں بے ٹھکانہ اور فنا کی وادیوں میں بھٹکتا پھر رہا ہوں میری مدد کو آئیے کیونکہ آپ ﷺ تو سخاوت و بخشش کے سمندر ہیں اور میں سراب اور بلبلہ کے سہارے پہ جی رہا ہوں یعنی اپنی غیر مقبول قسم کی نیکیوں پہ بھروسہ کیے بیٹھا ہوں جو قیامت کے دن سراب اور بلبلہ ثابت ہوں گی اور بیڑا تو صرف آپ ﷺ کی شفاعت سے ہی پار ہو گا
؂اس سر کو ان کے در پہ کٹا کر رہوں گا میں یہ آرزو ہے اس دل پُر اضطراب میں
اٹھوں گا عاشقان محمد (ﷺ) کے ہم رکاب لکھا گیا ہے میری شفاعت کے باب میں

خونیں جگر ہوں طائر بے آشیاں شہا

خونیں جگر ہوں طائر بے آشیاں شہا
                رنگ پریدۂ رخِ گل کا جواب ہوں
مشکل الفاظ کے معنی
               ⭐خونیں جگر--خون سے آلودہ جگر ⭐طائر بے آشیاں ---آوارہ پرندہ جس کا کوئی ٹھکانہ نہ ہو
مفہوم و تشریح
            اے میرے پیارے آقا! آپ کی جدائی کے صدمے نے مجھے اس قدر نڈھال کر رکھا ہے کہ دل خون کے روتا رہتا ہے اور اس آوارہ پرندے کی طرح اُڑتا رہتا ہے جس کا کوئی ٹھکانا نہ ہو 


Labik Ya Rasool Allah

گر آنکھ ہوں تو ابر کی چشمِ پُر آب ہوں

شعر نمبر03
گر آنکھ ہوں تو ابر کی چشمِ پُر آب ہوں
دل ہوں تو برق کا دل پُر اضطراب ہوں                      
مشکل الفاظ کے معنی
*ابر -- بادل * پُر آب --پانی سے بھرا ہوا* برق --بجلی * پُر اضطراب --بے قرار
ترجمہ و تشریح
فرض کرو اگر میں آنکھ ہوں تو ایسی آنکھ ہوں جو ایسے بادل کی مانند ہے جو پانی سے بھرا ہوا ہے جیسے اس سے پانی کبھی کم نہیں ہوتا اسی طرح میرے آنکھ سے بھی فراق طیبہ میں رو رو کر آنسو ختم ہونے کا نام نہیں لیتے اور اگر میں سراپا دل ہوں تو ایسا دل ہوں کہ بجلی کی طرح ہر وقت ( دیدار مصطفی ﷺ کی تڑپ میں) بے چین و مضطراب رہنے والا ہوں
؂دل نہ ہو کیوں مضطرب موت کے انتظار میں سنا ہے مجھ کو دیکھنے آئیں گے وہ مزار میں
صحابہ کرام کی حالت یہ تھی کہ حضور علیہ السلام کے وصال پر ملال کے بعد جب بھی آپ کو یاد کرتے تو ہچکیاں بندھ جاتیں اور سرکار کی مجلسوں کا ذکر کر کر تڑپا کرتے
؂ سینے میں ہے بہار کا میلہ لگا ہوا جب سے تمہارے درد کو مہماں بنا لیا
پلکوں پہ رکھ کے ناصر اشکوں کے کچھ دیئے محفل کو ہم نے بارہا یونہی سجا لیا 

دُرِ نجف ہوں گوہر پاک خوشاب ہوں

شعر نمبر02
دُرِ نجف ہوں گوہر پاک خوشاب ہوں
یعنی تراب رہ گزر بو تراب ہوں                               
مشکل الفاظ کے معنی
*دُر -- موتی * نجف --حضرت علی المرتضیٰؓ کے روضے والا شہر * گوہر --قیمتی پتھر * خوشاب --چینی ملے پانی میں محفوظ کیا ہوا پھل اصل میں    خوس آب ہے عمدہ پانی *تراب --مٹی *رہ گزر --راستہ *ابوتراب --حضرت علی المرتضیٰؓ کی کنیت 
ترجمہ و تشریح
نجف کا موتی ( علی کا سچا ملنگ) ہوں اور عمد گوہر ( محفوظ و بہترین میوہ و مغز) ہوں میرا مطلب ہے بوتراب (شیر خدا) کے قدموں کی خاک کا ایک ذرہ ہوں
ؔ ؂علی امام من است و منم غلام علی
ہزار جان گرامی فدا بنام علی

رشکِ قمر ہوں رنگِ رُخِ آفتاب ہوں

شعر نمبر01
نعت شریف نمبر 27
رشکِ قمر ہوں رنگِ رُخِ آفتاب ہوں 
ذرہ ترا جو اے شہہِ گردوں جناب ہوں                    
مشکل الفاظ کے معنی
رشک برابری کی تمنا کرنا * قمر چاند * گردوں آسمان* جناب بارگاہ                   
ترجمہ و تشریح
اے میرے عظمت والے آقا ! آ پ ﷺ کی غلامی میں آ کر مجھے ایسی عظمت و رفعت نصیب ہوئی کہ چاند مجھ پر رشک کرنے لگا اور میرے چہرے کا رنگ رخ آفتاب کا مقابلہ کرنے لگا یہ صرف اس لیے کہ میں آپ ﷺ کی خاک پا کا ایک ذرہ ہوں اور آپ ﷺ وہ ہیں کہ آسمان کی بلندی بھی آپ ﷺ کی بارگاہ کے تقدس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
عظمت والی ہستی کے ساتھ مل کر عظمت مل ہی جاتی ہے جیسے کاغذ/کپڑے کو نسبت قرآن پاک سے ہوئی تو چوما جانے لگا، حضور علیہ السلام کی نعلین پاک کو آپ کے قدموں سے نسبت ہوئی تو جبریل نیچے اور آپ کا لباس ، نعلین پاک اوپر

تیری دوستی سے پہلے مجھے کون جانتا تھا 
تیرے عشق نے بنا دی میری زندگی فسانہ