https://web.facebook.com/imranrizvi9292 + Dushman-e-Ahmad pe shiddat kijiye + Mulhidon ki kya murawat kijiye + Zikr un ka cheriye har baat mein + Cherna shaytaan ka aadat kijiye + Ghaiz mein jal ja'ein be'deno K dil. + Yaa Rasool Allah (S.A.W) ki Kasrat kijiye + Misl-e Faras zalzalay hoon Najd mein + Zikr-e Aayaat-e Wiladat kijiye
Showing posts with label Allama khadim Hussain Rizvi. Show all posts
Showing posts with label Allama khadim Hussain Rizvi. Show all posts
Wednesday, 9 January 2019
شطرنج کے مہرے
شطرنج کے مہرے
علامہ خادم حسین رضوی مدظلہ عالی نے حلف نامے میں تبدیلی کرنے پر فیض آبادمیں دھرنا دیا۔ اس وقت پیر نظام الدین جامی، مفتی حنیف قریشی وغیرہ شامل ہوئے۔ ایک عامی نے ختم نبوت کے تحفظ کے لیے کئی راتیں کھلے آسمان تلے گزاریں۔
اسی عامی کی محفل میں آکر پیر نظام الدین جامی صاحب نے نواز حکومت کے خلاف بھڑاس نکالی۔ اور مولانا خادم حسین رضوی کو خوب سراہا۔
اس وقت ایک عام بہت سے سادات اور مفتیان کرام کی جان بنا ہوا تھا کیونکہ اس وقت اس دھرنے سے نواز شریف مخالف قوتوں کو بھی فائدہ ہو رہا تھا یعنی اسٹیبلیشمنٹ اور عمران خان کو سو ایسے پیر اور مفتیان جوش و خروش سے شامل ہوئے ۔
پھر جب عمران خان کے دور حلف نامے میں تبدیلی سے بڑا جرم سرزد ہوا اور آسیہ ملعونہ کو رہا کر دیا گیا تو وہ سب پیر اور مفتی جو نواز دور میں دئیے گئے دھرنے میں شامل ہوکر عاشق رسول بنتے رہے ، خاموش رہے۔
علامہ رضوی نے دھرنا دیا کئی دن دیا بالاخر حکومت نے انکے مطالبات کو تسلیم کرکے ان سے معائدہ کرلیا۔
خاص بات یہ تھی کہ ایجنسیوں کے اشاروں پر ناچنے والے پیروں اور مفتیوں نے عمرانی حکومت اور عدلیہ کے فیصلے کےخلاف دئیے گئے دھرنے کے حق میں ایک بیان تک جاری نہ کیا۔
جس سے پتہ چلا کہ یہ ایجنسیوں کے مہرے ہیں جنہیں وقت کی مناسبت سے استعمال کیا جاتا ہے۔
آسیہ ملعونہ کے خلاف کامیاب دھرنے نے گورا سرکار اور عمرانی حکومت کو دہشت میں مبتلاء کر دیا کہ اس تنظم کی قوت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے اسے روکنا ضروری ہے۔
اس کےلیے پہلے میڈیا پر بھرپور مہم چلائی گئی کردارکشی کی۔اسکے بعد دھوکہ دہی سے کارکنان اور لیڈران کو گرفتار کرلیا گیا۔
انکی گرفتاری پر گورا سرکار اورعمرانی حکومت دونوں خوش تھے کہ اب انکو کچل دیا گیا ہے۔ انکے خلاف آواز بلند کرنے والا کویی نہیں بچا ہے۔
اس پورے عرصےمیں تنظیم المدارس، وفاق المدارس، مولانا فضل الرحمان،مولانا اودنگزیب فاروقی وغیرہ نے تحریک لبیک پاکستان کی بےلوث حمایت کا اعلان کیا۔
انکی گرفتاری کے بعد گوراسرکار کے یوتیوب چینل اور بوٹ پالشیوں نے رضوی صاحب کو راء کا ایجنٹ ثابت کرکے ںدنام کرنیکی بھرپور کوشش کی جس میں ناکام رہے۔
اسی اثناء میں
#PTI_Anti_Islam_No_More
کا ایک ٹرینڈ نکلا جس نے حکومت اور گورا سرکار کے کان کھڑےکر دئیے کہ یہ کون لوگ ہیں جو اس ٹرینڈ کو کامیابی سے ہینڈل کرگئے۔
کان کھڑے ہی تھے کہ دوسرا بڑا ٹرینڈ
#IAmKhadimRizvi
سوا دو لاکھ ٹویٹس پر مشتمل نکلا۔
اس ٹرینڈ نے گورا سرکار اور عمرانی حکومت کےچھکے چھڑا دئیے کہ جس تحریک کو ہم مردہ سمجھ رہے تھے اور جسکے بارے میں ہمارا خیال تھا کہ اب بےجان ہوچکی ہے وہی تحریکی ایکدم نئے جذبے کیساتھ پہلے سے زیادہ طاقتور ہوکر ہمارے سامنے کھڑی ہے۔
گورا سرکار نے ان لوگوں کے حوصلے پست کرنے اور تقسیم کرنے کے لیے مولانا آصف جلالی صاحب کو لانچ کیا۔ جب انکی یہ کوشش ناکام نظر آیی تو جلالی صاحب کے استاد عرفان مشہدی صاحب کو لانچ کر دیا۔مشہدی صاحب جو گزشتہ ایک دو سالوں سے گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہے تھے۔نہ ناموس رسالت کے معاملے پر انہوں نے کویی موقف دیا اور نہ ہی ختم نبوت کے تحفظ کے لیے کوئی کردار ادا کیا۔لیکن علامہ خادم حسین رضوی مدظلہ العالی کے خلاف الہ دین کے چراغ کے جن کی طرح اچانک نکل کر سامنے آگئے اور اپنی بھاری بھر کم توپ کا رخ آسیہ ملعونہ یا عمران خان کی جانب کرنے کی بجائے علامہ رضوی کی طرف کرلیا۔
گورا سرکار کی اس توپ نے گولے داغے ضرور مگر اس وقت بے اثر ثابت ہوئے
جب ٹویٹر پر
#IAmMumtazQadri
کے ٹرینڈ نے ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد تویٹس حاصل کیے
اور
#RizviRevolution
نے اڑھائی لاکھ کے قریب ٹویٹس حاصل کیےاور وہ بھی ایک دن کے چند گھنٹوں میں۔
یہ سب دیکھ کر گورا سرکار ہکا بکا رہ گئی۔ گورا سرکار سمجھ گئے کہ انکے سابقہ مہرے مقررہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
اس لیے اب ضروری ہے کہ ان سے بھی بڑے مہرے کو سامنے لایا جائے سو گورا سرکار نے پیر نظام الدین جامی صاحب کو سامنے لائی
پیر نظام الدین جامی صاحب نے ختم نبوت کانفرنس میں ختم نبوت کے منکر مرزا غلام احمد قادیانی ملعوں، قادیانیوں اور گستاخہ آسیہ ملعونہ کو ہٹ کرنا تھا کانفرنس کے نام کے حساب سے
لیکن جامی صاحب کی توپوں کا رخ علامہ خادم حسین رضوی کی جانب رہا۔ اس توپ سے جو بھی گولا نکلا اسکا ٹارگٹ صرف رضوی صاحب تھے۔ جامی صاحب کو یہ ٹارگٹ ایک لکھے گئے کاغذ کے ذریعے بتایا گیا تھا۔ جوں جوں جامی صاحب کاغذ کو اوپر کرتے جاتے توپ سے گولے برستے جاتے۔
خیر ایجنسی اپنے شطرنج کے مہرے باری باری سامنے لا رہی ہے۔
ڈالروں اور پاؤنڈز کی خاطرمسلمانوں کا خون بہانے والوں کا خون مسلم سے جی نہیں بھرا تھا اس لیے انہوں ناموس رسالت کا سودا کرلیا۔
اب سودے کی تکمیل میں سب سے بڑی رکاوٹ رضوی کو ہٹانا چاہتے ہیں تاکہ اپنے غیراسلامی کاموں کو کھل کر کرسکیں۔
گورا سرکار کے جنرل نستور و کپور نے تو اب آگے ہی بڑھنگ کا سلوگن لگا دیا ہوا ہے۔ اب تو وہ نیو ائیر نائٹ میں ہونیوالی بےحیائی کو امن کی علامت سمجھتے ہیں
ایسے سیکولر لوگوں کو دین پسند طبقہ ایک آنکھ نہیں بھا سکتا۔ اس لیے انکے خلاف سازشیں ہوتی رہینگی۔
دو تین ٹرینڈ بنے تو اتنے منافق سامنے آئے اگر مزید ٹرینڈ بنے تو اصل منافق گورا سرکار بھی سامنے آ جائیگی
Monday, 7 January 2019
میں تو حق بات ہر حال میں کہوں گا
پیر نظام الدین جامی صاحب نے کہاہے کہ اک عامی شخص کو کیا حق ہے کہ وہ عقیدہ ختم نبوت کا ٹھیکیدار بنے۔
تو سنئیے پیر جی
دراصل یہ ذمہ داری آپ جیسے سادات کی تھی جو کہتے ہیں ہمارے لاکھوں مریدین ہیں اور صرف ہم ہی حق پر ہیں لیکن آپ نے نانا جان کی آبرو کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایک زانیاور قادیانیوں کے حامی کی کھل کر حمائت کی۔
آپ نے آسیہ ملعونہ کی رہائی کے خلاف کتنے مظاہرے کیے اور کب آواز بلند کی؟
جناب ہم تو ٹھہرے عامی آپ تو خاص ہیں آپ کو چاہیے تھا کہ خاصوں والا کردار ادا کرتے۔
آپ عقیدہ ختم نبوت کا دفاع کرنے کی بجائے ڈھول باجے ناچ گانےمیں مصروف ہوگئے ہیں تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے۔
جناب پیر صاحب اگر آپ سادات رنگ برنگی زنانہ کپڑے پہن کر غیرمحرم عورتوں کیساتھ بیٹھ کر ڈھول کی تھاپ سے محفوظ ہوکر ناموس رسالت کے تحفظ سے لاپرواہ ہوجائیں تو اس میں کسی عامی کا کوئی قصور نہیں۔
آپ خاص ہوکر عامیوں جیسے کردار کا بھی مظاہرہ نہ کرسکیں تو دوسروں سے شکوہ کیوں کر رہے ہیں۔
آپ کو اگرعامیوں سے تکلیف ہے تو آپ کو دعوت ہے کہ آپ عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے آگے بڑھیں۔ ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کو تیار ہیں۔
آپ آسیہ ملعونہ کے معاملے پر سٹینڈ لیں ہم آپکا ہر طرح سے ساتھ دینگے۔
آپ حکومت وقت کے غیرشرعی کاموں کی مخالفت کریں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
پیر جامی جی آپ قدم بڑھائیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
پنجاب کے پینڈو مریدوں کو بلا کر کانفرنس کروانا اور ہے اور بڑی بڑی یونیورسٹیوں کالجوں کے لڑکوں اور یورپ امریکہ کے نوجوانوں سے لبیک یا رسول اللہﷺ کے نعرے لگوانا اور ہے
سوچئے اگر آپ نے رقص و موسیقی کی محفلیں جمانے کے علاوہ بھی کوئی کام کیا ہوتا تو
اکیلے عالمی بندے رضوی نے جب لاکھوں لوگوں میں دین کی کڑھن پیدا کر دی ناموس رسالتﷺ پر مر مٹنے کا جذبہ دے دیا تو
پھر آپ جیسے خاص لوگ کیوں رقص و موسیقی یا پھر سیاسی پارٹیوں کے بلے بلے اور تھلے تھلے کرتے رہ گئے
اپنا خاصوں والا کردار کیوں ادا نہیں کیا
یہ قصور آپکا ہے کسی عامی آدمی کا نہیں
اگر قدم بڑھانا آپ کے نصیب میں نہیں ہے اور اللہ نے یہ شرف کسی عامی اور معذور کو عطا کر دیا ہے تو آپ کو سوچنا چاہیے
کہ اللہ نے ایک معذور کو اتنی عزت اور شرف دیدیا آخر مجھ سے کہاں پر کونسی غلطی ہوگئی
جسکی وجہ سے میرے نانا کا دفاع ایک معذور کو سونپ دیا گیا ہے۔
آپ کو شرمندہ ہونا چاہیے تھا نہ کہ ایسی باتیں کرکے اپنے بغض اور جلن کا اظہار کرنا چاہیے تھا
#میں_تو_حق_بات_ہر_حال_میں_کہوں_گا
خادم رضوی اور علماۓ وقت کی تلخیاں
*۔۔۔۔۔۔۔۔ خادم رضوی اور علماۓ وقت کی تلخیاں ۔۔۔۔۔۔*
ایک وجدانی حقیقت
مجھے مشہدی صاحب کے لفظوں پر کوئی تعجب نہیں ۔
مجھے جلالی صاحب کے بغض پر بھی کوئی حیرت نہیں ۔
مجھے جامی صاحب کے بھی خبثِ باطن سے بھی پریشانی نہیں
مجھے علماء میں سے خادم رضوی کے خلاف اٹھنے والی کسی آواز سے کوئی حیرت نہیں ۔۔۔
دراصل مشہدی صاحب جامی صاحب جلالی وغیرہ وغیرہ خود ایک بڑے پختہ عالم رہے ہیں ۔ اور پختہ عالم خادم رضوی صاحب بھی ہیں ۔
یہ خالی دو چار نام نہیں نہیں اور بھی کئی جلیل القدر علماء ہیں جو ساری زندگی مناظرے کرتے رہے یا درس و تدریس یا تالیف و تصنیف یا پھر خطابت کرتے رہے ہیں وہ بھی خادم رضوی صاحب کے بارے میں بڑے دل جلے لفظ کہتے ہیں۔
ارے خدا کے بندو ۔
یہ نفرت سے نہیں کہتے ۔ ان جلیل القدر علماء کو ایک چیز کھاۓ جاتی ہے کہ ہم نے دین کا اتنا کام کیا ۔ ملکوں ملکوں دورے کیے۔مناظرے کیے ۔ غیر مسلموں کو مسلمان کیا۔ بڑے بڑے ادارے کھولے۔کڑوڑوں مرید ایک اشارے پر جان دینے والے بھی ہیں ۔ ہماری خطابتوں کے جوہر مشرق و مغرب اور شمال و جنوب جانتے ہیں۔دنیا کی کئی زبانوں پر عبور حاصل کیا ۔ ہم جہاں بھی گئے علم کے علَم بلند کیے۔عیسائیت ، یہودیت اور اس جیسے کئی مذاھب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ کامیاب مکالمے کیے۔تحفظِ ختمِ نبوت پر تو ہم نے بھی قادیانیت اور دیگر باطل فرقوں کی دھجیاں اڑائیں ہیں۔ہماری مجلسِ وعظ کے احوال کو مکینانِ عرش جانتے ہیں کہ کس طرح گریبان چاک اور ہستیاں خاک ہوتی ہیں۔۔ ہم میں تو کئی ایسے ہیں جو مقاماتِ سلوک کی اعلیٰ ترین منزلیں مارے بیٹھے ہیں۔۔ ۔۔ مگر ۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔۔ مگر۔۔۔
ہاۓ قسمت ۔۔۔ جب ناموسِ مصطفیٰ پر پہرے کی بات آئی ۔۔ تو تقدیر ہم پر سبقت لے گئی۔التفاتِ فضل کے چشموں کا رخ لمحوں میں پھر گیا۔حجاباتِ مشیّت کے ارتفاع نے آنکھوں کو حیرتی کر دیا۔ہمارے رشک پر کم فہموں نے حسد کا اطلاق کر ڈالا۔ہماری نیّتوں کو ایوان و اقتدار کی غلامی سے مشروط کر دیا گیا۔ہوا و ہوس کو ہمارا مقصد کا جزوِلاینفک قرار دیا گیا۔بُھلا دیا گیا کہ ہم ہی وہ وارثانِ علومِ نبوت تھے کہ جنہوں نے ماضی قریب میں کفر و ارتداد کی بنیادیں اکھاڑ پھینکیں تھیں۔ہم ہی تو تھے جنہوں نے ہزاروں علماءکا لشکر آنے والے وقت کے لیے تیار کیا تھا۔مغربی تشکیک کے دھارے میں بہتی ہوئی فکروں کو ہم نے ہی کنارے بخشے تھے۔۔شعور و لا شعور اور تحت و فوقِ شعور سے تعلق رکھنے والی کیفیات و ماہیات کا کلامی و فلسفیانہ اندازِ تدبر ناقص عقلوں کو ہم نے ہی تو سکھایا تھا۔اجتہادی و استنباطی قوتوں کے تعینات ہماری راۓ کے ہی محتاج تھے ۔۔۔
کیا نہیں تھے ہم ۔ یہ تکبر کہاں ۔ یہ تو تحدیثِ نعمت کا بیانیہ ہے ۔کیا ہم میں اب بھی یہ خواہش نہ ابھرتی کہ صحیح استحقاق کا محل ہمارے نفوس ہیں۔
اچانک یہ کیا ہوا ۔ نظامِ میکدہ بدل گیا۔ ہمارا ہی ہم مشرب ۔ ہم مسلک۔معذورِ شرعی۔
جس کی ساری زندگی ضَرَبَ سَمِعَ قَتَلَ کہنے میں گزر گئی۔جس کا ممبر عوامی تقریروں سے زیادہ اونچا نہ ہوا۔جس کو سیاست کے چال چلن کا علم نہیں ۔جو حالاتِ موجودہ کی نزاکتوں سے آشنا نہیں۔۔ ہم کیوں نہ دشت و صحرا کا رخ کریں کہ یہی جوہر اس سعادتِ عظمیٰ کے لیے منتخب ہوا ۔۔۔کیا نیکی تھی اس کے پاس ۔۔۔ کون سا جذبہ تھا اس کے پاس ۔ کس کی دعا اس کو اکرام کے درجے پر لے گئی ۔ چشمِ گریاں کا کون سا آنسو بارگاہِ شفاعت مآب میں ہم جیسے متلاطم و متموج سمندروں پر بازی مار گیا ۔
لحاظِ امر کی تقسیم میں کون سی استعدادی صفت فیضانِ ایزدی کی وسعتوں کو جذب کر گئی ۔
تلوین سے تمکین اور وجد سے جذب تک کے سلسلوں کی زنجیریں موۓ آتش دیدہ کیسے بن گئیں ۔۔
ارے یہ جلیل القدر علماء اسی کشمکش میں خادم رضوی پر رشک کرتے بظاہر ان کے خلاف بات کہتے ہیں مگر اصل حسرت عدمِ سعادت کی وجہ سے ہے ۔۔
میں مشہدی صاحب اور دیگر علماء اہلِ سنت کو سلام پیش کرتا ہوں جو خادم رضوی کے خلاف بولتے ہیں ۔
اور بولو ۔ اور بولو۔ جی بھر کے خلاف بولو میں بھی آپ کے ساتھ ہوں ۔
آؤ مل کے رشک کرتے ہیں ۔۔۔۔ مل کے اپنی تقدیر میں عدمِ سعادت کی وجہ تلاش کرتے ہیں ۔مل کے بارگاہِ ایزدی میں دعا کرتے ہیں کہ ہم کو ناموس رسالت پر پہرے کا ایک لمحہ میسر آجاۓ۔
Monday, 26 June 2017
Friday, 23 June 2017
Thursday, 22 June 2017
Wednesday, 21 June 2017
Tuesday, 20 June 2017
Sunday, 18 June 2017
Saturday, 17 June 2017
(شعر نمبر10) بس خامہ ء خام نوائے رضاؔ نہ یہ طرز مری نہ یہ رنگ مرا
نعت شریف نمبر06
(شعر نمبر10)
بس خامہ ء خام نوائے رضاؔ نہ یہ طرز مری نہ یہ رنگ مرا
ارشاد احبا ناطق تھا ناچار اس راہ پڑا جانا
مشکل الفاظ کے معنی
*بس خامہ ء خام نوائے رضاؔ -- احمد رضا کا کمزور قلم اور اس کی ناتواں صد * نہ یہ طرز مری نہ یہ رنگ مرا -- میرا انداز یہ نہیں ( کہ چار زبانوں میں اشعار لکھوں * ارشاد احبا ناطق تھا -- دوستوں کے اصرار نے مجبور کیا * ناچار اس راہ پڑا جانا -- مجبوراً ان کی فرمائش پوری کرنا پڑی۔
مفہوم و تشریح
میں اس قابل کہاں کہ چار زبانوں میں اشعار لکھوں ( اور وہ بھی نعت مصطفی ﷺ کے) بس دوستوں نے محبت بھرا اصرار کیا تو اپنی ناتجربی کاری کے باوجود مجبوراً چند اشعار کہہ دیے یا احیاء اور ناطق سے مراد دو شعراء میں ایک ناطق نامی شاعر ہو گزرا ہے اور دوسرے حضرت مولانا مجابکھریری آپ کے اجل خلیفہ ہیں جہنوں نے چار زبانوں میں نعت لکھنے کا اصرار کیا تھا۔ سبحان اللہ کیا سچ فرمایا۔
ملک سخن کی شاہی تم کو رضا ؔ مسلم
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں
------***-------
بس خامہ ء خام نوائے رضاؔ نہ یہ طرز مری نہ یہ رنگ مرا
ارشاد احبا ناطق تھا ناچار اس راہ پڑا جانا
مشکل الفاظ کے معنی
*بس خامہ ء خام نوائے رضاؔ -- احمد رضا کا کمزور قلم اور اس کی ناتواں صد * نہ یہ طرز مری نہ یہ رنگ مرا -- میرا انداز یہ نہیں ( کہ چار زبانوں میں اشعار لکھوں * ارشاد احبا ناطق تھا -- دوستوں کے اصرار نے مجبور کیا * ناچار اس راہ پڑا جانا -- مجبوراً ان کی فرمائش پوری کرنا پڑی۔
مفہوم و تشریح
میں اس قابل کہاں کہ چار زبانوں میں اشعار لکھوں ( اور وہ بھی نعت مصطفی ﷺ کے) بس دوستوں نے محبت بھرا اصرار کیا تو اپنی ناتجربی کاری کے باوجود مجبوراً چند اشعار کہہ دیے یا احیاء اور ناطق سے مراد دو شعراء میں ایک ناطق نامی شاعر ہو گزرا ہے اور دوسرے حضرت مولانا مجابکھریری آپ کے اجل خلیفہ ہیں جہنوں نے چار زبانوں میں نعت لکھنے کا اصرار کیا تھا۔ سبحان اللہ کیا سچ فرمایا۔
ملک سخن کی شاہی تم کو رضا ؔ مسلم
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں
------***-------
(شعر نمبر08) اَلْقَلْبُ سَجُٗ وَّالْھَمُّ شَجُوْن دل زار چناں جان زیر چنوں
نعت شریف نمبر06
(شعر نمبر08)
اَلْقَلْبُ سَجُٗ وَّالْھَمُّ شَجُوْن دل زار چناں جان زیر چنوں
پت اپنی بپت میں کاسے کہوں مرا کون ہے تیرے سوا جانا
مشکل الفاظ کے معنی
*اَلْقَلْبُ سَجُٗ وَّالْھَمُّ شَجُوْن -- دل زخمی ہے اور پریشانیاں بے شمار ہیں * دل زار چناں جان زیر چنوں -- دل فریاد کناں ہے جان بہت کمزور ہے *پت اپنی بپت میں کاسے کہوں -- اپنا دکھڑا (آپ ﷺ کے سوا) کس سے کہوں * مرا کون ہے تیرے سوا جانا -- آپ ﷺ کے سوا میرا کون ہے
مفہوم و تشریح
حضرت امام بوصیری علیہ الرحمتہ کے قصیدہ بردہ شریف کے اس شعر کی جھلک ا علیٰ حضرت کے مندرجہ بالا شعر میں آپ کو ملے گی ، امام بوصیری نے عرض کیا ہے۔
یا اکرم الخلو مالی من الو ذبہ
سواک عند حلول الحادث العمم
اعلیٰ حضرت کے شعر کا ترجمہ بھی بعینہ ہی ہے عرض کرتے ہیں اے میرے آقا ! ﷺ میرا دل آپ ﷺ کی جدائی میں بے تاب ہے اور اس پر مزید یہ کہ طرح طرح کے مصائب و آلام نے گھیرا ہوا ہے حضور ! میرا آپ کے سوا کون ہے جس سے میں اپنے دکھ بیان کروں اسی کی ترجمانی کسی نے یوں کی ہے
ہند میں شاہا ہمارا اب نہیں ہوتا گزارا
اَلْقَلْبُ سَجُٗ وَّالْھَمُّ شَجُوْن دل زار چناں جان زیر چنوں
پت اپنی بپت میں کاسے کہوں مرا کون ہے تیرے سوا جانا
مشکل الفاظ کے معنی
*اَلْقَلْبُ سَجُٗ وَّالْھَمُّ شَجُوْن -- دل زخمی ہے اور پریشانیاں بے شمار ہیں * دل زار چناں جان زیر چنوں -- دل فریاد کناں ہے جان بہت کمزور ہے *پت اپنی بپت میں کاسے کہوں -- اپنا دکھڑا (آپ ﷺ کے سوا) کس سے کہوں * مرا کون ہے تیرے سوا جانا -- آپ ﷺ کے سوا میرا کون ہے
مفہوم و تشریح
حضرت امام بوصیری علیہ الرحمتہ کے قصیدہ بردہ شریف کے اس شعر کی جھلک ا علیٰ حضرت کے مندرجہ بالا شعر میں آپ کو ملے گی ، امام بوصیری نے عرض کیا ہے۔
یا اکرم الخلو مالی من الو ذبہ
سواک عند حلول الحادث العمم
اعلیٰ حضرت کے شعر کا ترجمہ بھی بعینہ ہی ہے عرض کرتے ہیں اے میرے آقا ! ﷺ میرا دل آپ ﷺ کی جدائی میں بے تاب ہے اور اس پر مزید یہ کہ طرح طرح کے مصائب و آلام نے گھیرا ہوا ہے حضور ! میرا آپ کے سوا کون ہے جس سے میں اپنے دکھ بیان کروں اسی کی ترجمانی کسی نے یوں کی ہے
ہند میں شاہا ہمارا اب نہیں ہوتا گزارا
لو خبر جلدی خدارا کون ہے آقا ہمارا
اس طرح کے کئی عربی قصائد عاشقان مصطفی ﷺ نے اپنے آقا کی بارگاہ میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے رہے۔ کئی خوش نصیب وہ تھے جن کو روضہ پاک سے جواب بھی ملا۔ اور قربان جائیں حضرت شیخ احمد رفاعی رحمۃ اللہ علیہ پر کہ انہوں نے روضہ پاک پہ حاضر ہو کر سلام عرض کیا تو حضو ر ﷺ نے اپنا دست اقدس روضہ پاک سے باہر نکالا جس کی ہزاروں اولیاء کرام نے جو اس وقت مسجد نبوی میں موجود تھے زیارت کی اور حضرت شیخ رفاعی نے ہاتھ مبارک کا بوسہ لیا ۔ اس موقع پر غوث اعظم شہنشاہ بغداد بھی مسجد نبوی میں ہزاروں ولیوں کے ساتھ موجود تھے (تبلیغی نصاب)
یہ مرتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
اس طرح کے کئی عربی قصائد عاشقان مصطفی ﷺ نے اپنے آقا کی بارگاہ میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے رہے۔ کئی خوش نصیب وہ تھے جن کو روضہ پاک سے جواب بھی ملا۔ اور قربان جائیں حضرت شیخ احمد رفاعی رحمۃ اللہ علیہ پر کہ انہوں نے روضہ پاک پہ حاضر ہو کر سلام عرض کیا تو حضو ر ﷺ نے اپنا دست اقدس روضہ پاک سے باہر نکالا جس کی ہزاروں اولیاء کرام نے جو اس وقت مسجد نبوی میں موجود تھے زیارت کی اور حضرت شیخ رفاعی نے ہاتھ مبارک کا بوسہ لیا ۔ اس موقع پر غوث اعظم شہنشاہ بغداد بھی مسجد نبوی میں ہزاروں ولیوں کے ساتھ موجود تھے (تبلیغی نصاب)
یہ مرتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
Friday, 16 June 2017
(شعر نمبر07) وَاھًا لِسُوِیْعَاتِ ذَھَبَتْ آں عہد حضور بار گہت
نعت شریف نمبر06
(شعر نمبر07)
وَاھًا لِسُوِیْعَاتِ ذَھَبَتْ آں عہد حضور بار گہت
جب یاد آوت موہے کہ نہ پرت درد اوہ مدینے کا جانا
مشکل الفاظ کے معنی
*وَاھًا لِسُوِیْعَاتِ ذَھَبَت -- ہائے افسوس چند ہی گھڑیاں تھیں جو گزر گئیں * آں عہد حضور بار گہت -- آپ ﷺ کی بارگاہ کی حاضری کی *جب یاد آوت موہے کہ نہ پرت -- جب مجھے آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضری کا منظر یاد آتا ہے * درد اوہ مدینے کا جانا -- کہ تکالیف کی پرواہ کیے بغیر میں مدینے جا رہا تھا
مفہوم و تشریح
ہائے افسوس کہ مدینہ شریف میں قیام کے لیے چند گھڑیاں ملیں ۔ جو گزر بھی گئیں اب حالت یہ ہے کہ ۔
جب یاد مدینہ آتا ہے دل خون کے آنسو روتا ہے
بے درد زمانہ کیا جانے اس دید میں کیا کیا ہوتا ہے
یوں محسوس ہوتا کہ ابھی کل ہی بات ہے میں سفر کی سختیوں کی پرواہ کیے بغیر مدینے شریف حاضری کے لیے آ رہا تھا دل مچل رہا تھا پاؤں زبانِ حال سے کہہ رہے تھے کہ احمد رضاؒ جلدی چلو اور جلدی جلدی مدینہ شریف پہنچنا ہے مگر آہ اب واپس جانے کا وقت آ گیا ہے یارسول ﷺ آپ کے روضہ انور کی یاد دل کو بے قرار رکھے گی۔ آپ ﷺ کے روضہ انور کے پرکیف نظاروں کے بنا دل نہیں لگے گا
وَاھًا لِسُوِیْعَاتِ ذَھَبَتْ آں عہد حضور بار گہت
جب یاد آوت موہے کہ نہ پرت درد اوہ مدینے کا جانا
مشکل الفاظ کے معنی
*وَاھًا لِسُوِیْعَاتِ ذَھَبَت -- ہائے افسوس چند ہی گھڑیاں تھیں جو گزر گئیں * آں عہد حضور بار گہت -- آپ ﷺ کی بارگاہ کی حاضری کی *جب یاد آوت موہے کہ نہ پرت -- جب مجھے آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضری کا منظر یاد آتا ہے * درد اوہ مدینے کا جانا -- کہ تکالیف کی پرواہ کیے بغیر میں مدینے جا رہا تھا
مفہوم و تشریح
ہائے افسوس کہ مدینہ شریف میں قیام کے لیے چند گھڑیاں ملیں ۔ جو گزر بھی گئیں اب حالت یہ ہے کہ ۔
جب یاد مدینہ آتا ہے دل خون کے آنسو روتا ہے
بے درد زمانہ کیا جانے اس دید میں کیا کیا ہوتا ہے
یوں محسوس ہوتا کہ ابھی کل ہی بات ہے میں سفر کی سختیوں کی پرواہ کیے بغیر مدینے شریف حاضری کے لیے آ رہا تھا دل مچل رہا تھا پاؤں زبانِ حال سے کہہ رہے تھے کہ احمد رضاؒ جلدی چلو اور جلدی جلدی مدینہ شریف پہنچنا ہے مگر آہ اب واپس جانے کا وقت آ گیا ہے یارسول ﷺ آپ کے روضہ انور کی یاد دل کو بے قرار رکھے گی۔ آپ ﷺ کے روضہ انور کے پرکیف نظاروں کے بنا دل نہیں لگے گا
(شعر نمبر06) یَاقَافِلَتِیْ زِیْدِیْ اَجَلَکْ رحمے بر حسرت نشنہ لبک
نعت شریف نمبر06
(شعر نمبر06)
یَاقَافِلَتِیْ زِیْدِیْ اَجَلَکْ رحمے بر حسرت نشنہ لبک
مورا جیرا الرجے دَرک دَرک طیبہ سے ابھی نہ سنا جانا
مشکل الفاظ کے معنی
*یَاقَافِلَتِیْ زِیْدِیْ اَجَلَکُ -- اے میرے قافلے والو! اپنے قیام کی مدت زیادہ کرو * رحمے بر حسرت نشنہ لبک -- حسرت کے مارے پیاسے لبوں پہ رحم کور *مورا جیرا الرجے دَرک دَرک -- میرا دل گھبرا رہا ہے لرز رہا ہے * طیبہ سے ابھی نہ سنا جانا -- مدینے سے جانے کی خبر ابھی نہ سنا
یَاقَافِلَتِیْ زِیْدِیْ اَجَلَکْ رحمے بر حسرت نشنہ لبک
مورا جیرا الرجے دَرک دَرک طیبہ سے ابھی نہ سنا جانا
مشکل الفاظ کے معنی
*یَاقَافِلَتِیْ زِیْدِیْ اَجَلَکُ -- اے میرے قافلے والو! اپنے قیام کی مدت زیادہ کرو * رحمے بر حسرت نشنہ لبک -- حسرت کے مارے پیاسے لبوں پہ رحم کور *مورا جیرا الرجے دَرک دَرک -- میرا دل گھبرا رہا ہے لرز رہا ہے * طیبہ سے ابھی نہ سنا جانا -- مدینے سے جانے کی خبر ابھی نہ سنا
مفہوم و تشریح
اے قافلے والے میرے ساتھیو! خدا کے لیے مدینہ کا قیام بڑھا دو کیونکہ تم مدینہ سے جانے کی بات کرتے ہو تو میرا دل گھبرا کر دھڑک دھڑک کرتا ہے اور جان نکل نکل جاتی ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں جب اعلیٰ حضرت ؒ جیسا عاشق رسول ﷺ مدینہ چھوڑتا ہو گا تو اس کی مذکورہ حالت ہی ہوتی ہو گی کیونکہ ہم جیسے نکمے بھی اپنے آپ کو نہیں سنبھال سکتے، وہ تو پھر ہمارے امام ہیں مدینہ منورہ چھوڑنے کو تو جانوروں
اے قافلے والے میرے ساتھیو! خدا کے لیے مدینہ کا قیام بڑھا دو کیونکہ تم مدینہ سے جانے کی بات کرتے ہو تو میرا دل گھبرا کر دھڑک دھڑک کرتا ہے اور جان نکل نکل جاتی ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں جب اعلیٰ حضرت ؒ جیسا عاشق رسول ﷺ مدینہ چھوڑتا ہو گا تو اس کی مذکورہ حالت ہی ہوتی ہو گی کیونکہ ہم جیسے نکمے بھی اپنے آپ کو نہیں سنبھال سکتے، وہ تو پھر ہمارے امام ہیں مدینہ منورہ چھوڑنے کو تو جانوروں
اور بچوں کا دل نہیں چاہتا وہ تو پھر مجدد دین و ملت ہیں ان کی یہ حالت کہوں نہ ہو۔
حضرت پیر جماعت علی شاہ محدث علی پوری رحمۃاللہ علیہ کو مدینہ میں ایک یتیم بچہ روتا ہوا ملا جس کا کوئی والی وارث نہ تھا آپؒ نے فرمایا
حضرت پیر جماعت علی شاہ محدث علی پوری رحمۃاللہ علیہ کو مدینہ میں ایک یتیم بچہ روتا ہوا ملا جس کا کوئی والی وارث نہ تھا آپؒ نے فرمایا
چل میرے ساتھ پاکستان تجھے ہر نعمت ملے گی اس نے رو کر روضہ پاک کی طرف اشارہ کر کے پوچھا یہ منظر بھی دیکھنے کو ملے گا تو چلتا ہوں ورنہ دنیا کی بادشاہی کو مدینہ کی گدائی پہ قربان کرتا ہوں جب بچوں کی یہ حالت ہے تو کشتہء عشق رسول ﷺ کی مذکورہ حالت کیوں نہ ہو۔
حضرت مولانا سردار احمد صاحب محدث اعظم پاکستان کے پاس مدینہ شریف میں ایک بندہ روتا ہوا آیا کہ حضرت عجیب واقعہ ہوا ۔ فرمایا بیان کرو! عرض کیا میں نے روضہ پاک کے پاس ایک بلی بیٹھی دیکھی جو مجھے بہت پیاری لگی میں نے ارادہ کیا کہ اس کو مدینہ شریف سے پاکستان لے جاؤں گا رات کو سویا کہ حضور ﷺ کا دربار لگا ہوا ہے اور بلی میری شکایت کر رہی ہے کہ حضور !ﷺ یہ مجھے مدینہ پاک سے پاکستان لے جانا چاہتا ہے۔
ایک بیدم ہی نہیں تیار مرنے کے لیے
حضرت مولانا سردار احمد صاحب محدث اعظم پاکستان کے پاس مدینہ شریف میں ایک بندہ روتا ہوا آیا کہ حضرت عجیب واقعہ ہوا ۔ فرمایا بیان کرو! عرض کیا میں نے روضہ پاک کے پاس ایک بلی بیٹھی دیکھی جو مجھے بہت پیاری لگی میں نے ارادہ کیا کہ اس کو مدینہ شریف سے پاکستان لے جاؤں گا رات کو سویا کہ حضور ﷺ کا دربار لگا ہوا ہے اور بلی میری شکایت کر رہی ہے کہ حضور !ﷺ یہ مجھے مدینہ پاک سے پاکستان لے جانا چاہتا ہے۔
ایک بیدم ہی نہیں تیار مرنے کے لیے
جو ترے کوچے میں ہے وہی کفن پردوش ہے
(شعر نمبر05) اَنَا فِی عَطَشِ وَّسَخَاکَ اَلَّمُ اے گیسوئے پاک اے ابر کرم
نعت شریف نمبر06
(شعر نمبر05)
اَنَا فِی عَطَشِ وَّسَخَاکَ اَلَّمُ اے گیسوئے پاک اے ابر کرم
برسن ہارے رم جھم رم جھم دو بوند ادھر بھی گرا جانا
مشکل الفاظ کے معنی
*اَنَا فِی عَطَشِ وَّسَخَاکَ اَلَّمُ -- میں پیاسا ہوں اور آپ کی سخاوت کامل و اکمل ہے * اے گیسوئے پاک اے ابرکرم -- اے باک گیسو کے بادلو *برسن ہارے رم جھم رم جھم -- ہلکی بارش برسانے والو * دو بوند ادھر بھی گرا جانا -- ادھر میرے اوپر بھی دو قطرے گرا دو۔
مفہوم و تشریح
اے میرے آقا ! ﷺ میں تو (آپ ﷺ کے ہجر و فراق کی ) پیاس سے مر رہا ہوں اور آپ ﷺ کی سخاوت میں بھی کوئی شک نہیں (جس کو چاہیں نواز سکتے ہیں ) آپ ﷺ اپنے کرم کی ہمیشہ برسنے والی بارش سے میرے دامن میں بھی دو قطرے گر ا دیں (ورنہ دنیا کیا کہے گی کہ دیکھو امام الا بنیاء کا منگتا پھرتا ہے مارا مارا) اس سے آپ ﷺ کی سخاوت پر حرف آئے گا ۔
ایک جگہ اعلیٰ حضرت ؒ فرماتے ہیں
تیرے صدقے مجھے اک بوند بہت ہے تیری
جس دن اچھوں کو ملے جام چھلکتا تیرا
بحر ساحل کا ہوں سائل ، نہ کنویں کا پیاسا
خود بجھا جائے کلیجا میرا چھینٹا تیرا
(شعر نمبر05)
اَنَا فِی عَطَشِ وَّسَخَاکَ اَلَّمُ اے گیسوئے پاک اے ابر کرم
برسن ہارے رم جھم رم جھم دو بوند ادھر بھی گرا جانا
مشکل الفاظ کے معنی
*اَنَا فِی عَطَشِ وَّسَخَاکَ اَلَّمُ -- میں پیاسا ہوں اور آپ کی سخاوت کامل و اکمل ہے * اے گیسوئے پاک اے ابرکرم -- اے باک گیسو کے بادلو *برسن ہارے رم جھم رم جھم -- ہلکی بارش برسانے والو * دو بوند ادھر بھی گرا جانا -- ادھر میرے اوپر بھی دو قطرے گرا دو۔
مفہوم و تشریح
اے میرے آقا ! ﷺ میں تو (آپ ﷺ کے ہجر و فراق کی ) پیاس سے مر رہا ہوں اور آپ ﷺ کی سخاوت میں بھی کوئی شک نہیں (جس کو چاہیں نواز سکتے ہیں ) آپ ﷺ اپنے کرم کی ہمیشہ برسنے والی بارش سے میرے دامن میں بھی دو قطرے گر ا دیں (ورنہ دنیا کیا کہے گی کہ دیکھو امام الا بنیاء کا منگتا پھرتا ہے مارا مارا) اس سے آپ ﷺ کی سخاوت پر حرف آئے گا ۔
ایک جگہ اعلیٰ حضرت ؒ فرماتے ہیں
تیرے صدقے مجھے اک بوند بہت ہے تیری
جس دن اچھوں کو ملے جام چھلکتا تیرا
بحر ساحل کا ہوں سائل ، نہ کنویں کا پیاسا
خود بجھا جائے کلیجا میرا چھینٹا تیرا
(شعر نمبر04) لَکَ بَدْرُ فِی الْوَجْہِ الَا جْمَلْ خط ہالہء مہ زُلف ابرِا جل
نعت شریف نمبر06
(شعر نمبر04)
لَکَ بَدْرُ فِی الْوَجْہِ الَا جْمَلْ خط ہالہء مہ زُلف ابرِا جل
تورے چندن چندر پر و کنڈل رحمت کی برن برسا جانا
مشکل الفاظ کے معنی
*لَکَ بَدْرُ فِی الْوَجْہِ الَا جْمَلْ -- آپ کے چہرہ حسین میں چودھویں رات کا چاند طلوع ہوتا دکھائی دیتا ہے * خط ہالہء مہ زُلف ابرِاجل -- داڑھی مبارک چاند کے گرد ھالہ (حلقہ) لگتا ہے اور زلف مبارک تقدیر کا زبردست بادل ہے *تورے چندن چندر پرو کنڈل-- صندل جیسے چہرے پر یہ کنڈل ( بتا رہا ہے) *چنن -- صندل کی خوشبودار لکڑی * چندر -- چاند
مفہوم و تشریح
اے میرے آقا ! ﷺ آپ کا حسین و جمیل چہرہ اقدس تو چودھویں کا چاند لگتا ہے اور آپ کی داڑھی مبارک چاند کے گرد ہالہ کا منظر پیش کر رہی ہے اور شنا ہے کہ چاند کے گرد ہالہ پڑ جائے تو بارش ضرور ہوتی ہے لہٰذا مجھ غریب و بے کس پر اپنی رحمت کی بارش برسا جایئے۔
اس شعر میں حضور علیہ السلام سے آپ ﷺ کی عطاؤں کی درخواست کی گئی ہے جو دنیا میں بارش کی طرح برستی ہیں اور آخرت میں تو یہ بارش اور موسلادھار ہو جائے گی آپ ﷺ نے فرمایا۔
یرغب الی الخلق کلھم حتی ابراھیم ( مسلم شریف ص ۲۷۳)
تمام مخلوق میری ہی طرف (بروز قیامت ) آئے گئی حتی کہ ابراہیم علیہ السلام بھی
وصاف ہے جو سرور گیتی پناہ کا
(شعر نمبر04)
لَکَ بَدْرُ فِی الْوَجْہِ الَا جْمَلْ خط ہالہء مہ زُلف ابرِا جل
تورے چندن چندر پر و کنڈل رحمت کی برن برسا جانا
مشکل الفاظ کے معنی
*لَکَ بَدْرُ فِی الْوَجْہِ الَا جْمَلْ -- آپ کے چہرہ حسین میں چودھویں رات کا چاند طلوع ہوتا دکھائی دیتا ہے * خط ہالہء مہ زُلف ابرِاجل -- داڑھی مبارک چاند کے گرد ھالہ (حلقہ) لگتا ہے اور زلف مبارک تقدیر کا زبردست بادل ہے *تورے چندن چندر پرو کنڈل-- صندل جیسے چہرے پر یہ کنڈل ( بتا رہا ہے) *چنن -- صندل کی خوشبودار لکڑی * چندر -- چاند
مفہوم و تشریح
اے میرے آقا ! ﷺ آپ کا حسین و جمیل چہرہ اقدس تو چودھویں کا چاند لگتا ہے اور آپ کی داڑھی مبارک چاند کے گرد ہالہ کا منظر پیش کر رہی ہے اور شنا ہے کہ چاند کے گرد ہالہ پڑ جائے تو بارش ضرور ہوتی ہے لہٰذا مجھ غریب و بے کس پر اپنی رحمت کی بارش برسا جایئے۔
اس شعر میں حضور علیہ السلام سے آپ ﷺ کی عطاؤں کی درخواست کی گئی ہے جو دنیا میں بارش کی طرح برستی ہیں اور آخرت میں تو یہ بارش اور موسلادھار ہو جائے گی آپ ﷺ نے فرمایا۔
یرغب الی الخلق کلھم حتی ابراھیم ( مسلم شریف ص ۲۷۳)
تمام مخلوق میری ہی طرف (بروز قیامت ) آئے گئی حتی کہ ابراہیم علیہ السلام بھی
وصاف ہے جو سرور گیتی پناہ کا
طالب ہے مال و زر کا شرف کا نہ جاہ کا
یاں سر نگوں ہوئی ہیں جہاں بھر کی عظمتیں
یاں سر نگوں ہوئی ہیں جہاں بھر کی عظمتیں
یاں سر جھکا ہوا ہے ہر اک کجکلاو کا
شفا شریف میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔
اما ترضون ان یکون ابراھیم و عیسی فیکم یوم القیمۃ۔
کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ قیامت کے دن ابراہیم و عیسی علیہا السلام بھی تمہارے ساتھ میری امت میں شامل ہوں اور ابراہیم علیہ السلام کہہ رہے ہوں گے۔
انت دعوتی و ذریتی فاجعلنی من امتک ( ص۱۳۱ ج ۱)
آپ تو میری دعا اور اولاد ہیں مجھے اپنی امت میں شامل کر لیجئے
وہ جہنم میں گیا جو اُن سے مستغنی ہوا
شفا شریف میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔
اما ترضون ان یکون ابراھیم و عیسی فیکم یوم القیمۃ۔
کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ قیامت کے دن ابراہیم و عیسی علیہا السلام بھی تمہارے ساتھ میری امت میں شامل ہوں اور ابراہیم علیہ السلام کہہ رہے ہوں گے۔
انت دعوتی و ذریتی فاجعلنی من امتک ( ص۱۳۱ ج ۱)
آپ تو میری دعا اور اولاد ہیں مجھے اپنی امت میں شامل کر لیجئے
وہ جہنم میں گیا جو اُن سے مستغنی ہوا
ہے خلیل اللہ کو حاجت رسول اللہ کی
Sunday, 11 June 2017
(شعر نمبر03) یَاشَعْسُ نَظَرْتِ اِلٰی لَیْلیْ چو طیبہ رسی عرضے بکنی
نعت شریف نمبر06 (شعر نمبر03)
یَاشَعْسُ نَظَرْتِ اِلٰی لَیْلیْ چو طیبہ رسی عرضے بکنی
توری جوت کی جھل جھل جگ میں رچی مری شب نے دن ہونا جانا
مشکل الفاظ کے معنی
*یَاشَعْسُ نَظَرْتِ اِلٰی لَیْلیی -- اے سورج تو نے میری رات کو دیکھا(اف اللہ سورج کے سامنے بھی رات ہی رہی ، مصائب کی سختی و کثرت کی طرف اشارہ *چو طیبہ رسی عرضے بکنی -- جب تو مدینہ سے گزرے تو میری حالت میرے محبوب کے سامنے بیان کر دینا * توری جوت کی جھلجھل جگ میں رچی -- آپ کے نور سے تو تمام جہان روشن ہیں *مری شب نے دن ہونا جانا -- مگر میری رات ہے کہ دن ہونے کا نام نہیں لیتی * جوت -- روشنی *جھلجھل -- تیز روشنی
مفہوم و تشریح
اے دوپہر کے سورج تو نے تو میری ( مشکلات کی) رات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ تیرے ہوتے ہوئے بھی دن نہ ہوا لہٰذا جب میرے محبوب ﷺ کی نگری سے گزرے تو میرے حبیب ﷺ کو (میری حالت ذار) عرض کر دینا کہ آقا ﷺ آپ کے نور نے تو زمانہ روشن کر دیا لیکن میں ابھی تک ( ہجر و فراق کی) کی تاریکی میں ڈوبا ہوا ہوں اور میری ( آپ ﷺ سے دوری ) رات ( ابھی تک آپ ﷺ کی بارگاہ کی حاضری سے) دن نہ ہوئی۔
یَاشَعْسُ نَظَرْتِ اِلٰی لَیْلیْ چو طیبہ رسی عرضے بکنی
توری جوت کی جھل جھل جگ میں رچی مری شب نے دن ہونا جانا
مشکل الفاظ کے معنی
*یَاشَعْسُ نَظَرْتِ اِلٰی لَیْلیی -- اے سورج تو نے میری رات کو دیکھا(اف اللہ سورج کے سامنے بھی رات ہی رہی ، مصائب کی سختی و کثرت کی طرف اشارہ *چو طیبہ رسی عرضے بکنی -- جب تو مدینہ سے گزرے تو میری حالت میرے محبوب کے سامنے بیان کر دینا * توری جوت کی جھلجھل جگ میں رچی -- آپ کے نور سے تو تمام جہان روشن ہیں *مری شب نے دن ہونا جانا -- مگر میری رات ہے کہ دن ہونے کا نام نہیں لیتی * جوت -- روشنی *جھلجھل -- تیز روشنی
مفہوم و تشریح
اے دوپہر کے سورج تو نے تو میری ( مشکلات کی) رات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ تیرے ہوتے ہوئے بھی دن نہ ہوا لہٰذا جب میرے محبوب ﷺ کی نگری سے گزرے تو میرے حبیب ﷺ کو (میری حالت ذار) عرض کر دینا کہ آقا ﷺ آپ کے نور نے تو زمانہ روشن کر دیا لیکن میں ابھی تک ( ہجر و فراق کی) کی تاریکی میں ڈوبا ہوا ہوں اور میری ( آپ ﷺ سے دوری ) رات ( ابھی تک آپ ﷺ کی بارگاہ کی حاضری سے) دن نہ ہوئی۔
Subscribe to:
Posts (Atom)









