Showing posts with label wah kya judo karam hai Shah e Batha Tera مفہوم و تشریح. Show all posts
Showing posts with label wah kya judo karam hai Shah e Batha Tera مفہوم و تشریح. Show all posts

Sunday, 28 May 2017

(شعر نمبر15) مطلع میں یہ شک کیا تھا واللہ رضاؔ واللہ



(شعر نمبر15) 
مطلع میں یہ شک کیا تھا واللہ رضاؔ واللہ
صرف ان کی رسائی ہے صرف ان کی رسائی ہے                             
مشکل الفاظ کے معنی
*مطلع -- (جائے طلوع) غزل یا نعت کا پہلا شعر * واللہ -- اللہ کی قسم
مفہوم و تشریح
کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں احمد رضا اپنی نعت کے پہلے شعر جو یہ کہہ آیا ہوں کہ ’’میدان محشر میں صرف حضور ہی کی بارگاہ الہی میں رسائی ہے‘‘ شاید میں نے کوئی غلط بات کی ہے یا اب پچھتا رہا ہوں کہ کیوں کہہ دیا، اگر کسی کو اس عقیدے میں شک ہو تو وہ اپنا شک نکال دے۔ خدا کی قسم ! ہاں ہاں اللہ کی قسم ! قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے یہ عقیدہ کہ
؂                        صرف ان کی رسائی ہے صرف ان کی رسائی ہے
واہ واہ اے گدائے درِ خیرالوریٰ احمد رضا ! آپؒ کی قبر انور پہ اللہ رب العزت کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے آپؒ نے ہمیں کتنا ٹھوس عقیدۂ نجات عطا کیا ہے ،یقیناً آپؒ درِ مصطفی ﷺ کے وہ عظیم الشان منگتے ہے کہ جن کے بارے میں کہا گیا ہے ،
؂ زمانے کے سکندر ہیں سخی دربار کے منگتے
 نرالی شان رکھتے ہیں نبی مختار کے منگتے                               

گدائے مصطفی کی عظمتیں اللہ سے پوچھ
 شہنشاہوں سے اچھے ہیں میری سرکار کے منگتے                             

Saturday, 27 May 2017

(شعر نمبر14) طیبہ نہ سہی افضل مکہ ہی بڑا زاہد



(شعر نمبر14) 
طیبہ نہ سہی افضل مکہ ہی بڑا زاہد
ہم عشق کے بندے ہیں کیوں بات بڑھائی ہے                  
مشکل الفاظ کے معنی
*طیبہ -- مدینہ* افضل -- فضیلت میں زیادہو برتر *زاہد -- عبادت گزار * بات بڑھانا -- بحث وتکرار کرنا،بات لمبی کرنا
مفہوم و تشریح
اے خشکی کے مارے عبادت گزار اور نیم ملاں خطرہ ایمان ! ہم سے جھگڑ ا نہ کر کہ ! مکہ افضل ہے کہ مدینہ؟ تیری ہی مان لیتا ہوں کہ مکہ ہی افضل سہی! مدینہ نہ سہی! ( مگر یہ تو بتا کہ مکہ کو افضل بنایا کس نے ہے، کس کی وجہ سے اللہ رب العزت مکہ کی قسمیں یاد فرما رہا ہے؟ رانست حل بھذا لبلد۔ اس لیے کہ ان گلیوں میں محبوب دو عالم ﷺ کے قدم مبارک لگے ہوئے ہیں) اچھا اچھا ! چل ، جا ! بحث نہ کر ہم عشق والوں سے تکرار کرنے کی ضرورت نہیں ہے تو صرف مکے کی بات کرتا ہے مکے کو بنانے والے حضرت خلیل علیہ اسلام میں اور اگر مدینے والا نہ ہوتا تو۔
؂ہوتے کہاں خلیل و بنا کعبہ و منی
 لولاک والے صاحبی سب تیرے گھر کی ہے کی ہے                         
اور ہاں ہاں ارئے زاہد!
؂ غور سے سن تو رضا ؔ کعبہ سے آتی ہے صدا
میری آنکھوں سے میرے پیارے کا روضہ دیکھو                    

(شعر نمبر13) ہم دل جلے ہیں کس کے ہٹ فتنوں کے پر کالے




(شعر نمبر13) 
ہم دل جلے ہیں کس کے ہٹ فتنوں کے پر کالے
کیوں پھونک دوں اک اُف سے کیا آگ لگائی ہے                     
مشکل الفاظ کے معنی
*ہٹ -- ضد دور ہو * پر کالے -- چنگاری،ٹکڑایا سیاہ پر * پھونک دوں -- بجھا دوں 
* اُف -- پھونک کی آواز
مفہوم و تشریح
اے مخالف ! ہم دل جلے عاشق تو ہیں لیکن تو جانتا بھی ہے کہ کس کے (اپنے محبوب ﷺ کے ) تو پیچھے ہٹ جا اے فتنوں کی چنگاری ! میں تجھے ایک پھونک سے جلا کر راکھ کر دوں یہ تو نے کیا بدعقیدگی کی آگ لگا رکھی ہے۔

(شعر نمبر12) حرص و ہوس بد سے دل تو بھی ستم کر لے



(شعر نمبر12) 
حرص و ہوس بد سے دل تو بھی ستم کر لے
تو ہی نہیں بیگانہ دنیا ہی پرائی ہے                                      
مشکل الفاظ کے معنی
*حرص و ہوس -- طمع و لالچ * بد -- بڑا * ستم ظلم * بیگانہ پرایہ ،غیر اجنبی
مفہوم و تشریح
اے دل ! بُڑے لالچ اور طمع کے ساتھ جتنا ظلم کر سکتا ہے کر لے کیونکہ بیگانہ اور اجنبی تو سارا زمانہ ہے صرف تو ہی تو نہیں ہے ، یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ جب ساری دنیا کا ظلم سہ رہا ہو ں تو ایک تیرا بھی سہ لوں گا تو بھی شوق پورا کر لے۔

Thursday, 25 May 2017

(شعر نمبر11) اے عشق ترے صدقے جلنے سے چُھٹے سستے




(شعر نمبر11) 
اے عشق ترے صدقے جلنے سے چُھٹے سستے
جو آگ بجا دے گی وہ آگ لگائی ہے                           
مشکل الفاظ کے معنی
*صدقے -- قربان * چھٹے -- آزاد ہوئے،رہا ہوئے ،چھٹکارا پایا 
مفہوم و تشریح
اے عشق مصطفی ﷺ اور غم رسول! ﷺ میں تجھ پہ قربان تو نے ہمارے دل کو جو فراق و غم رسول ﷺ کی آگ لگائی اس کا یہ فائدہ ہوا کہ جہنم سے چھٹکارا پا گئے کیونکہ تیری آگ نے جہنم کی آگ کو بھی بجا دیا ہے، العشق نار یحرق ما سوی اللہ 
عشق ایک ایسی آگ ہے جو ماسوی اللہ کو بھسم کر کے رکھ دیتی ہے۔
حدیث شریف میں ہے کہ مومن جب پل صراط سے گزرے گا تو دوذخ پکارے گی کہ جلدی گزر تیرے نور ایمان کی ٹھنڈک سے میری آگ سرد ہو رہی ہے۔ 
؂ غم مصطفی تیرا شکریہ میں کہاں کہاں سے گزر گیا

شعر نمبر 10



Wednesday, 24 May 2017

(شعر نمبر09) مجرم کو نہ شرماؤ احباب کفن ڈھک دو




(شعر نمبر09) 
مجرم کو نہ شرماؤ احباب کفن ڈھک دو
منہ دیکھ کہ کیا ہو گا پردے میں بھلائی ہے                             
مشکل الفاظ کے معنی
*احباب -- دوست ،پیارے * ڈھک دو -- بند کر دو 
مفہوم و تشریح
اے دوستو! مرنے کے بعد بار بار میرا چہرہ کھول کہ کیا دیکھتے ہو؟ میں مجرم و سیاہ کار ہوں مجھے کیوں شرمندہ کرتے ہو، کفن سے میرا چہرہ ڈھانپ دو یہ مجرم اس قابل نہیں کہ بار بار اس کا منہ ننگا کر کے اس کو رسوا کیا جائے، اس کی بھلائی اسی میں ہے کہ اس کو پردے میں ہی رہنے دیا جائے۔
؂ ڈر تھا کہ عصیاں کی سزا اب ہو گی یا روز جزا 
دی ان کی رحمت نے صدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں                       
اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مجدد دین و ملت مولانا شاہ احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ تقویٰ و طہارت کا کوہ گراں ، صبر و استقامت کا پہاڑ اور نیکی و پرہیز گاری کا پیکر ہونے کے باوجود اپنے آپ کو کس انداز میں پیش کر رہے ہیں اس سے موجود دور کے نکمے و نالائق مگر اونچے اونچے دعوے کرنے والے نام نہاد مشائخ کو ضرور سبق لینا چاہیے کہ بلندی عاجزی میں ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے
فلاتزکو انفسکم ھوا علم بمن اتقی۔ اپنے آپ کو پاکیزہ مت ظاہر کرو اللہ جانتا ہے کون پرہیزگار ہے۔
شرق سے لے کر غرب تک جن کی سلطنت کا شور تھا 
دم بخود دو گز زمین میں ان کو دیکھا ایک دن                                  
ہر کمالے راز والے سچ ہے غافل ہوشیار 
بڑے بڑے اس خاک میں دیکھیں گے خود کو ایک دن                           
بولی خلوت میں اجل دولہا دولہن سے وقت عیش 
ہے تمہیں بھی قبر کے گوشے میں سونا ایک دن                         

Tuesday, 23 May 2017

(شعر نمبر08) اے دل یہ سلگنا کیا جلنا ہے تو جل بھی اُٹھ



(شعر نمبر08) 
اے دل یہ سلگنا کیا جلنا ہے تو جل بھی اُٹھ
دم گھٹنے لگا ظالم کیا دھونی رمائی ہے                                    
مشکل الفاظ کے معنی
*سلگنا -- اندر ہی اندر جلتے رہنا * جلنا -- ایک دم آگ لگ جانا 
*دھونی رمائی ہے -- دھونی لی ہوئی ہے
مفہوم و تشریح
اے دل ! تیری یہ عادت مجھے ہرگز پسند نہیں ہے جو تو اندر ہی اندر سلگتا (کڑھتا) رہتا ہے اگر تجھے جلنا ہے تو جل کر راکھ ہو جا تاکہ قصہ ہی ختم ہو، یہ کیا آہستہ آہستہ دھواں نکالتا رہتا ہے جس سے دم گھٹنے لگتا ہے اور بجائے سرور و انبساط ملنے کی بدمزگی اور بے چینی پیدا ہوتی ہے۔
؂     دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہے 
سینے پہ تسلی کو ترا ہاتھ دھرا ہو                                 
گر وقت اجل سر تیری چوکھٹ پہ پڑا ہو     
جتنی ہو قضا ایک ہی سجدے میں ادا ہو                              

Monday, 22 May 2017

(شعر نمبر07) گرتے ہوؤں کو مژدہ سجدے میں گرے مولا



(شعر نمبر07) 
گرتے ہوؤں کو مژدہ سجدے میں گرے مولا
رو رو کے شفاعت کی تمہید اُٹھائی ہے                                  
مشکل الفاظ کے معنی
*مژدہ -- خوشخبری * تمہید -- مہد سے ہے بمعنی گود
مفہوم و تشریح
اے جہنم میں گرنے کے قابل گناہ گارو! یا گناہوں کی پھسلن سے گرنے والے مجرمو! مبارک ہو! دیکھو تو! آقا نے سجدے میں سر ا نور رکھ کر باب شفاعت کھول دیا ہے اور دیکھو! رو رو کر زلفیں بکھیر کر اللہ رب العزت کی حمد و ثنا ایسے پیارے انداز میں شروع کی ہے (کمافی الحدیث) کہ اللہ کو ترس آ گیا ہے اور اس نے اعلان فرما دیا ہے کہ ؂ 
؂ اب تو سجدے سے سر کو اُٹھا لو 
آپ کی ساری امت بری ہے                                  

Saturday, 20 May 2017

(شعر نمبر06) بازارِ عمل میں تو سودا نہ بنا اپنا



(شعر نمبر06) 
بازارِ عمل میں تو سودا نہ بنا اپنا
سرکارِ کرم تجھ میں عیبی کی سمائی ہے                        
مشکل الفاظ کے معنی
*سودا -- سامان ، حساب کتاب،قیمت * عیبی -- روگی، گناہگار * سمائی -- وسعت، گنجائش
مفہوم و تشریح
اے میرے پیارے آقا و مولیٰ! ﷺ عمل کے لحاظ سے تو ہم بالکل نکمے ہیں، کوئی نیکی ہے نہ کوئی تیاری ، اے آقا ! ﷺ کرم فرمائیے اگر آپ ہم جیسے عیبیوں کو نہ سنبھالیں گے تو کون سنھبالے گا آپ ﷺ کے دامن کرم میں تو مجھ جیسے کروڑوں سما سکتے ہیں اور ایسے چھپیں گے کہ پھر
؂      ڈھونڈا ہی کریں صدر قیامت کے سپاہی
  وہ کس کو ملے جو تیرے دامن میں چھپا ہو                    
؂     میرے اعمال کا بدلا تو جہنم ہی تھا
میں تو جاتا مجھے سرکار نے جانے نہ دیا                      

Monday, 6 March 2017

حرم و طیبہ و بغداد جدھر کیجئے نگاہ

                   
   
 (24) حرم و طیبہ و بغداد جدھر کیجئے نگاہ
جوت پڑتی ہے تیری نور ہے چھنتا تیرا
مشکل الفاظ کے معنی
* حرم -- مکہ شریف * طیبہ - -مدینہ شریف * بغداد -- باغ دادا کا ، مخفف ہے (انصاف کا باغ ، عراق میں ایک باغ تھا جہاں نوشیرواں اپنی کچہری لگا کر عدل و انصاف کرتا تھا ) بغداد شریف مراد ہے *جدھر -- جس طرف *جوت -- نور اُجالا، شعاع *چھنتا-- ظاہر ہونا
مفہوم و تشریح
یا رسول اللہ ! ﷺ مکہ ہو یا مدینہ یا بغداد (یا کوئی بھی مقدس مقام) جدھر بھی نگاہ اُٹھا کر دیکھا جائے آپ ہی کے نور کے جلوے نظر آ رہے ہیں
؂ داتا ہجویری ، لاثانی ، مہر علی خواجہ ہند الولی، میراں غوث جلی
کیسے کیسے دیئے میرے محبوب نے یہ نگینے ہمیں روشنی کے لیے
رسول اللہ ﷺ اور غوث اعظمؓ 
حضور ﷺ خدا کے محبوب ہیں اور غوث اعظمؓ حضور ﷺ کے محبوب ہیں ، حضور ﷺ نبی الثقلین ہیں اور غوث پاکؓ ولی الثقلین ہیں، ہماری جان محمد ﷺ رسول الکونین ہیں اور ہمارے آقا غوث اعظمؓ غوث الکونین ہیں ، محبوب خدا ﷺ رسول الجن و الانس ہیں اور محبوب مصطفی سرکار غوث اعظمؓ غوث الجن و الانس اور شیخ الجن و الانس ، آپ ﷺ چودہ طبق کے رسول و نبی ہیں اور یہ سارے جہان کے غوث و ولی ، اُن کی نبوت و رسالت میں ثانی نہیں اور اِن کی ولایت و غوثیت میں ثانی نہیں ، ہیں وہ بھی لا جواب ہیں یہ بھی بے مثال ، خیر الوریٰ ہیں ، اُن کی شان کا منکر بھی بدبخت اور اِن کی عظمت کا منکر بھی بد نصیب ہے۔ نبی اُن کی مہر سے بنتے ہیں ، ولی اِن کی مہر سے بنتے ہیں
؂ غوث اعظم درمیان اولیاء چوں محمد درمیان انبیاء

تیرے صدقے مجھے اک بوند بہت ہے تیری


(23) تیرے صدقے مجھے اک بوند بہت ہے تیری
جس دن اچھوں کو ملے جام چھلکتا تیرا
مشکل الفاظ کے معنی
 * تیرے صدقے -- آپ پر قربان یا آپ کے طفیل * اِک - -ایک کا مخفف * بوند -- قطرہ *اچھوں -- اچھے لوگ *جام -- پیالا *چھلکتا -- لبریز، بھر ہوا
مفہوم و تشریح
 یا رسول اللہ ! ﷺ میں آپ پہ قربان ہو جاؤں یا جس د ن آپ کے طفیل نیک لوگوں کو آپ اپنے ہاتھوں سے جام کوثر بھر بھر کر پلا رہے ہوں گے میرا کام تو آپ کے ہاتھوں سے کوثر و سلسبیل کی ا یک بوند ہی بنا دے گی۔
؂؂ جس کی دو بوند ہیں کوثر و سلسبیل ہے وہ رحمت کا دریا ہمارا نبی ﷺ
 ایک مرتبہ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے حضو ر ﷺ کی بارگاہ میں عرض کیا!
 یا رسول اللہ ﷺ قیامت کے دن ہم آپ کو کہاں تلاش کریں؟ فرمایا میں ان تین مقا مات میں سے کسی مقام پہ تمہیں مل جاؤں گا۔
(۱۱) پل صراط پہ ( اپنی امت کو وہاں سے پار کرا کے جنت میں لے جانے کے لیے)۔
؂؂ رضا پل سے اب دجد کرتے گز ریئے کہ ہے رب سلم صدائے محمد ﷺ
(۲۲) میزان پہ ( جہاں امت کے اعمال تُل رہے ہوں گے اور میں نگرانی کر رہا ہوں گا کیونکہ جس کا سودا تولا جائے وہ وہاں موجود ہوتا ہے اور پھر کمی بیشی اگر ہو گی تو اس کا انتظام فرما رہا ہوں گا)۔
(۳) حوض کوثر پہ ( اپنی امت کو جام بھر بھر کے پلا رہا ہو ں گا)۔
 اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں مجھے ایک بوند جب آپ ﷺ عطا فرمائیں گے تو آپ ﷺ کی توجہ میری طرف ہو گئی تو بس توجہ سے ہی کام ہو جائے گا کیونکہ آپ ﷺ کی توجہ جدھر ہو گی خدا کی توجہ بھی ادھر ہی ہو گی، اس لیے کسی نے کہا ہے
؂؂ تیری نظر سے میری سلامت ہے زندگی تیری نظر نہ ہو تو قیامت ہے زندگی

دور کیا جانئے بدکار پہ کیسے گزرے


(22) دور کیا جانئے بدکار پہ کیسے گزرے
تیرے ہی در پہ مرے بے کس و تنہا تیرا
مشکل الفاظ کے معنی
 * کیا جانئے -- کیا معلوم * کیسی گزر - -کیسی مصیبت آ جائے * در -- دروازہ *بیکس و تنہا -- بے یارو مدد گار 
مفہوم و تشریح
 یا رسول اللہ ! ﷺ کیا معلوم آپ کے در اقدس سے دور جاؤں تو کن مصیبتوں میں پھنس جاؤں لہذا آپ کا گنہگار اور بے یار و مددگار امتی آپ کے ہی در پر پڑا پڑا کیوں نہ مرے تاکہ قبر و حشر کی ہلاکتوں سے بچ کر ہمیشہ کا سکون پا لے؟
 اس شعر میں مدینہ شریف کی موت کی آرزو کی گئی ہے جس کی ترغیب اللہ کے محبوب ﷺ نے خود دی۔
من مات با لمدینہ کنت لہ سفیعا یوم القیمۃ ( خلا صۃ الوداء)
مدینہ میں مرنے والے کی میں آپ شفاعت کروں گا۔
ایک حدیث میں فرمایا
 من استطاع ان یموت بالمدینۃ فلیمت بھا فانی اشفع من یموت بھا ( مشکوۃ المصابیح)
 جس سے ہو سکے وہ مدینہ میں مرے تو مدینہ شریف میں ہی مرے کیونکہ مدینہ میں آ کر مرنا تمہارا کام ہے اور تمہاری شفاعت کر کے تمہیں اللہ رب العزت سے بخشوا لینا میرا کام ہے۔
 ایک جگہ فرما یا جو مدینہ میں مرے گا میں اس کے ایمان کی گواہی دوں گا ( عقیدہ درست ہونا ہر فضیلت کے لیے شرط اولین ہے
؂؂ مدینے کے خطے خدا تجھ کو رکھے غریبوں فقیروں کے ٹھرانے والے
 (مدینہ شریف کے فضائل احقر کی کتاب ،، شان مصطفی ﷺ بز بان مصطفی ﷺ بلفظ آنا ،، میں تفصیلاً پڑھیں
؂ جب مدینے کی بات ہوتی ہے وجد میں کائنات ہوتی ہے
 لیلۃ القدر کو جو شرما دے وہ مدینے کی رات ہوتی ہے

موت سنتا ہو ں تلخ ہے زہر ابہ ناب


(21) موت سنتا ہو ں تلخ ہے زہر ابہ ناب
کون لا دے مجھے تلووں کا غسالہ تیرا 
مشکل الفاظ کے معنی
 * تلخ -- کڑوی (فارسی) مراد ہے بہت بڑی آفت و مصیبت * زہرابہ - -مرکب ہے زہرا اور آب سے بمعنی زہر والا پانی ، آخر پہ ھا ہے جو اپنے ماقبل پہ حرکت کو ظاہر کرنے کے لیے لگائی جاتی ہے جیسے قرآن پاک میں ھا سکتہ ہے * ناب -- خالص ، اصلی، زہرابہ کا معنی ہوا خالص زہر آلود پانی *تلووں -- پاؤں * غسالہ دھون-- یعنی وہ پانی جس  سے آپ ﷺ نے قدموں کو دھویا ، اس پانی کو ایک جگہ اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے آب حیات لکھا ہے
؂جس کے قدموں کا دھوون ہے آب حیات
مفہوم و تشریح
 یا رسول اللہ ! ﷺ میں نے سنا ہے کہ موت بہت بڑی آفت اور خالص زہر ملے پانی کی طرح ہے لیکن اس کی کڑواہٹ کو اگر کوئی شے مٹھاس میں بدل سکتی ہے تو وہ آپ ﷺ کے قدموں سے اترنے والا پانی ہے، کاش! مجھے کوئی حضور ﷺ کے قدموں کا دھوں لا دے تاکہ قبر میں موت کے وقت پئے جانے والے زہریلے اور کڑوے پانی کا زہریلا پن اور کڑواہٹ دور ہو جائے۔
 اس لیے صحابہ کرام علیہم الرضوان حضور ﷺ کے وضو کے مستعمل پا نی کو زمین پر نہیں گرنے دیتے تھے (بخاری شریف) اور حضور ﷺ کے تبرکات کو سنبھال کر رکھتے تھے اور بعد از وفات قبر میں اپنے ساتھ دفن کرنے کی وصیعت فرماتے تھے کیونکہ ان سے موت کی تلخی ختم ہو جاتی ہے اور موت ریحانۃ الجنۃ جنت کا پھول بن جاتی ہے۔ یہی و جہ ہے کہ حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت آیا تو گھر والے رو رہے ہیں اور آپؓ مسکرا ر ہے ہیں کہ آج حضور ﷺ کی بارگاہ میں جانے والا ہوں۔
؂؂نشان مرد مومن باتو کریم چوں مرگ آید تبسم برلب اوست

تو نے اسلام دیا تو نے جماعت میں لیا


(20) تو نے اسلام دیا تو نے جماعت میں لیا
تو کریم اب کوئی پھرتا ہے عطیّہ تیرا
مشکل الفاظ کے معنی
 * جماعت -- گروہ، مرا د ہے سوادا عظم اہل سنت و جماعت * پھرتا ہے - - واپس ہوتا ہے * عطیہ انعام و بخشش
مفہوم و تشریح
 یا رسول اللہ ! ﷺ یہ آپ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ آپ نے مجھے (جنتی جماعت) اہل سنت میں قبول فرمایا ہوا ہے، جو آپ کا بہت بڑ ا انعام ہے اور کریم و سخی دیا ہوا انعام واپس نہیں لیتے۔
مفسرین نے یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُ جُوْہُٗ وَّ تَسْوْدُّوُجُوْہُٗ (آل عمران ۱۰۶۶) کے تحت لکھا ہے کہ جن لوگوں کے چہرے قیامت کے دن چمکتے ہوں گے وہ اہل سنت و جماعت کے عقائد کے حامل لوگ ہوں گے ، جن کے بارے حضور ﷺ نے صحابہ کے پوچھنے پہ فرمایا ما انا علیہ و اصحابی صراط مستقیم والے (جنتی) وہ ہیں جو کہ میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر ہوں گے
؂؂ اہل سنت کا ہے بیڑا پار اصحاب حضور نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ ﷺ کی

کس کا منہ تکئے ، کہاں جایئے، کس سے کہیے



(19) کس کا منہ تکئے ، کہاں جایئے، کس سے کہیے
تیرے ہی قدموں پہ مٹ جائے یہ پالا تیرا
مشکل الفاظ کے معنی
 * تکنا-- دہکھنا، حسرت و ما یوسی کے عالم میں کسی کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھنا * پالا - - پرورش کیاہوا
مفہوم و تشریح

 یا رسول اللہ ! ﷺ آپ جیسے ی بندہ پرور کو چھوڑ کر کس کی طرف للچائی ہوئی نگاہوں سے دیکھوں اور اپنے دکھڑے سنائے کے لیے کس کے در پہ جاؤں کیونکہ سوائے مایوسی کے مجھے کسی سے ا ور کیا مل سکتا ہے آپ ﷺ کا یہ ناکارہ غلام جو آپ ﷺ ہی کے ٹکڑوں پر پلا ہو ا ہے ان حالات میں آ پ ﷺ کے قدموں میں مر تو سکتا ہے مگر آپ ﷺ کا در چھوڑ کر غیر کے در جائے یہ غداری مجھ سے نہیں ہو سکتی۔
 اللہ تعالیٰ نے خود اپنے نبی کے غلاموں کو اپنے محبوب علیہ السلام کے درا قدس کی طرف راہنمائی فرمائی ہے۔
وَلَوْاَنَّھُمْ اِذْظِّلَمْوْ ٓااَنْفُسَھُمْ جَآءُ وْکَ (النساء۶۴)
؂؂مجرم بلائے آئے ہیں جَآءُ وْکَ ہے گواہ پھر ر د ہو کیا یہ شان کریموں کے در کی ہ
ے

تو جو چاہے تو ابھی میل مِرے دل کے دُھلیں



(18) تو جو چاہے تو ابھی میل مِرے دل کے دُھلیں
کہ خدا دل نہیں کرتا کبھی مَیلا تیرا
مشکل الفاظ کے معنی
 * میل-- مٹی جو بدن پر لگ کر جسم کو میلا کچیلا کر د یتی ہے، یہاں مراد گناہوں کی سیاہی اور حجابات ہیں * دُھلیں - - دھل جائیں، صفائی ہو جائے
مفہوم و تشریح
 یا رسول اللہ ! ﷺ آپ کی مہربانی سے میرا دل گناہوں کی آلودگیوں سے صاف ہو سکتا ہے، کیونکہ آ پ کے تو گناہ قریب بھی نہیں آ سکتے کیونکہ آپ سید المعصومین ہیں پھر آپ کا دل بھلا کیسے میلا ہو سکتا ہے۔
 آپ ﷺ کی چاہت سے قبلہ تبدیل ہو جاتا ہے فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْ ضٰھَا (البقرہ ۱۴۴)
 آپ ﷺ اگر چاہیں تو پتھر کے پہا ر سونا بن کر آپ ﷺ کے ساتھ چلیں ، اللہ رب العزت آپ ﷺ کی خواہش پوری کرنے میں بہت جلد فرماتا ہے (حضرت عائشہ ؓ کا فرمان صحاح ستہ میں ) ان ربک لیسارع فی ھواک لوشنت لسارت معی جنال الذھب (او کما قالت رضی اللہ عنھا) جیسے آپ ﷺ کی رضا ویسے اللہ تعالیٰ کی رضا ہے واللّٰہ و رسولہ احق ان یر ضوہ آپ ﷺ کی بیت خد ا کی بیعت ہے ان الذ ین یبایعرنک انما یبایعون اللّٰہ آپ ﷺ کی اطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہے من یطع الرسول فقداطاع اللّٰہ اسی طرح آپ ﷺ کی چاہت سے ہم گنہگارو ں کا ہر کام آسان ہو سکتا ہے۔
؂کعبہ بنتا ہے اس طر ف ہی ریاضؔ جس طرف رُخ و ہ موڑ دیتے ہیں
 جس طرف وہ نظر نہیں آتے ہم وہ رستہ ہی چھوڑ دیتے ہیں

میری تقدیر بُری ہو تو بھلی کر دے کہ ہے



(17) میری تقدیر بُری ہو تو بھلی کر دے کہ ہے
محو و اثبات کے دفتر پہ کڑوڑا تیرا
مشکل الفاظ کے معنی
 * تقدیر-- قسمت، نصیب * بھلی - - بہتر، اچھی * محو - - مٹا دینا * اثبات -- ثابت کرنا *دفتر-- رجسٹر ، امر ہے لوح محفوظ * کڑوڑا -- قبضہ و اختیار 
مفہوم و تشریح

 یا رسول اللہ ! ﷺ میری قسمت اگر خراب ہے تو آپ بگڑی بنانے والے ہیں اور قضا و قدریہ پہ آپ کا قبضہ ہے ، میری بُڑی قسمت کو اچھی کر دینا آپ کے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔
 جیسے اللہ تعالیٰ دُعا سے تقدیر بدل دیتا ہے الدعا ء پر دالقضاء ( مشکوٰۃ المصابیح) دعا سے تقد یر بدل جاتی ہے، اپنے نیک بند ے کی درخواست پر عطا فرما دیتا ہے ( اگر میرا بندہ مجھ سے ( اپنے لیے یا کسی کے لیے) مانگے تو میں ضرور دیتا ہوں اگر مجھ سے پناہ طلب کرے تو پناہ بھی عطا کرتا ہوں (بخاری شریف)
ایک اور حدیث شریف میں ہے؛
رب اشعث اغبر مدفوع بالا بواب لو اقسم علی اللّٰہ لا برہ ( صحاح ستہ)
 میرے کئی بندے ایسے بھی ہیں کہ جن کے بال بکھرے اور غبار آلود ہوتے ہیں ، دروازے پہ بھی کوئی نہیں کھڑا ہونے دیتا لیکن ا گر اللہ کے نام کی کسی بات پر قسم اٹھا لیں تو اللہ ان کی قسم کو پورا فرما دیتا ہے۔ کیونکہ اگر اللہ لکھ سکتا ہے تو مٹا بھی سکتا ہے
یَمْحُوا اللّٰہُ مَایَشَآءُ وَ یُثْبِتُ ( ارعد ۳۹۹) جس کو اللہ چاہتا مٹاتا ہے جس کو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے
 تقدیر مبرم تو نہیں ٹلتی نہ ہی اس کو ٹالنے کی کوئی نبی یا ولی دعا کر تا ہے اگر کوئی کرنا چاہے تو اللہ اس کو رو ک دیتا ہے جیسے ابراہیم علیہ السلام کو قوم لوط پہ عذاب کے ٹلنے کی دعا ہے روکا گیا
 یا ابراھیم اعرض عن ھذا۔ تقدیر معلق کا ٹل جانا دعا یا کسی اور وجہ سے متفق علیہ ہے جب کہ تقدیر معلق شبیہہ المرم۔ ایک وہ ہے جس پر فرشتوں کو اطلاح دی جاتی ہے اور اس کو لوح محفوظ میں ظا ہر کر دیا گیا اور دوسری وہ جس پر فرشوں کو مطلع نہیں کیا گیا، اس میں بھی تبدیلی کا احتمال ہے اور اس کے بارے میں بقول حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت غوث اعظم رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا میں اگر چاہوں تو اس میں تبدیلی کا حق رکھتا ہوں (تفصیل کی لیے دیکھئے مکتوبات شریف صفحہ ۳۱۷
)

خوار بیمار خطا وار گنہگار ہوں میں




(16) خوار بیمار خطا وار گنہگار ہوں میں
رافع و نافع و شافع لقب آقا تیرا
مشکل الفاظ کے معنی
 *خوار -- ذلیل و رسوا * خطاوار - - مجرم و بدکار* رافع - - بلند کرنے والا * نافع -- نفع پہنچا نے والا ، مفید * شافع-- شفارش کرنے والا * لقب -- وصفی نام ، جو کسی اچھائی کی وجہ سے کسی کا پڑ جائے * آقا -- مالک و حاکم 
مفہوم و تشریح

 یا رسول اللہ ! ﷺ اگر چہ میں گنہگار و سیاہ کار سہی مگر آپ ﷺ تو گرتوں کو اٹھانے والے ، بیماروں کو اپنی نگاہِ کرم سے ا چھا کرنے و الے ، فیض رساں اور گنہگاروں کی شفاعت فر مانے والے ( جیسے) با برکت نام رکھتے ہیں۔
* حضرت ابوبکرؓ کو صدیق ا کبر کس نے بنا یا؟
* حضرت عمرؓ کو فاروق اعظم کس نے بنایا؟
* حضرت عثمانؓ غنی کو ذوالنورین کس نے بنایا؟
* حضرت علی ا لمرتضیٰؓ کو شیرِ خد ا کس نے بنایا؟
* بے ز ر کو بو ذر کس نے بنایا ا ور
* حبش کے بلالؓ کو رشک قمر کس نے بنایا؟
صرف اور صرف آپ ﷺ کی ذات نے ۔ اس لیے
؂؂ اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی جیسے میرے سرکار ہیں ایسا نہیں کوئ
ی

تیرے ٹکروں پہ پلے غیر کی ٹھوکر پہ نہ ڈال


(15) تیرے ٹکروں پہ پلے غیر کی ٹھوکر پہ نہ ڈال
جھڑکیاں کھائیں کہاں چھوڑ کے صدقہ تیرا
مشکل الفاظ کے معنی
 * ٹکڑوں پہ پلنا -- کسی کی عطاؤں پہ عیش کرنا * غیر - - بیگانا * ٹھوکر - - پاؤں سے مارنا، مراد ہے ذلت و رسوائی * جھڑکیاں -- ڈانٹ ڈپٹ اور ملامت * صدقہ-- خیرات و بخشش 
مفہوم و تشریح
 یا رسول اللہ ! ﷺ ہم آپ کے ٹکرو ں پر پلنے والے ہیں ، ہمیں اپنے قدموں سے ہٹا کر دوسروں کے دروازوں پر ٹھوکریں کھانے کی ذلت سے بچا لیں اپنے دربار سے ہٹا کر غیروں کی ڈانٹ ڈپٹ کے حوالے نہ کیجئے ۔
 اس شعر سے قرآن مجید کی متعدد آیات اور بے شمار احادیث مبارکہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن میں حضور ﷺ کا اپنے غلاموں کو نوازنا اور ان کی جھولیاں بھرنا مزکور ہے اور حضور ﷺ کا در چھوڑنے والو ں کی ذلت و رسوائی بیان کی گئی ہے مثلََا
اَنْ اَغْنٰھُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہ‘ مِنْ فَضْلِہ(التوبہ ۸۳)
اللہ او ر اس کے رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کر دیا
 وہ جو اس در سے پھر ا اللہ اس سے پھر گیا وہ جو اس در کا ہوا اللہ اس کا ہو گی
ا