https://web.facebook.com/imranrizvi9292 + Dushman-e-Ahmad pe shiddat kijiye + Mulhidon ki kya murawat kijiye + Zikr un ka cheriye har baat mein + Cherna shaytaan ka aadat kijiye + Ghaiz mein jal ja'ein be'deno K dil. + Yaa Rasool Allah (S.A.W) ki Kasrat kijiye + Misl-e Faras zalzalay hoon Najd mein + Zikr-e Aayaat-e Wiladat kijiye
Showing posts with label Rubai (Ala Hazrat). Show all posts
Showing posts with label Rubai (Ala Hazrat). Show all posts
Wednesday, 22 March 2017
(رباعی نمبر 08) یہ شہ کی تواضع کا تقاضا ہی نہی
(رباعی نمبر 08)
یہ شہ کی تواضع کا تقاضا ہی نہیں
تصویر کھنچے ان کو گوارا ہی نہیں
معنی ہیں یہ مانی کہ کرم کیا مانے
کھنیچنا تو یہاں کسی سے ٹھہرا ہی نہیں
مشکل الفاظ کے معنی
*شہ --بادشاہ * تو اضع -- عاجزی * تقاضا -- طلب *گوارا--پسند * معنی -- مطلب، مقصد مفہوم و تشریح
تصویر نہ بن سکنے کی دوسری وجہ بیان ہو رہی ہے اور وہ یہ کہ ہمارے آقا ﷺ کی عاجزی و انکساری بے مثل و بے مثال ہی بھلا وہ کب چاہیں گے کہ میری تصویر بنے ( اور اس کی پوجا پاٹ شروع ہو جائے) یا پھر حضور ﷺ کے کرم نے یہ پسند ہی نہ کیا کہ تصویر کھنچے ، دراصل بات یہ ہے کہ ،،کھنیچنا،، کا لفظ ہی اس بارگاہ میں نہیں ہے کیونکہ کھنیچنا میں تو ،،لینے،، کا مفہوم پایا جاتا ہے جب کہ آپ تو ہر کسی کو دینے والے ہیں۔
رسول خدا کی ثنا ہم کریں گے پڑھیں گے درود اور دعا ہم کریں گے
رہیں گے رہِ مصطفی ہی کے راہی یہ جیسے بھی ممکن ہوا ہم کریں گے
(رباعی نمبر 09) ہوں اپنے کلام سے نہایت محظوظ
(رباعی نمبر 09)
ہوں اپنے کلام سے نہایت محظوظ
بیجا سے ہے اَلُمِنَّۃُ لَلّٰہِ محفوظ
قرآن سے میں نے نعت گوئی سیکھی
یعنی رہے احکامِ شریعت ملحوظ
مشکل الفاظ کے معنی
*نہایت --بہت زیادہ * محظوظ -- لذت حاصل کرنے والے * بے جا -- بلا وجہ * اَلُمِنَّۃُ لَلّٰہِ --اللہ کے احسان و کرم سے( کلمہ ء شکر) * محفوظ -- بچاہوا * نعت گوئی -- نعت کہنا * احکام --حکم کی جمع * ملحوظ --خیال رکھا گیا
مفہوم و تشریح
میں اپنے کلام ( نعت مصطفی ﷺ ) سے بہت لطف اندوز ہوتا ہے اور لذت حاصل کرتا ہوں کیونکہ میں نے نعت رسول ﷺ لکھنے والی قلم سے کسی اور کی تعریف کبھی لکھی ہی نہیں اور اللہ کا احسان ہے کہ حضور ﷺ کی تعریف بھی وہی لکھی ہے جو آپ (ﷺ) کی شایان شان ہے، مبالغہ آرائی اور بے جا تعریف سے مکمل محفوظ رہا ہوں ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ میں نے قرآن مجید سے نعت کہنا سیکھا ہے میرا مطلب ہے شرعی احکام کا پورا پورا خیال رکھا ہے۔
ہوں اپنے کلام سے نہایت محظوظ
بیجا سے ہے اَلُمِنَّۃُ لَلّٰہِ محفوظ
قرآن سے میں نے نعت گوئی سیکھی
یعنی رہے احکامِ شریعت ملحوظ
مشکل الفاظ کے معنی
*نہایت --بہت زیادہ * محظوظ -- لذت حاصل کرنے والے * بے جا -- بلا وجہ * اَلُمِنَّۃُ لَلّٰہِ --اللہ کے احسان و کرم سے( کلمہ ء شکر) * محفوظ -- بچاہوا * نعت گوئی -- نعت کہنا * احکام --حکم کی جمع * ملحوظ --خیال رکھا گیا
مفہوم و تشریح
میں اپنے کلام ( نعت مصطفی ﷺ ) سے بہت لطف اندوز ہوتا ہے اور لذت حاصل کرتا ہوں کیونکہ میں نے نعت رسول ﷺ لکھنے والی قلم سے کسی اور کی تعریف کبھی لکھی ہی نہیں اور اللہ کا احسان ہے کہ حضور ﷺ کی تعریف بھی وہی لکھی ہے جو آپ (ﷺ) کی شایان شان ہے، مبالغہ آرائی اور بے جا تعریف سے مکمل محفوظ رہا ہوں ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ میں نے قرآن مجید سے نعت کہنا سیکھا ہے میرا مطلب ہے شرعی احکام کا پورا پورا خیال رکھا ہے۔
Friday, 17 March 2017
(رباعی نمبر 06) تم جو چاہو تو قسمت کی مصیبت ٹل جائے کیونکہ کہوں ساعت سے قیامت ٹل جائے
(رباعی نمبر 06)
تم جو چاہو تو قسمت کی مصیبت ٹل جائے
کیونکہ کہوں ساعت سے قیامت ٹل جائے
للہ اٹھا رُخِ روشن سے نقاب
مولیٰ مری آئی ہوئی شامت ٹل جائے
مشکل الفاظ کے معنی
*مصیبت --دُکھ، پریشانی * ٹل جا ئے - -رفع دفع ہو جائے* ساعت -- مقررہ وقت *للہ --اللہ کے واسطے *نقاب-- پردہ * شامت نحووست، بدبختی
مفہوم و تشریح
اے میرے آقا ! ﷺ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ قیامت کی مصیبت ٹل جائے اور قیامت قائم ہی نہ ہو لیکن یہ کہہ سکتا ہوں کہ آپ اگر چاہیں تو میری بدبختی کی مصیبت تو ٹل سکتی ہے خدا کے لیے اپنے چہرۂ انور سے پردہ اُٹھاؤ تاکہ اے میرے آقا و مولیٰ! میرے اوپر آئی ہوئی نحوست تو ٹل جائے۔
کدوں تک غم دیاں سَٹاں رہوے گا شاد ایہہ سہندا ایہدا ھُن ہو گیا جثہ اے نیلا یا رسول اللہ ﷺ
(رباعی نمبر 05) کعبہ سے اگر تربتِ شہ فاضل ہے کیوں بائیں طرف اس کے لیے منزل ہے
(رباعی نمبر 05)
کعبہ سے اگر تربتِ شہ فاضل ہے
کیوں بائیں طرف اس کے لیے منزل ہے
ان فکر میں جو دل کی طرف دھیان گیا
سمجھا کہ وہ جسم ہے یہ مرقدِ دل ہے
مشکل الفاظ کے معنی
*تربت شاہ --حضور ﷺ کا مزار پُر انور * فاضل - -فضلیت والا * منزل -- قیام گاہ، رہنے کی جگہ *دھیان -- توجہ *مرقد-- آخری آرام گاہ
مفہوم و تشریح
میں اکثر اس بات پہ غور و فکر کرتا رہتا تھا کہ جب علماء کا اتفاق ہے کہ حضور ﷺ کی قبر انور کعبہ معظمہ سے افضل ہے تو پھر قبر انور کو کعبہ سے دائیں جانب ہونا چاہیے تھا کیونکہ دایاں بائیں سے افضل ہوتا ہے ۔ اسی سوچ و بچار میں رحمۃللعالمین کی رحمت کا جھونکا آیا اور میری توجہ دل کی طرف گئی تو مسئلہ حل ہو گیا کہ دل جو تمام اعضاء جسمانی سے افضل ترین ہے اور (جس کو عرش اللہ کہا گیا ہے) وہ بھی تو بائیں طرف ہوتا ہے، اسی لیے حضور ﷺ کا روضہ مبارک بائیں طرف ہے کہ کعبہ جسم کی طرح ہے اور حضور ﷺ کا مزار انور دل کی مانند ہے۔
درد جامی ملے نعت خالد لکھوں اور انداز احمد رضا چاہیے
کعبہ سے اگر تربتِ شہ فاضل ہے
کیوں بائیں طرف اس کے لیے منزل ہے
ان فکر میں جو دل کی طرف دھیان گیا
سمجھا کہ وہ جسم ہے یہ مرقدِ دل ہے
مشکل الفاظ کے معنی
*تربت شاہ --حضور ﷺ کا مزار پُر انور * فاضل - -فضلیت والا * منزل -- قیام گاہ، رہنے کی جگہ *دھیان -- توجہ *مرقد-- آخری آرام گاہ
مفہوم و تشریح
میں اکثر اس بات پہ غور و فکر کرتا رہتا تھا کہ جب علماء کا اتفاق ہے کہ حضور ﷺ کی قبر انور کعبہ معظمہ سے افضل ہے تو پھر قبر انور کو کعبہ سے دائیں جانب ہونا چاہیے تھا کیونکہ دایاں بائیں سے افضل ہوتا ہے ۔ اسی سوچ و بچار میں رحمۃللعالمین کی رحمت کا جھونکا آیا اور میری توجہ دل کی طرف گئی تو مسئلہ حل ہو گیا کہ دل جو تمام اعضاء جسمانی سے افضل ترین ہے اور (جس کو عرش اللہ کہا گیا ہے) وہ بھی تو بائیں طرف ہوتا ہے، اسی لیے حضور ﷺ کا روضہ مبارک بائیں طرف ہے کہ کعبہ جسم کی طرح ہے اور حضور ﷺ کا مزار انور دل کی مانند ہے۔
درد جامی ملے نعت خالد لکھوں اور انداز احمد رضا چاہیے
Thursday, 16 March 2017
(رباعی نمبر 04) بوسہ گہ اصحاب وہ مہر سامی
(رباعی نمبر 04)
بوسہ گہ اصحاب وہ مہر سامی
وہ شانہء چپ میں اس کی عنبر فانی
یہ طرفہ کہ ہے کعبہ جان و دل میں
سنگِ اسود نصیب رکن شامی
مشکل الفاظ کے معنی
*بوسہ گہ --چومنے کی جگہ * اصحاب - -صحابہ کرام علیھم الرضوان * مہر سا می -- اُبھری ہوئی مہر نبوت جو آپ کے دو کندہوں کے درمیان تھی یا بائیں کندھے پہ جیسا کہ اعلیٰ حضرت نے خود فرمایا * شانہ چپ -- بایاں کندھا *عنبر فانی-- عنبر کی خوشبو سے مہکتی اور عنبر خالص کی شکل جیسی * طرفہ -- عجیب بات * سنگ اسود -- حجر اسود (کالا پتھر جو کعبہ کی دیوار میں نصب ہے) * رُکنِ شامی کعبہ کے ایک کونے کا نام
مفہوم و تشریح
نبی اکرم ﷺ کی پشت انور پر بائیں کندھے کے قریب اُبھری ہوئی مہر نبوت جو عنبر خالص کی خوشبو اور رنگ میں تھی صحابہ کرام علیھم الرضوان اس کو بڑی محبت سے بوسے دیتے تھے۔ عجیب بات کہہ دوں! ہمارے دل اور ہماری جان کا کعبہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات والا صفات ہے اور اس کعبہ کے رُکنِ شامی ( بائیں کندھے) کے پاس حجر اسود ( مہر نبوت کی شکل میں ) نصب ہے
تاڑنے والے بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں پر نہیں ، طاقت پرواز مگر رکھتے ہیں
بوسہ گہ اصحاب وہ مہر سامی
وہ شانہء چپ میں اس کی عنبر فانی
یہ طرفہ کہ ہے کعبہ جان و دل میں
سنگِ اسود نصیب رکن شامی
مشکل الفاظ کے معنی
*بوسہ گہ --چومنے کی جگہ * اصحاب - -صحابہ کرام علیھم الرضوان * مہر سا می -- اُبھری ہوئی مہر نبوت جو آپ کے دو کندہوں کے درمیان تھی یا بائیں کندھے پہ جیسا کہ اعلیٰ حضرت نے خود فرمایا * شانہ چپ -- بایاں کندھا *عنبر فانی-- عنبر کی خوشبو سے مہکتی اور عنبر خالص کی شکل جیسی * طرفہ -- عجیب بات * سنگ اسود -- حجر اسود (کالا پتھر جو کعبہ کی دیوار میں نصب ہے) * رُکنِ شامی کعبہ کے ایک کونے کا نام
مفہوم و تشریح
نبی اکرم ﷺ کی پشت انور پر بائیں کندھے کے قریب اُبھری ہوئی مہر نبوت جو عنبر خالص کی خوشبو اور رنگ میں تھی صحابہ کرام علیھم الرضوان اس کو بڑی محبت سے بوسے دیتے تھے۔ عجیب بات کہہ دوں! ہمارے دل اور ہماری جان کا کعبہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات والا صفات ہے اور اس کعبہ کے رُکنِ شامی ( بائیں کندھے) کے پاس حجر اسود ( مہر نبوت کی شکل میں ) نصب ہے
تاڑنے والے بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں پر نہیں ، طاقت پرواز مگر رکھتے ہیں
(رباعی نمبر 03) اللہ کی سر تا بقدم شان ہیں یہ
(رباعی نمبر 03)
اللہ کی سر تا بقدم شان ہیں یہ
ان سا نہیں انسان وہ انسان ہیں یہ
قرآن تو ایمان بتاتا ہے انہیں
ایمان یہ کہتا ہے مری جان ہیں یہ
مشکل الفاظ کے معنی
*سر تا بقدم --سر سے لے کر پاؤں تک * ان سا - -آپ ﷺ جیسا
مفہوم و تشریح
ہمارے آقا ﷺ سر انور کے بالوں سے لے کر پاؤں مبارک کے ناخنوں تک سراپا شان و معجزہ ہیں۔ آپ ایسے انسان ہیں کہ دنیا میں آپ جیسا انسان ہی نہیں ۔
قرآن تو ہمیں یہ بتاتا ہے حضور علیہ السلام ایمان ہیں مگر جب ایمان سے پوچھا! کہ تو بتا ہمارے آقا کیا ہیں تو ایمان نے وجد میں آ کر کہا
وہ تو میری جان ہیں۔
خَلق میں انسان تھا اور خُلق میں قرآن تھا وہ کہ سر تا پا جمالِ سورہَ رحمن تھا
مدح دانائے سُبُل ، مولائے کل کیا کیجئے خلق پر جن کے شہادت آزا قرآن تھا
سر سے لے کر پاؤں تک تنویر ہی تنویر ہے جیسے منہ سے بولتا قرآن کی تفسیر ہے
محو حیرت ہے یہ دنیا مصطفی کو دیکھ کر وہ مصور کیسا ہو گا جس کی یہ تصویر ہے
اللہ کی سر تا بقدم شان ہیں یہ
ان سا نہیں انسان وہ انسان ہیں یہ
قرآن تو ایمان بتاتا ہے انہیں
ایمان یہ کہتا ہے مری جان ہیں یہ
مشکل الفاظ کے معنی
*سر تا بقدم --سر سے لے کر پاؤں تک * ان سا - -آپ ﷺ جیسا
مفہوم و تشریح
ہمارے آقا ﷺ سر انور کے بالوں سے لے کر پاؤں مبارک کے ناخنوں تک سراپا شان و معجزہ ہیں۔ آپ ایسے انسان ہیں کہ دنیا میں آپ جیسا انسان ہی نہیں ۔
قرآن تو ہمیں یہ بتاتا ہے حضور علیہ السلام ایمان ہیں مگر جب ایمان سے پوچھا! کہ تو بتا ہمارے آقا کیا ہیں تو ایمان نے وجد میں آ کر کہا
وہ تو میری جان ہیں۔
خَلق میں انسان تھا اور خُلق میں قرآن تھا وہ کہ سر تا پا جمالِ سورہَ رحمن تھا
مدح دانائے سُبُل ، مولائے کل کیا کیجئے خلق پر جن کے شہادت آزا قرآن تھا
سر سے لے کر پاؤں تک تنویر ہی تنویر ہے جیسے منہ سے بولتا قرآن کی تفسیر ہے
محو حیرت ہے یہ دنیا مصطفی کو دیکھ کر وہ مصور کیسا ہو گا جس کی یہ تصویر ہے
Tuesday, 14 March 2017
(رباعی نمبر 02) شب لحیہ و شارب ہے رُخِ روشن دنِ
(رباعی نمبر 02)
شب لحیہ و شارب ہے رُخِ روشن دنِ
گیسو و وشب قدرو برات مومن
مژگاں کی صفیں چار ہیں وہ اُبرو ہیں
وَالْفَجْرِ کے پہلو میں لیَالٍ عَشْرٍ
مشکل الفاظ کے معنی
*شب --رات * لحیۂ - -داڑھی مبارک * شارب -- مونچھیں * رخ -- چہرہ *گیسو-- زلف * لیلۃ القدر -- شب برات (شعبان کی پندرھویں رات * مژگاں -- پلکیں * ابرو-- بھویں * والفجر -- صبح صادق * لیَالٍ عَشْرٍ-- دس راتیں
مفہوم و تشریح
سرکار مدینہ ﷺ کی داڑھی مبارک کالی رات کی طرح سیاہ ہے اور اسی طرح مونچھیں مبارک بھی (دو) اور چہرۂ انور روشن دن ہے ( تین ہو گئے) دو گیسوئے مبارک ایک لیلۃ القدر ہے اور دوسرا لیلۃ البرات ہے اہل ایمان کے لیے ( پانچ ہو گئے) چار پلکیں اور اسی صف میں دو بھویں مبارک ہیں (گیارہ ہو گئے) اور یہ گویا تفسیر ہوئی ،، والفجر ولیال عشر،، کی کہ صبح صادق کی قسم اور دس راتوں کی قسم ۔ صبح صادق چہرۂ والضحٰی ہوا اور دس راتیں مذکورہ دس اشیاء ہوئیں یہ ہے نعت مصطفی کا حق ادا کرنا۔ جس کے بارے میں کہا گیا۔
یہی دین و ایماں یہی ہے عبادت دروددوں کی محفل ہمیشہ سجائیں
میں نعتیں پڑھوں جھوم کر اس طرح فرشتے سبھی عرش پر جھوم جائیں(ریاض مدینہ)
شب لحیہ و شارب ہے رُخِ روشن دنِ
گیسو و وشب قدرو برات مومن
مژگاں کی صفیں چار ہیں وہ اُبرو ہیں
وَالْفَجْرِ کے پہلو میں لیَالٍ عَشْرٍ
مشکل الفاظ کے معنی
*شب --رات * لحیۂ - -داڑھی مبارک * شارب -- مونچھیں * رخ -- چہرہ *گیسو-- زلف * لیلۃ القدر -- شب برات (شعبان کی پندرھویں رات * مژگاں -- پلکیں * ابرو-- بھویں * والفجر -- صبح صادق * لیَالٍ عَشْرٍ-- دس راتیں
مفہوم و تشریح
سرکار مدینہ ﷺ کی داڑھی مبارک کالی رات کی طرح سیاہ ہے اور اسی طرح مونچھیں مبارک بھی (دو) اور چہرۂ انور روشن دن ہے ( تین ہو گئے) دو گیسوئے مبارک ایک لیلۃ القدر ہے اور دوسرا لیلۃ البرات ہے اہل ایمان کے لیے ( پانچ ہو گئے) چار پلکیں اور اسی صف میں دو بھویں مبارک ہیں (گیارہ ہو گئے) اور یہ گویا تفسیر ہوئی ،، والفجر ولیال عشر،، کی کہ صبح صادق کی قسم اور دس راتوں کی قسم ۔ صبح صادق چہرۂ والضحٰی ہوا اور دس راتیں مذکورہ دس اشیاء ہوئیں یہ ہے نعت مصطفی کا حق ادا کرنا۔ جس کے بارے میں کہا گیا۔
یہی دین و ایماں یہی ہے عبادت دروددوں کی محفل ہمیشہ سجائیں
میں نعتیں پڑھوں جھوم کر اس طرح فرشتے سبھی عرش پر جھوم جائیں(ریاض مدینہ)
Tuesday, 7 March 2017
(رباعی نمبر 24) نور رُخ سرور کا عجب جلوہ ہے
(رباعی نمبر 24)
نور رُخ سرور کا عجب جلوہ ہے
آٹھوں پہر اس کوچے میں دن رہتا ہے
یہ شام مدینہ نہ سمجھ اے دل
آہ دِل عاشق کا دھواں چھایا رہتا ہے
مشکل الفاظ کے معنی
* رُخ سرور --( نبیوں کے) سردار کا چہرہ * عجب - -حیران کن * جلوہ -- دیدار ،نظارہ،روشنی *آٹھوں پہر-- چوبیس گھنٹے، دن رات ،ہر وقت *کوچہ-- گلی، چھوٹا راستہ *آہ-- (دل عاشق کی)حسرت اور ارمانوں سے بھرپور سانس
مفہوم و تشریح
آقائے دو جہاں ، سرورِ سروراں، دستگیر بے کساں، شاہ مرسلاں ﷺ کے رُخ انور کا دیدار بھی کتنا حیران کن ہے کہ مدینہ کے گلی کوچوں میں آپ کے چہرے کے نور سے ہر وقت دن کا سماں رہتا ہے۔ اور اے میرے نا سمجھ دل! اگر تجھے کبھی دھند لا ہٹ اور اندھیرا سا محسوس ہو تو یہ نہ سمجھنا کہ رات چھا گئی ہے یہ تو عاشقان مصطفی ﷺ کے دل کی آہوں کا دھواں ہے۔
جب مدینے کی بات ہوتی ہے وجد میں کائنات ہوتی ہے
لیلہ القدر کو بھی جو شرما دے وہ مدینے کی رات ہوتی ہے
نور رُخ سرور کا عجب جلوہ ہے
آٹھوں پہر اس کوچے میں دن رہتا ہے
یہ شام مدینہ نہ سمجھ اے دل
آہ دِل عاشق کا دھواں چھایا رہتا ہے
مشکل الفاظ کے معنی
* رُخ سرور --( نبیوں کے) سردار کا چہرہ * عجب - -حیران کن * جلوہ -- دیدار ،نظارہ،روشنی *آٹھوں پہر-- چوبیس گھنٹے، دن رات ،ہر وقت *کوچہ-- گلی، چھوٹا راستہ *آہ-- (دل عاشق کی)حسرت اور ارمانوں سے بھرپور سانس
مفہوم و تشریح
آقائے دو جہاں ، سرورِ سروراں، دستگیر بے کساں، شاہ مرسلاں ﷺ کے رُخ انور کا دیدار بھی کتنا حیران کن ہے کہ مدینہ کے گلی کوچوں میں آپ کے چہرے کے نور سے ہر وقت دن کا سماں رہتا ہے۔ اور اے میرے نا سمجھ دل! اگر تجھے کبھی دھند لا ہٹ اور اندھیرا سا محسوس ہو تو یہ نہ سمجھنا کہ رات چھا گئی ہے یہ تو عاشقان مصطفی ﷺ کے دل کی آہوں کا دھواں ہے۔
جب مدینے کی بات ہوتی ہے وجد میں کائنات ہوتی ہے
لیلہ القدر کو بھی جو شرما دے وہ مدینے کی رات ہوتی ہے
پرواز میں جب مدحت شاہ میں آؤں
(رباعی نمبر 25)
پرواز میں جب مدحت شاہ میں آؤں
تا عرش پَر فکر رسا سے جاؤں
مضمون کی بندش تو میسر ہے رضاؔ
کافی کا دردِ دل کہاں سے لاؤں
مشکل الفاظ کے معنی
*پرواز --اُڑان * مدحت - -تعریف و توصیف * تا -- تک * پَر -- پرندے کا بازو (جس کے زریعے وہ پرواز کرتا ہے *فکر رسا-- انجام تک پہنچے والی فکر اور سوچ * مضمون -- عنوان، سرنامہء بیان * بندش -- ھسن ترتیب، پابندی * میسر حاصل * کافی سید کفایت علی کافی رحمۃ اللہ علیہ شہید جنگ آزادی
مفہوم و تشریح
جب میں اپنے آقا و مولیٰ ﷺ کی عظمت و شان کو بیان کرنا شروع کرتا ہوں تو اپنی فکرِ رسا (نتیجہ تک پہنچے والی سوچ ) کے ذریعے عرش تک پرواز کرتا ہوں ۔ اپنے نبی ﷺ کی شان میں لفظوں کو خوب اچھے طریقے سے جوڑ لیتا ہوں مگر حضرت کافی علیہ الرحمۃ کا درد کہاں سے لاؤں ۔
سبحان اللہ ! اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ کس قدر وسیع الظرف تھے کہ اتنے بڑے صاحب دل ہو کر آپ کی عاجزی ملاخظہ فرمائیں اور دوسروں کی حوصلہ افزائی فرمانے کے سچے جذبے پہ غور کریں ۔ بڑے لوگوں کی یہی نشانی ہوتی ہے ، ایک جگہ آپ نے حضرت کافی علیہ الرحمۃ کو یوں خراج تحسین پیش فرمایا۔
کافی سلطان نعت گویاں ہے رضا انشاء اللہ میں ہوں وزیراعظم ( رحمۃ اللہ علیھما)
پرواز میں جب مدحت شاہ میں آؤں
تا عرش پَر فکر رسا سے جاؤں
مضمون کی بندش تو میسر ہے رضاؔ
کافی کا دردِ دل کہاں سے لاؤں
مشکل الفاظ کے معنی
*پرواز --اُڑان * مدحت - -تعریف و توصیف * تا -- تک * پَر -- پرندے کا بازو (جس کے زریعے وہ پرواز کرتا ہے *فکر رسا-- انجام تک پہنچے والی فکر اور سوچ * مضمون -- عنوان، سرنامہء بیان * بندش -- ھسن ترتیب، پابندی * میسر حاصل * کافی سید کفایت علی کافی رحمۃ اللہ علیہ شہید جنگ آزادی
مفہوم و تشریح
جب میں اپنے آقا و مولیٰ ﷺ کی عظمت و شان کو بیان کرنا شروع کرتا ہوں تو اپنی فکرِ رسا (نتیجہ تک پہنچے والی سوچ ) کے ذریعے عرش تک پرواز کرتا ہوں ۔ اپنے نبی ﷺ کی شان میں لفظوں کو خوب اچھے طریقے سے جوڑ لیتا ہوں مگر حضرت کافی علیہ الرحمۃ کا درد کہاں سے لاؤں ۔
سبحان اللہ ! اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ کس قدر وسیع الظرف تھے کہ اتنے بڑے صاحب دل ہو کر آپ کی عاجزی ملاخظہ فرمائیں اور دوسروں کی حوصلہ افزائی فرمانے کے سچے جذبے پہ غور کریں ۔ بڑے لوگوں کی یہی نشانی ہوتی ہے ، ایک جگہ آپ نے حضرت کافی علیہ الرحمۃ کو یوں خراج تحسین پیش فرمایا۔
کافی سلطان نعت گویاں ہے رضا انشاء اللہ میں ہوں وزیراعظم ( رحمۃ اللہ علیھما)
آتے رہے انبیاء کَمَا قِیْلَ لَھُمْ وَالْخَاتَمُ حَقُّکُمْ کہ خاتم ہوئے تم
(رباعی نمبر 01)
آتے رہے انبیاء کَمَا قِیْلَ لَھُمْ وَالْخَاتَمُ حَقُّکُمْ کہ خاتم ہوئے تم
یعنی جو ہو ا دفتر تنزیل تمام آخر میں ہوئی مہر کہ اکْمَلْتُ لکُمْ
مشکل الفاظ کے معنی
*انبیاء --نبی کی جمع ، غیب کی خبر دینے والے * کَمَا قِیْلَ لَھُمْ - -جیسا کہ ان کے بارے میں فرمایا گیا * وَالْخَاتَمُ حَقُّکُمْ -- آخری نبی ہوناآپ ﷺ کا حق ٹھہرا اور آپ خاتم النبین ہوئے * دفتر تنزیل -- آسمانی کیابوں کا رجسٹر * اکْمَلْتُ لکُمْ-- تمہارے میں نے لیے مکمل کر دیا(تمہارا دین)
مفہوم و تشریح
انبیاء کرام علیھم السلام کی آمد کا سلسلہ جو حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا جیسا کہ قرآن و حدیث میں بیان کیا گیا ، اور سب نبیوں کے آخر میں آنے کا اعزاز ہمارے آقا محمد رسول اللہ ﷺ کے حصے میں آیا اور اللہ نے ختم نبوت کا تاج آپ کے سر پر سجایا۔ مطلب یہ ہے کہ جب آسمانی کتابوں کا سلسلہ قرآن مجید پہ آ کر مکمل ہوا تو آخر میں مہر لگا دی گئی کہ الیوم اکملت لکم اینکم ۔کہ آج میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا۔ اس میں اس آیت کے سب سے آخر میں نازل ہونے کہ طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔
خاتم الا نبیاء ہے تو شفیع المذنبلن ہے تو تیری ضیائے عشق ہے اہل نظر کی آبرو
تیرے تصورات سے شجر حیات میں نمو ذکر جمیل سے تیرے اہل نیاز کا وضو
(عبد الستار جالندھری)
آتے رہے انبیاء کَمَا قِیْلَ لَھُمْ وَالْخَاتَمُ حَقُّکُمْ کہ خاتم ہوئے تم
یعنی جو ہو ا دفتر تنزیل تمام آخر میں ہوئی مہر کہ اکْمَلْتُ لکُمْ
مشکل الفاظ کے معنی
*انبیاء --نبی کی جمع ، غیب کی خبر دینے والے * کَمَا قِیْلَ لَھُمْ - -جیسا کہ ان کے بارے میں فرمایا گیا * وَالْخَاتَمُ حَقُّکُمْ -- آخری نبی ہوناآپ ﷺ کا حق ٹھہرا اور آپ خاتم النبین ہوئے * دفتر تنزیل -- آسمانی کیابوں کا رجسٹر * اکْمَلْتُ لکُمْ-- تمہارے میں نے لیے مکمل کر دیا(تمہارا دین)
مفہوم و تشریح
انبیاء کرام علیھم السلام کی آمد کا سلسلہ جو حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا جیسا کہ قرآن و حدیث میں بیان کیا گیا ، اور سب نبیوں کے آخر میں آنے کا اعزاز ہمارے آقا محمد رسول اللہ ﷺ کے حصے میں آیا اور اللہ نے ختم نبوت کا تاج آپ کے سر پر سجایا۔ مطلب یہ ہے کہ جب آسمانی کتابوں کا سلسلہ قرآن مجید پہ آ کر مکمل ہوا تو آخر میں مہر لگا دی گئی کہ الیوم اکملت لکم اینکم ۔کہ آج میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا۔ اس میں اس آیت کے سب سے آخر میں نازل ہونے کہ طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔
خاتم الا نبیاء ہے تو شفیع المذنبلن ہے تو تیری ضیائے عشق ہے اہل نظر کی آبرو
تیرے تصورات سے شجر حیات میں نمو ذکر جمیل سے تیرے اہل نیاز کا وضو
(عبد الستار جالندھری)
Subscribe to:
Posts (Atom)










