Showing posts with label Utha Do Parda Dikha Do Chehra (مفہوم اشعار و خلاصہ تشریح). Show all posts
Showing posts with label Utha Do Parda Dikha Do Chehra (مفہوم اشعار و خلاصہ تشریح). Show all posts

Monday, 19 June 2017

(شعر نمبر12) کریم اپنے کرم کا صدقہ لیئم بے قدر کو نہ شرما



نعت شریف نمبر62
(شعر نمبر12)

کریم اپنے کرم کا صدقہ لیئم بے قدر کو نہ شرما
تو اور رضاؔ سے حساب لینا رضاؔ بھی کوئی حساب میں ہے               
مشکل الفاظ کے معنی
* لیئم --کمینہ، گھٹیا * بے قدر -- بے وقعت، بے حیثیت 
مفہوم و تشریح
اے میرے کریم آقا! ﷺ آپ کو اپنے ہی کرم کا صدقہ اس کمینے اور بے قدرے سے انسان ( احمد رضا) کا حساب لے کر مزید اس کی ’’ مٹی پلید نہ کیجئے‘‘ اور ذلیل و شرمسار نہ کیجئے۔ یہ احمد رضا بے چارہ اس قابل ہی نہیں کہ اس سے حساب لیا جائے۔
سبحان اللہ ! اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بارگاہ میں کیا عاجزی اور کسر نفسی ہے، جو اپنے آپ کو جتنا بھی مسکین و عاجز بنا کر حضور ﷺ    کی بارگاہ میں پیش کرتا ہے اس کو اتنی ہی زیادہ امت میں سرداری عطا کر دی جاتی ہے۔ امام احمد رضا کے ڈنکے شرق و غرب میں آج اسی وجہ سے بج رہے ہیں اور ان کے مخالفین کی حالت یہ ہے کہ ۔ پھرتے ہیں میر اور کوئی پوچھتا نہیں۔
  اعلیٰ حضرت کی شان اقدس میں ایک منقبت پڑھیے اور اپنے دور ماضی قریب کے اس محسن کی عظمت پہ قربان ہو جایئے۔ جن کی جلائی ہوئی  
عشق مصطفی ﷺ کی شمع ان شاء اللہ قیامت کے بود تک بھی روشنی دیتی رہے گی۔


مد نظر تھی احمد رضا خاں کی منقبت
آئی زناں پہ حضرت انساں کی منقبت                                  
حب رسول میں جو فنا فی رسول تھا
ہرمنقبت ، اس صاحب ایماں کی منقبت                                           
تابندہ چونکہ اس کاسلام و دوردتھا
تابندہ تر ہے، مرد مسلماں کی منقبت                                             
تھا اس کا ذوق ، کوثر و تسنیم میں دُھلا
اب ہر زباں پہ ذوق فراداں کی منقبت                                             
اس کی زباں پہ ذکر تھا طیبہ کے چاند کا
اب عام اس کے ذکر فراداں کی منقبت                                       
نازاں تھا جس پہ عاشق قرآن کا خطاب
ہے زر فشاں اُس عاشق قرآں کی منقبت                                   
محسوس ہو رہا ہے ستاروں میں عرش پر
لکھی ہوئی ہے احمد رضا خاں کی منقبت                                    
میرے دلوں دماغ میں بھی آ گئی بہار
نازل ہوئی جو پیکر احساں کی منقبت                                 
خوشبوئے زلف ، احمد رضا خاں کو تھی عزیز
مجھ کو عزیز ، زلف پریشاں کی منقبت                           
(حکیم مظفر عزیز)                      
فیضان رضا-----جاری رہے گا  ( ان شاء اللہ العزیز)                                       

(شعر نمبر11) گنہ کی تاریکیاں یہ چھائیں اُمنڈ کے کالی گھائیں آئیں


نعت شریف نمبر62
(شعر نمبر11)

گنہ کی تاریکیاں یہ چھائیں اُمنڈ کے کالی گھائیں آئیں
خدا کے خورشید مہر فرما کہ ذرہ بس اضطراب میں ہے                
مشکل الفاظ کے معنی
* خورشید --سورج * مہر -- مہربانی ، محبت * زرہ -- حقیراور معمولی شئے
مفہوم و تشریح
اے میرے رحمت والے آقا ! ﷺ گناہوں کی سیاہی نے ہمیں گھیر رکھا ہے اور کالی گھٹاؤں نے ہمارا محاصرہ کر لیا ہے۔ اے اللہ تعالیٰ کے نبیوں کے سردار اور آفتاب نبوت مدنی آقا! ﷺ مہربانی فرمائیے اور اس ناچیز ذرے کو جو سخت طوفانی آندھیوں کے تھپیڑوں کی وجہ سے جنگل میں تنہا کبھی اِدھر گرتا ہے کبھی اُدھر ، اس کو اپنے نور کی شعاعوں سے ماہتاب بنا دیجئے۔ کیونکہ آپ تو وہ ہیں کہ۔ 
؂قطرے کو سمندر کرتے ہیں ذرے کو ستارا کرتے ہیں
کونین کو خم آ جاتا ہے جن زلف سنوارا کرتے ہیں                   

(شعر نمبر10) کریم ایسا ملا کہ جس کے کھلے ہیں ہاتھ اور بھرے خزانے



نعت شریف نمبر62
(شعر نمبر10)

کریم ایسا ملا کہ جس کے کھلے ہیں ہاتھ اور بھرے خزانے
بتاؤ پھر اے مفلسو کہ پھر کیوں تمہارا دل اضطراب میں ہے                 
مشکل الفاظ کے معنی
* کریم --کرم کرنے والا * مفلسو -- اے محتاجوں اور مسکینو * اضطراب -- پریشانی، بے چینی 
مفہوم و تشریح
ہمیں اللہ کریم نے ایسا کریم (کرم کرنے والا، سخی، داتا) نبی عطا فرمایا ہے کہ جس کے ہاتھ دینے کے لیے ہر وقت کھلے رہتے ہیں اور اس کے خزانے بھرے ہوئے ہیں (اوتیت مفاتیح خزائن الارض) پھر ذرا بتاؤ تو اے منگتو! تمہارا کیوں دھڑک رہا ہے اور یہ سوچ رہا ہے کہ پتہ نہیں ملے گا کہ نہیں۔ ا علیٰ حضرت ایک مقام پہ فرماتے ہیں 
؂     مجرم بلانے آئے ہیں جا ء وک کا ہے گواہ
پھر رد ہو کیا یہ شان کریموں کے در کی ہے                     

(شعر نمبر09) خدائے قہار ہے غضب پر کھلے ہیں بدکاریوں کے دفتر



نعت شریف نمبر62 
(شعر نمبر09)
خدائے قہار ہے غضب پر کھلے ہیں بدکاریوں کے دفتر
بچا لو آ کر شفیع محشر تمہارا بندہ عذاب میں ہے                         
مشکل الفاظ کے معنی
* قہار -- قہرو غضب والا * بدکاریوں -- گناہوں * دفتر -- رجسٹر، نامہء اعمال *بندہ -- غلام
مفہوم و تشریح
اے میرے پیارے آقا! ﷺ اللہ تعالیٰ آج پوری طرح اپنی شان قہاری و جباری کا اظہار فرما رہا ہے اور اس کے سامنے میرے گناہوں کے رجسٹر کھلے ہوئے ہیں ،کسی نبی کی مجال نہیں کہ کچھ عرض کر سکے۔ بس میری نگاہیں آپ ہی کو ڈھونڈ رہی ہے۔ اے میدان محشر میں گناہ گاروں کی شفاعت کرنے والے آقا ! ﷺ تشریف لائیں اور اپنے بندے کو نار جہنم سے بچائیں۔ 
؂کبھی تیرے غم میں رونا کبھی ہجر میں تڑپنا
یونہی میری رات گزری اسی طرح دن گزارا                       
(مولانا محمد ارشدپناہوی)                                                   

Sunday, 18 June 2017

(شعر نمبر08) کھڑے ہیں منکر نکیر سر پہ نہ کوئی حامی نہ کوئی یارو




نعت شریف نمبر62
(شعر نمبر08)

کھڑے ہیں منکر نکیر سر پہ نہ کوئی حامی نہ کوئی یارو
بتا دو آ کر مرے پیمبر کہ سخت مشکل جواب میں ہیں                
مشکل الفاظ کے معنی
* منکر نکیر -- قبر میں سوال جواب کرنے والے دو فرشتوں کے نام * حامی -- خیر خواہ * یاور -- مددگار 
مفہوم و تشریح
اے میرے کریم آقا! ﷺ میں قبر کی اندھیری کوٹھری میں داخل ہو چکا ہوں ، قبر کے فرشتے میرے سر پہ کھڑے ہیں ، آپ ﷺ کے سوا کوئی حامی و مددگار نظر نہیں آتا ، سخت مشکل میں ہوں تشریف لا کر قبر کو منور بھی فرمائیں اور اپنے گناہ گار کو بتائیں کہ ان کو کیا جواب دینا ہے۔
؂نظر کرم بس آپ کی سرکار چاہیے
ہر رات مجھ کو آپ کا دیدار چاہیے                      
مرنے کے بعد دفن مدینے میں ہو سکوں
دو گز زمیں مجھے میری سرکار چاہیے            
میں اپنی ساری زیست وہیں پہ گزار دوں
مجھ کو حضور آپ کا دربار چاہیے               
(ریاض مدینہ)                  

(شعر نمبر07) جلی ہے سوز جگر سے جاں تک ہے ، طالب جلوۂ مبارک



نعت شریف نمبر62
(شعر نمبر07)

جلی ہے سوز جگر سے جاں تک ہے ، طالب جلوۂ مبارک
دکھا دو وہ لب کہ آب حیواں کا لطف جن کے خطاب میں ہے            
مشکل الفاظ کے معنی
* سوزجگر -- جگر کی گرمی و جلن * طالب -- طلب کرنے والا * آب حیواں -- زندگی دینے والا پانی(آب حیات) * خطاب -- بیان و کلام 
مفہوم و تشریح
اے میرے پیارے آقا ! ﷺ میری جان جو آپ ﷺ کے نورانی جلوے کی تمنا میں جل چکی ہے اس کو ایک بار اپنے لبہائے مبارک کا دیدار عطا ہو۔ جن ہونٹوں سے جب آپ ﷺ کلام فرماتے ہیں تو آب حیات کی لذت نصیب ہو تی ہے ۔ حضرت خواجہ غلام فرید نے سرکار مدینہ علیہ السلام کی بارگاہ میں یہی درخواست یوں پیش کی ہے۔
؂ ھک واری لنگھ آتو ساڈی جاتے
زاریاں کرسیاں سکاں لہاتے              
ایہو سوال فرید دامن گھن
جند جان کڈھ گھن لٹ مال ، دھن گھن            
مویاں دیاں خیراں آپ ای چل گھن
دل ٹھار لیساں مٹھا ھیں ادا تے             

(شعر نمبر06) وہ گل ہیں لب ہائے نازک ان کے ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جن سے



نعت شریف نمبر62 
(شعر نمبر06)
وہ گل ہیں لب ہائے نازک ان کے ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جن سے
گلاب گلشن میں دیکھے بلبل یہ دیکھ گلشن گلاب میں ہے                                
مشکل الفاظ کے معنی
* گل -- پھول * لبہائے -- ہونٹوں * گلشن -- باغ 
مفہوم و تشریح
آقائے دو جہاں ﷺ کے لبہائے مبارک بھی کیسی عجیب شان رکھتے ہیں ، گلاب کی پنکھڑیاں سے بھی زیادہ نرم و نازک اور جب آپ ﷺ ان لبوں کو حرکت دیتے ہیں تو (قرآن و حدیث کے) ہزاروں پھول ان سے برآمد ہوتے ہیں، باغ میں پھول تو اے بلبل تو نے بہت دیکھے لیکن ذرا اِدھر بھی دیکھ ! تجھے عجیب نظارہ دکھائی دے گا کہ سارا گلشن ہی ہمارے پھول آقا علیہ السلام میں سمایا ہوا ہے ۔


 ایسے پیارے اشعار ایسے ہی شاعر کے ہی ہوسکتے ہیں جو ہر وقت تصور مصطفی میں گم رہے اور عشق رسول علیہ السلام کے سمندر میں غوطہ زن رہے اور وہ ہمارے امام احمد رضا خان ہیں جو یقیناًایسے ہی ہیں کہ جن کی زندگی کا ہر لمحہ خیال مصطفی ﷺ سے پر نور رہتا ہے اور جن کا دل ہر وقت عشق مصطفی ﷺ سے مسرور رہتا ہے ، ایسے ہی لوگوں کی بارگاہ مصطفی ﷺ میں قربت کو دیکھ کر کسی نے ان کے بابرکت عقیدے کو یوں بیان کیا ہے 
؂کیسے کہہ دوں وہ حاضر نہیں ہیں
کیسے مانوں وہ ناظر نہیں ہیں 
اس سے بڑھ کر ثبوت اور کیا ہو
وہ تصور میں آئے ہوئے ہیں

(شعر نمبر05) سیاہ لباسانِ دار دنیا و سبز پوشان عرش اعلیٰ




نعت شریف نمبر62
(شعر نمبر05)

سیاہ لباسانِ دار دنیا و سبز پوشان عرش اعلیٰ
ہر اک ہے اُن کے کرم کا پیاسا فیض ان کی جناب میں ہے                 
مشکل الفاظ کے معنی
* لباساں ، پوشان -- لباس پہننے والے * کرم -- بخشش * جناب -- بارگاہ 
مفہوم و تشریح
اس دنیا کے سیاہ لباس والے (انسان ) ہو یا عالم بالا کے سبز رنگ کا لباس پہننے والے (فرشتے) ہوں سب کے سب حضور انور و اکرم علیہ السلام کی رحمت کے پیاسے ہیں اور سب کو فیض آپ ﷺ ہی کی بارگاہ سے ملتا ہے 
؂ خوشی مل گئی ہے محمد کے صدقے
میری زندگی ہے محمد کے صدقے              
میری عمر ساری یہیں اب کٹے گی
گذارہ ہے میرا محمد کے صدقے            

(شعر نمبر04) تری جلو میں ہے ماہ طیبہ ہلال ہر مرگ و زندگی کا



نعت شریف نمبر62 
(شعر نمبر04)
تری جلو میں ہے ماہ طیبہ ہلال ہر مرگ و زندگی کا
حیات جاں کا رکاب میں ہے ممات اعداء کا ڈاب میں ہے                  
مشکل الفاظ کے معنی
* جلو -- ساتھ،ہمراہ(یہاں مراد قبضہ و اختیار * ماہِ طیبہ -- اے مدینے چاند
* ہلال -- پہلی رات کا چاند *مرگ -- موت * حیات جاں -- جان کی زندگی *رکاب -- لوہے کا حلقہ جس میں پاؤں رکھ کر سواری پہ سوار ہوتے ہیں *ممات اعداء -- دشمنوں کی موت * ڈاب -- پرتلا (قبضے میں)
مفہوم و تشریح
اے مدینے کے چاند آقا! ﷺ زندگی و موت کا کمزور سا چاند آپ ﷺ کے ہی زیر سایہ تو طلوع ہو رہا ہے ( آپ ﷺ ہی کی نگاہ رحمت سے پتھروں کو بھی زندگی نصیب ہو رہی ہے اور درخت بھی رواں دواں ہیں، کافر آپ ﷺ کا انکار کر کے اموات غیر احیاء بن گئے اور شہیداء آپ ﷺ کے فیض سے بل احیاء ولکن لا تشعرون ہو گئے ) اہل ایمان کی جان اور روح آپ ﷺ کے پاؤں کے نیچے ہے اور دشمنوں کی موت بھی آپ ﷺ کے قبضہ و اختیار میں ہے 
؂ فرش پر بھی ہوا ذکر صل علیٰ عرش پر بھی ہوا چرچا سرکار کا
ہر طرف سج گئی محفل مصطفی ہر طرف یا نبی یا نبی ہو گئی                                    
( نیازی)                                               

(شعر نمبر03) اُنہی کی بو مایہء سمن ہے انہیں کا جلوہ چمن چمن ہے



نعت شریف نمبر62
(شعر نمبر03)

اُنہی کی بو مایہء سمن ہے انہیں کا جلوہ چمن چمن ہے
انہیں سے گلشن مہک رہے ہیں انہیں کی رنگت گلاب میں ہے                      
مشکل الفاظ کے معنی
* بو -- خوشبو * مایہ سمن -- چنبیلی کا سرمایہ * چمن چمن -- گلستان و بوستان(باغ) *مہکنا -- خوشبودینا * رنگت -- رنگ (رنگینیاں) 
مفہوم و تشریح
میرے آقا ﷺ (کے مبارک پسینے ) کی خوشبو ہی چنبیلی کے پھول کا سرمایہ ہے اور باغات حضور ﷺ ہی کے جلوے سے ’’باغ باغ ‘‘ ہیں گلشن (ہستی) انہی کی خوشبو سے مہک رہا ہے اور گلاب کے پھول کا حسن بھی انہی کا مرہون منت ہے (صلی اللہ علیہ وسلم) سبحان اللہ!
؂تصور میں تیرے ہر شے پہ یوں نظریں جماتا ہوں
نہ جانے کون سی شے میں تیرا دیدار ہو جائے                       
فنا اتنا تو ہو جاؤں میں تیری ذات عالی میں
جو مجھ کو دیکھ لے اس کو تیرا دیدار ہو جائے                  

(شعر نمبر02) جلی جلی بو سے اس کی پیدا سوزشِ عشق چشم والا




نعت شریف نمبر62
(شعر نمبر02)

جلی جلی بو سے اس کی پیدا سوزشِ عشق چشم والا
کباب آہو میں بھی نہ پایا مزہ جو دل کے کباب میں ہے                           
مشکل الفاظ کے معنی
*جلی جلی بو -- کسی شئے کے آگ پر جلنے سے جو بو پیدا ہو * سوزش -- جلن * چشمِ والا -- عظمت والی آنکھ * آھو -- ھرن 
مفہوم و تشریح
عشق رسول اور فراق و ہجر مصطفی ﷺ کی آگ میں دل کے جلنے کی جو ہلکی ہلکی بو آ رہی ہے یہ میرے آقا ﷺ کی مبارک آنکھوں کے عشق کی سوزش سے پیدا ہوتی ہے اور اس دل کے عشق رسول ﷺ میں کباب ہونے میں جو لذت ہے بھلا وہ ہرن کے کبابوں میں کہاں ہو سکتی ہے 
اگر تفصیل میں جانا ہو تو بلال حبشی ، صہیب رومی، سلمان فارسی ، حضرت خبیب و خباب، حضرت سمیہ و جناب اویس قرنی رضی اللہ عنھم اجمعین کی مبارک زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے اور ان سے پوچھا جائے کہ بتاؤ اے اللہ کے محبوب ﷺ کی محبت و عشق میں طرح طرح کی اذیتیں برداش کر نے والو!
؂ حب نبی میں زندگی کیسے گزر گئی                                   

(شعر نمبر01) اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نور باری حجاب میں ہے




نعت شریف نمبر62 
(شعر نمبر01)
اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نور باری حجاب میں ہے
زمانہ تاریک ہو رہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے                        
مشکل الفاظ کے معنی
*باری -- پیدا کرنے والا (اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام) * مہر -- سورج * نقاب -- حجاب ،پردہ 
مفہوم و تشریح
اے میرے پیارے نور والے آقا ! ﷺ
؂ذرا چہرے سے پردہ تو ہٹاؤ یا رسول اللہ 
ہمیں دیدار تو اپنا کراؤ یا رسول اللہ                          
( ﷺ)                                                                              
کیونکہ آپ ﷺ کا چہرہ مبارک اگر پردے میں ہو تو گویا نور خدا پردے میں ہو جاتا ہے اس لیے کہ آپ ﷺ ہی تو نور خدا ہیں ( انا من نور اللہ) اور آپ ﷺ کا رخ انور پردے میں ہونے کی وجہ سے ایک بار پھر زمانے پہ ظلم ، جہالت ، بے دینی و بدعقیدگی کے سیاہ بادل چھا گئے ہیں اور بس اب یہی انتظار کہ آسمان نبوت کا آفتاب عالم متاب (سراجامنیرا) اپنا چہرۂ انور پردے سے نکالے اور ہر طرف نور ہی نور پھیل جائے۔ 
؂ نور ازلی چمکیا غائب انہیرہ ہو گیا کملی والا آ گیا تھا ں تھاں سویرا ہو گیا
سیدنا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے غزوۂ تبوک سے واپسی پر حضور علیہ السلام کی بارگاہ میں ایک نعت کا نذرانہ پیش کیا جس کے اشعار اس طرح ہیں
تنقل من صلب الی رحم
 اذا مضیٰ عالم بد اطبق                    
ور دت نار الخلیل مکتنما
 فی صلبہ انت کیف تحترق                  
وانت لما ولدت اشرفت
 الارض و ضاء ت بنورک الافق                
یا رسول اللہ ! ﷺ آپ ( آدم و حوا علیھاالسلام سے لے کر حضرت عبد اللہ و سیدہ آمنہ رضی اللہ عنھما تک) ایک ایک پاک اصلاب سے پاک ارحام کی طرف منتقل ہو تے رہے یہاں تک کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ اسلام کا دور آ گیا اور ان کے لیے نمرود نے آگ جلائی تو آپ ﷺ کا نور ان کے صلب میں ہونے کی وجہ سے آگ ان پر گلزار ہو گئی ۔ اور وہ جلنے سے بچ گئے اور جب آپ پیدا ہوئے تو ساری زمین بمعہ اطراف فلک آپ ﷺ کے نور سے چمک اُٹھی۔ 
؂ جس طرف دیکھیے سرکار نظر آتے ہیں
ایسا لگتا ہے سرکار نے پردہ نہ کیا                            

روشنی جتنی تیری یاد نے پھلائی ہے
 مہ و خورشید نے اتنا بھی اجالا نہ کیا                        
 (وقار عظیم)                                                                          
کلام رضااور معرضین
بعض لوگوں کا ایک سو سال کے بعد اعلیٰ حضرت ؒ کے مندرجہ بالا شعر پہ اعتراض سوائے حماقت کے اور کیا ہے جبکہ اس پوری صدی میں بے شمار مناظرے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف کتابیں لکھی گئیں اور مخالفین کے دلوں میں اعلیٰ حضرت ؒ کا انتہائی نغض ہونے کے باوجود بھی کسی کوکسی موقع پر بھی آپؒ کے نعتیہ اشعار پہ کوئی اعتراض نہ ہوا اور آج سو سال کے بعد اعتراضات پر ؂ ہوا مینڈکی کوز کام اللہ اللہ۔ کی مثال ہی صادق آسکتی ہے یا پھر عقل ہی اتنی ہے جتنی اس ناقد کی تھی جس پر علامہ اقبال کا شعر برائے تشریح پیش کیا گیا ۔
؂خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے 
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے                        
تو اس نے مندرجہ ذیل تشریح کر کے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ ’’ اپنے آپ کو (خودی) اتنا بلندی پہ لے جا کہ تو تقدیر سے بھی اوپر چلا جائے ، وہاں جا کر جب تجھے سردی لگے گی تو خدا خود ہی پوچھ لے گا کہ تیری رضائی کہاں ہے( تیری رضا کیا ہے کو تیری رضائی کہاں سے بنا دیا)
؂ گل گئے گلشن گئے جنگل دھتورے رہ گئے
عقل والے چل دیے اب بے شعورے رہ گئے                                   
اعلیٰ حضرت کا کلام کوئی معمولی کلام نہیں ہے کہ ہر ایرہ غیرہ نتھو خیرا اس کو سمجھنے کا مدعی بن بیٹھے بلکہ کلام الا مام ہے جس پر اپنے ہی نہیں بیگانے بھی وجد کرتے ہیں اور جس پر علامہ اقبال، حفیظ جالندھری،محسن کاکوروی اور اکبر وارثی جیسے یگانہ روز گار لوگ جھوم جھوم کر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ، جس بے چارے کو اتنا بھی پتہ نہیں کہ وہ اعلیٰ حضرت کا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شان میں کہا ہوا شعر قادیانیوں کے بارے میں سمجھ رہا ہے (جیسے مصنف دھماکہ) وہ اعلیٰ حضرت کے کلام کو خاک سمجھے گا، اس طرح کے مولوی کے بارے میں کسی نے کیا خوب کہا۔
؂مولوی ! یہ مولوی ہیں بات کے
در حقیقت بیل ہیں گجرات کے                            
لہٰذا شعر نمبر ایک کے بارے میں یہ کہنا کہ اعلیٰ حضرت نے حضور ﷺ کو خدا کہہ دیا ہے۔ اس سے معترضین کی علمی قابلیت،دینی خیانت ، بغض اعلیٰ حضرتؒ اور ان کا نام نہاد تقویٰ و خلوص و للّٰہیت کے دعوے، سب کچھ طشت از بام ہو گیا جب یہ علم و حکمت کے لحاظ سے اپاہج بیچارے اعلیٰ حضرتؒ کا ایک عام سا مصرعہ نہیں سمجھ سکتے تو ان کے لطیف و دقیق اشعار کس طرح سمجھ پائیں گے۔ سچ کہا کسی نے خدا جب دین لیتا ہے حماقت آہی جاتی ہے۔
حدائق بخشش کے بعض نسخوں میں ایک شعر اس نعت میں دوسرے نمبر پر یہ بھی ہے اور اس کا مصرعہ ثانیہ بڑا مشہور بھی ہے لیکن میرے پیش نظر جو نسخہ ہے اس میں چونکہ نہیں ہے لہٰذا میں نے نمرنگ میں اس کو شامل نہیں کیا لیکن شرح میں درج کر رہا ہوں اگرچہ اس کے مصرعہ اولیٰ میں اضطراب ہے 
؂ نہیں ہے وہ میٹھی نگاہ، خدا کی رحمت ہے جلوہ فرما
غضب سے ان کے خدا بچائے جلال باری عتاب میں ہے                               
(مفہوم واضح ہے)