Showing posts with label Lam Yati Nazeero Kafi Nazarin مفہوم و تشریح. Show all posts
Showing posts with label Lam Yati Nazeero Kafi Nazarin مفہوم و تشریح. Show all posts

Saturday, 17 June 2017

(شعر نمبر10) بس خامہ ء خام نوائے رضاؔ نہ یہ طرز مری نہ یہ رنگ مرا



نعت شریف نمبر06 
(شعر نمبر10)
بس خامہ ء خام نوائے رضاؔ نہ یہ طرز مری نہ یہ رنگ مرا
ارشاد احبا ناطق تھا ناچار اس راہ پڑا جانا                                         
مشکل الفاظ کے معنی
*بس خامہ ء خام نوائے رضاؔ -- احمد رضا کا کمزور قلم اور اس کی ناتواں صد * نہ یہ طرز مری نہ یہ رنگ مرا -- میرا انداز یہ نہیں ( کہ چار زبانوں میں اشعار لکھوں * ارشاد احبا ناطق تھا -- دوستوں کے اصرار نے مجبور کیا * ناچار اس راہ پڑا جانا -- مجبوراً ان کی فرمائش پوری کرنا پڑی۔ 
مفہوم و تشریح
میں اس قابل کہاں کہ چار زبانوں میں اشعار لکھوں ( اور وہ بھی نعت مصطفی ﷺ کے) بس دوستوں نے محبت بھرا اصرار کیا تو اپنی ناتجربی کاری کے باوجود مجبوراً چند اشعار کہہ دیے یا احیاء اور ناطق سے مراد دو شعراء میں ایک ناطق نامی شاعر ہو گزرا ہے اور دوسرے حضرت مولانا مجابکھریری آپ کے اجل خلیفہ ہیں جہنوں نے چار زبانوں میں نعت لکھنے کا اصرار کیا تھا۔ سبحان اللہ کیا سچ فرمایا۔
؂ملک سخن کی شاہی تم کو رضا ؔ مسلم 
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں                             
------***-------                                                                             

(شعر نمبر09) اَلرُّوْحُ فِدَاکَ فَزِدْ حَرْفَا یک شعلہ دگر برزن عشقا



نعت شریف نمبر06 
(شعر نمبر09)
اَلرُّوْحُ فِدَاکَ فَزِدْ حَرْفَا یک شعلہ دگر برزن عشقا
مورا تن من دھن سب پھونک دیا یہ جان بھی پیارے جلا جانا                    
مشکل الفاظ کے معنی
*اَلرُّوْحُ فِدَاکَ فَزِدْ حَرْفَا -- میری جان آپ پر قربان ذرا عشق کی آگ اور زیادہ کیجئے * یک شعلہ دگربرزن عشقا -- اپنے عشق کی ایک اور چنگاری میرے دل پر رکھیئے * مورا تن من دھن سب پھونک دیا -- میرا سارا جسم تو جل چکاہے * یہ جان بھی پیارے جلا جانا -- میرے آقا یہ جان میں کیا کروں گا اس کو بھی جلا دیجئے * مورا -- میرا * دھن -- ساراساماں * پھونک دیا -- جلا دیا 
مفہوم و تشریح
میری روح آپ پہ قربان ! میرے آقا ! ﷺ آپ کے عشق و محبت نے تو میرا سب کچھ جلا دیا ہے ایک ایک شعلہ اور عنایت فرمائیں تاکہ جان بھی آپ ﷺ کے عشق میں جلا دوں اور فنا فی سبیل الرسول کا مرتبہ پا جاؤں اور العشقنار یحرق ماسوی اللہ کا مقولہ سچ ثا بت ہو جائے۔ رومی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں
؂ شاد باش اے عشق خوش سودائے ما
اے طیب جملہ علت ہائے ما                                           

(شعر نمبر08) اَلْقَلْبُ سَجُٗ وَّالْھَمُّ شَجُوْن دل زار چناں جان زیر چنوں



نعت شریف نمبر06 
(شعر نمبر08)
اَلْقَلْبُ سَجُٗ وَّالْھَمُّ شَجُوْن دل زار چناں جان زیر چنوں
پت اپنی بپت میں کاسے کہوں مرا کون ہے تیرے سوا جانا                     
مشکل الفاظ کے معنی
*اَلْقَلْبُ سَجُٗ وَّالْھَمُّ شَجُوْن -- دل زخمی ہے اور پریشانیاں بے شمار ہیں * دل زار چناں جان زیر چنوں -- دل فریاد کناں ہے جان بہت کمزور ہے *پت اپنی بپت میں کاسے کہوں -- اپنا دکھڑا (آپ ﷺ کے سوا) کس سے کہوں * مرا کون ہے تیرے سوا جانا -- آپ ﷺ کے سوا میرا کون ہے
مفہوم و تشریح
حضرت امام بوصیری علیہ الرحمتہ کے قصیدہ بردہ شریف کے اس شعر کی جھلک ا علیٰ حضرت کے مندرجہ بالا شعر میں آپ کو ملے گی ، امام بوصیری نے عرض کیا ہے۔
؂ یا اکرم الخلو مالی من الو ذبہ
 سواک عند حلول الحادث العمم                                 

اعلیٰ حضرت کے شعر کا ترجمہ بھی بعینہ ہی ہے عرض کرتے ہیں اے میرے آقا ! ﷺ میرا دل آپ ﷺ کی جدائی میں بے تاب ہے اور اس پر مزید یہ کہ طرح طرح کے مصائب و آلام نے گھیرا ہوا ہے حضور ! میرا آپ کے سوا کون ہے جس سے میں اپنے دکھ بیان کروں اسی کی ترجمانی کسی نے یوں کی ہے
؂ ہند میں شاہا ہمارا اب نہیں ہوتا گزارا 
لو خبر جلدی خدارا کون ہے آقا ہمارا                                     
اس طرح کے کئی عربی قصائد عاشقان مصطفی ﷺ نے اپنے آقا کی بارگاہ میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے رہے۔ کئی خوش نصیب وہ تھے جن کو روضہ پاک سے جواب بھی ملا۔ اور قربان جائیں حضرت شیخ احمد رفاعی رحمۃ اللہ علیہ پر کہ انہوں نے روضہ پاک پہ حاضر ہو کر سلام عرض کیا تو حضو ر ﷺ نے اپنا دست اقدس روضہ پاک سے باہر نکالا جس کی ہزاروں اولیاء کرام نے جو اس وقت مسجد نبوی میں موجود تھے زیارت کی اور حضرت شیخ رفاعی نے ہاتھ مبارک کا بوسہ لیا ۔ اس موقع پر غوث اعظم شہنشاہ بغداد بھی مسجد نبوی میں ہزاروں ولیوں کے ساتھ موجود تھے (تبلیغی نصاب)
؂       یہ مرتبہ بلند ملا جس کو مل گیا                                              

Friday, 16 June 2017

(شعر نمبر07) وَاھًا لِسُوِیْعَاتِ ذَھَبَتْ آں عہد حضور بار گہت



نعت شریف نمبر06 
(شعر نمبر07)
وَاھًا لِسُوِیْعَاتِ ذَھَبَتْ آں عہد حضور بار گہت
جب یاد آوت موہے کہ نہ پرت درد اوہ مدینے کا جانا
مشکل الفاظ کے معنی
*وَاھًا لِسُوِیْعَاتِ ذَھَبَت -- ہائے افسوس چند ہی گھڑیاں تھیں جو گزر گئیں * آں عہد حضور بار گہت -- آپ ﷺ کی بارگاہ کی حاضری کی *جب یاد آوت موہے کہ نہ پرت -- جب مجھے آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضری کا منظر یاد آتا ہے * درد اوہ مدینے کا جانا -- کہ تکالیف کی پرواہ کیے بغیر میں مدینے جا رہا تھا
مفہوم و تشریح
ہائے افسوس کہ مدینہ شریف میں قیام کے لیے چند گھڑیاں ملیں ۔ جو گزر بھی گئیں اب حالت یہ ہے کہ ۔
؂ جب یاد مدینہ آتا ہے دل خون کے آنسو روتا ہے
بے درد زمانہ کیا جانے اس دید میں کیا کیا ہوتا ہے                       
یوں محسوس ہوتا کہ ابھی کل ہی بات ہے میں سفر کی سختیوں کی پرواہ کیے بغیر مدینے شریف حاضری کے لیے آ رہا تھا دل مچل رہا تھا پاؤں    زبانِ حال سے کہہ رہے تھے کہ احمد رضاؒ جلدی چلو اور جلدی جلدی مدینہ شریف پہنچنا ہے مگر آہ اب واپس جانے کا وقت آ گیا ہے یارسول ﷺ آپ کے روضہ انور کی یاد دل کو بے قرار رکھے گی۔ آپ ﷺ کے روضہ انور کے پرکیف نظاروں کے بنا دل نہیں لگے گا

(شعر نمبر06) یَاقَافِلَتِیْ زِیْدِیْ اَجَلَکْ رحمے بر حسرت نشنہ لبک



نعت شریف نمبر06 
(شعر نمبر06)
یَاقَافِلَتِیْ زِیْدِیْ اَجَلَکْ رحمے بر حسرت نشنہ لبک
مورا جیرا الرجے دَرک دَرک طیبہ سے ابھی نہ سنا جانا                    
مشکل الفاظ کے معنی
*یَاقَافِلَتِیْ زِیْدِیْ اَجَلَکُ -- اے میرے قافلے والو! اپنے قیام کی مدت زیادہ کرو * رحمے بر حسرت نشنہ لبک -- حسرت کے مارے پیاسے لبوں پہ رحم کور *مورا جیرا الرجے دَرک دَرک -- میرا دل گھبرا رہا ہے لرز رہا ہے * طیبہ سے ابھی نہ سنا جانا -- مدینے سے جانے کی خبر ابھی نہ سنا 
مفہوم و تشریح 
اے قافلے والے میرے ساتھیو! خدا کے لیے مدینہ کا قیام بڑھا دو کیونکہ تم مدینہ سے جانے کی بات کرتے ہو تو میرا دل گھبرا کر دھڑک        دھڑک کرتا ہے اور جان نکل نکل جاتی ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں جب اعلیٰ حضرت ؒ جیسا عاشق رسول ﷺ مدینہ چھوڑتا ہو گا تو اس کی مذکورہ حالت ہی ہوتی ہو گی کیونکہ ہم جیسے نکمے بھی اپنے آپ کو نہیں سنبھال سکتے، وہ تو پھر ہمارے امام ہیں مدینہ منورہ چھوڑنے کو تو جانوروں 
اور بچوں کا دل نہیں چاہتا وہ تو پھر مجدد دین و ملت ہیں ان کی یہ حالت کہوں نہ ہو۔
حضرت پیر جماعت علی شاہ محدث علی پوری رحمۃاللہ علیہ کو مدینہ میں ایک یتیم بچہ روتا ہوا ملا جس کا کوئی والی وارث نہ تھا آپؒ نے فرمایا    
 چل میرے ساتھ پاکستان تجھے ہر نعمت ملے گی اس نے رو کر روضہ پاک کی طرف اشارہ کر کے پوچھا یہ منظر بھی دیکھنے کو ملے گا تو چلتا ہوں ورنہ دنیا کی بادشاہی کو مدینہ کی گدائی پہ قربان کرتا ہوں جب بچوں کی یہ حالت ہے تو کشتہء عشق رسول ﷺ کی مذکورہ حالت کیوں نہ ہو۔
حضرت مولانا سردار احمد صاحب محدث اعظم پاکستان کے پاس مدینہ شریف میں ایک بندہ روتا ہوا آیا کہ حضرت عجیب واقعہ ہوا ۔ فرمایا بیان کرو! عرض کیا میں نے روضہ پاک کے پاس ایک بلی بیٹھی دیکھی جو مجھے بہت پیاری لگی میں نے ارادہ کیا کہ اس کو مدینہ شریف سے پاکستان لے جاؤں گا رات کو سویا کہ حضور ﷺ کا دربار لگا ہوا ہے اور بلی میری شکایت کر رہی ہے کہ حضور !ﷺ یہ مجھے مدینہ پاک سے پاکستان لے جانا چاہتا ہے۔
؂ ایک بیدم ہی نہیں تیار مرنے کے لیے
 جو ترے کوچے میں ہے وہی کفن پردوش ہے                  

(شعر نمبر05) اَنَا فِی عَطَشِ وَّسَخَاکَ اَلَّمُ اے گیسوئے پاک اے ابر کرم



نعت شریف نمبر06 
(شعر نمبر05)
اَنَا فِی عَطَشِ وَّسَخَاکَ اَلَّمُ اے گیسوئے پاک اے ابر کرم 
برسن ہارے رم جھم رم جھم دو بوند ادھر بھی گرا جانا                           
مشکل الفاظ کے معنی
*اَنَا فِی عَطَشِ وَّسَخَاکَ اَلَّمُ -- میں پیاسا ہوں اور آپ کی سخاوت کامل و اکمل ہے * اے گیسوئے پاک اے ابرکرم -- اے باک گیسو کے بادلو *برسن ہارے رم جھم رم جھم -- ہلکی بارش برسانے والو * دو بوند ادھر بھی گرا جانا -- ادھر میرے اوپر بھی دو قطرے گرا دو۔ 
مفہوم و تشریح
اے میرے آقا ! ﷺ میں تو (آپ ﷺ کے ہجر و فراق کی ) پیاس سے مر رہا ہوں اور آپ ﷺ کی سخاوت میں بھی کوئی شک نہیں (جس کو چاہیں نواز سکتے ہیں ) آپ ﷺ اپنے کرم کی ہمیشہ برسنے والی بارش سے میرے دامن میں بھی دو قطرے گر ا دیں (ورنہ دنیا کیا کہے گی کہ دیکھو امام الا بنیاء کا منگتا پھرتا ہے مارا مارا) اس سے آپ ﷺ کی سخاوت پر حرف آئے گا ۔ 
ایک جگہ اعلیٰ حضرت ؒ فرماتے ہیں 
؂ تیرے صدقے مجھے اک بوند بہت ہے تیری
جس دن اچھوں کو ملے جام چھلکتا تیرا                          
بحر ساحل کا ہوں سائل ، نہ کنویں کا پیاسا
خود بجھا جائے کلیجا میرا چھینٹا تیرا                          

(شعر نمبر04) لَکَ بَدْرُ فِی الْوَجْہِ الَا جْمَلْ خط ہالہء مہ زُلف ابرِا جل




نعت شریف نمبر06
(شعر نمبر04)

لَکَ بَدْرُ فِی الْوَجْہِ الَا جْمَلْ خط ہالہء مہ زُلف ابرِا جل
تورے چندن چندر پر و کنڈل رحمت کی برن برسا جانا                            
مشکل الفاظ کے معنی
*لَکَ بَدْرُ فِی الْوَجْہِ الَا جْمَلْ -- آپ کے چہرہ حسین میں چودھویں رات کا چاند طلوع ہوتا دکھائی دیتا ہے * خط ہالہء مہ زُلف ابرِاجل -- داڑھی مبارک چاند کے گرد ھالہ (حلقہ) لگتا ہے اور زلف مبارک تقدیر کا زبردست بادل ہے *تورے چندن چندر پرو کنڈل-- صندل جیسے چہرے پر یہ کنڈل ( بتا رہا ہے) *چنن -- صندل کی خوشبودار لکڑی * چندر -- چاند 
مفہوم و تشریح
اے میرے آقا ! ﷺ آپ کا حسین و جمیل چہرہ اقدس تو چودھویں کا چاند لگتا ہے اور آپ کی داڑھی مبارک چاند کے گرد ہالہ کا منظر پیش کر رہی ہے اور شنا ہے کہ چاند کے گرد ہالہ پڑ جائے تو بارش ضرور ہوتی ہے لہٰذا مجھ غریب و بے کس پر اپنی رحمت کی بارش برسا جایئے۔
اس شعر میں حضور علیہ السلام سے آپ ﷺ کی عطاؤں کی درخواست کی گئی ہے جو دنیا میں بارش کی طرح برستی ہیں اور آخرت میں تو یہ بارش اور موسلادھار ہو جائے گی آپ ﷺ نے فرمایا۔
یرغب الی الخلق کلھم حتی ابراھیم ( مسلم شریف ص ۲۷۳)
تمام مخلوق میری ہی طرف (بروز قیامت ) آئے گئی حتی کہ ابراہیم علیہ السلام بھی
؂ وصاف ہے جو سرور گیتی پناہ کا 
طالب ہے مال و زر کا شرف کا نہ جاہ کا                  
؂ یاں سر نگوں ہوئی ہیں جہاں بھر کی عظمتیں
 یاں سر جھکا ہوا ہے ہر اک کجکلاو کا              
شفا شریف میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔
اما ترضون ان یکون ابراھیم و عیسی فیکم یوم القیمۃ۔
کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ قیامت کے دن ابراہیم و عیسی علیہا السلام بھی تمہارے ساتھ میری امت میں شامل ہوں اور ابراہیم علیہ السلام کہہ رہے ہوں گے۔
انت دعوتی و ذریتی فاجعلنی من امتک ( ص۱۳۱ ج ۱)
آپ تو میری دعا اور اولاد ہیں مجھے اپنی امت میں شامل کر لیجئے
؂ وہ جہنم میں گیا جو اُن سے مستغنی ہوا
 ہے خلیل اللہ کو حاجت رسول اللہ کی                     

Sunday, 11 June 2017

(شعر نمبر03) یَاشَعْسُ نَظَرْتِ اِلٰی لَیْلیْ چو طیبہ رسی عرضے بکنی



نعت شریف نمبر06 (شعر نمبر03)
یَاشَعْسُ نَظَرْتِ اِلٰی لَیْلیْ چو طیبہ رسی عرضے بکنی
توری جوت کی جھل جھل جگ میں رچی مری شب نے دن ہونا جانا                       
مشکل الفاظ کے معنی
*یَاشَعْسُ نَظَرْتِ اِلٰی لَیْلیی -- اے سورج تو نے میری رات کو دیکھا(اف اللہ سورج کے سامنے بھی رات ہی رہی ، مصائب کی سختی و کثرت کی طرف اشارہ *چو طیبہ رسی عرضے بکنی -- جب تو مدینہ سے گزرے تو میری حالت میرے محبوب کے سامنے بیان کر دینا * توری جوت کی جھلجھل جگ میں رچی -- آپ کے نور سے تو تمام جہان روشن ہیں *مری شب نے دن ہونا جانا -- مگر میری رات ہے کہ دن ہونے کا نام نہیں لیتی * جوت -- روشنی *جھلجھل -- تیز روشنی
مفہوم و تشریح
اے دوپہر کے سورج تو نے تو میری ( مشکلات کی) رات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ تیرے ہوتے ہوئے بھی دن نہ ہوا لہٰذا جب میرے محبوب ﷺ کی نگری سے گزرے تو میرے حبیب ﷺ کو (میری حالت ذار) عرض کر دینا کہ آقا ﷺ آپ کے نور نے تو زمانہ روشن کر دیا لیکن میں ابھی تک ( ہجر و فراق کی) کی تاریکی میں ڈوبا ہوا ہوں اور میری ( آپ ﷺ سے دوری ) رات ( ابھی تک آپ ﷺ کی بارگاہ کی حاضری سے) دن نہ ہوئی۔

(شعر نمبر02) اَلْبَحْرُ عَلَاوَ الْمَرْجُ طَغٰی



نعت شریف نمبر06 
(شعر نمبر02)
اَلْبَحْرُ عَلَاوَ الْمَرْجُ طَغٰی من بے کس و طوفان ہوش ربا
منجد ہار میں ہوں بگڑی ہے ہوا موری نیا پار لگا جانا                            
مشکل الفاظ کے معنی
*اَلْبَحْرُ عَلَاوَ الْمَرْجُ طَغٰی -- سمندر اونچا (گہرا) ہے ار موجیں طغیانی پر *من بے کس و طوفان ہوش ربا -- میں عاجزہوں اور طوفان ہوش اڑا رہا ہے * منجد ہار میں ہوں بگڑی ہے ہوا -- میں بھنور میں پھنس گیا ہوں اور ہوا مخالف سمت سے چل رہی ہے *موری نیا پار لگا جانا -- آقا میری کستی کنارے پر لگا دیں 
مفہوم و تشریح
(بد عملی اور بد عقیدگی کا) سمندر طغیانی پر ہے اور میں اکیلا اس ( ان بدعقیدہ لوگوں کے ساتھ چومکھی لڑائی) میں گھرا ہوا ہوں (گویا ) کشتی بھنور میں پھنسی ہوئی ہے خدارا میری مدد فرما کر ( اس مقابلہ میں کامیاب کر کے) میری کشتی کنارے لگا دیجئے۔ اعلیٰ حضرت نے اپنی اس مجبوری کا ذکر ایک اور جگہ بھی کیا ہے ، فرماتے ہیں۔
؂ اک طرف اعدائے دیں ایک طرف حاسدیں
بندہ ہے تنہا شہا تم پہ کروڑوں درود                                       

Friday, 9 June 2017

(شعر نمبر01) لَمْ یَاْتِ نَظِیْرُکَ فَیْ نَظَرٍ



نعت شریف نمبر06 
(شعر نمبر01)
لَمْ یَاْتِ نَظِیْرُکَ فَیْ نَظَرٍ مثل تو شد پیدا جانا
جگ راج کو تاج تورے سر سو ہے تجھ کو شہ دوسرا جانا                        
مشکل الفاظ کے معنی
*لَمْ یَاْتِ نَظِیْرُکَ فَیْ نَظَر -- حضور ﷺ کا مثل کسی کو نظر نہ آیا کیونکہ ہے ہی نہیں *ٍ مثل تو شد پیدا جانا -- اے محبوب آپ کی طرح کا کوئی پیدا ہی نہیں ہوا * جگ راج کر تاج تورے سر سو ہے -- سارے جہاں کا تاج آپ ﷺ ہی کے سر پر سجتا ہے۔ ہم نے جان لیا کہ آپ دونوں جہانوں کے بادشاہ ہیں 
مفہوم و تشریح
یا رسول اللہ ! ﷺ آپ جیسا تو کبھی نہ دیکھا گیا نہ آئیندہ دیکھا جائے گا کیونکہ
؂ او سچا ای رب نے توڑ دتا جیدے وچہ محمد نو ڈھا لیا سی
اللہ رب العزت نے آپ ﷺ جیسا کوئی پیدا ہی نہیں فرمایا۔ جہانوں کی بادشاہی آپ کو ہی سجتی ہے اس لیے ہم نے آپ ﷺ کو جہانوں کا بادشاہ مان لیا ہے۔ مطلع میں حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے عقیدے کی ترجمانی واضع نظر آ رہی ہے انہوں نے حضور ﷺ کی شان میں عرض کیا۔
؂ واحس منک لم ترقط عینی                   واجمل منک لم رلدا النساء
خلقت مبرامن کل عیب                      کانک قد خلقت کما تشاء    
 
ا
ے میرے آقا ! ﷺ آپ جیسا حسین تو میری آنکھ نے دیکھا ہی نہیں اور دیکھے بھی کیسے کہ آپ جیسا حسین و جمیل کسی ماں نے جنا ہی نہیں۔ آپ ہر عیب سے پاک پیدا کیے گئے ۔ گویا آپ اپنی مرضی سے بنائے گئے۔