Showing posts with label kiya hi zoq afza shafaat hai tumhari wah wah مفہوم و تشریح. Show all posts
Showing posts with label kiya hi zoq afza shafaat hai tumhari wah wah مفہوم و تشریح. Show all posts

Wednesday, 7 June 2017

(شعر نمبر14) پارۂ دل بھی نہ نکلا دل سے تحفے میں رضاؔ



(شعر نمبر14)
پارۂ دل بھی نہ نکلا دل سے تحفے میں رضاؔ 
اُن سگان کو سے اتنی جان پیاری واہ واہ                      
مشکل الفاظ کے معنی
*پارۂ دل -- دل کا ٹکڑا * تحفہ -- ہدیہ، نظرانہ *سگان کو -- گلی کے کتے 
مفہوم و تشریح
اے احمد رضاؔ ! تم کیسے عاشق رسول ﷺ ہو کہ سید دو عالم ﷺ کی گلی کے کتوں کے لیے اپنے دل کا ایک ٹکڑا بھی نہ نکال سکے ، واہ واہ اپنی جان سے اتنا پیار اور مدینہ کی گلی کے کتے کا کچھ بھی احساس نہیں ، بس بس ! پتہ لگ گیا ہے تو کتنا عاشق رسول ﷺ ہے کہ مدینہ کی گلی کے کتوں سے اپنے دل کو بچا بچا کر رکھے ہوئے ہے ۔ کیا تو جانتا نہیں ہے حضور ﷺ کے در کے کتے کا کیا مقام ہے؟؟
؂ سر وہی جو ان کے قدموں سے لگے
 دل وہی جو ان پہ شیدا ہو گیا                    
اس کو شیروں پر شرف حاصل ہوا
 آپ کے در کا جو کتا ہو گیا                       
۔۔۔۔***۔۔۔۔

(شعر نمبر13) صدقے اس انعام کے قربان اس اکرام کے



(شعر نمبر13)
صدقے اس انعام کے قربان اس اکرام کے 
ہو رہی ہے دونوں عالم میں تمہاری واہ واہ 
مشکل الفاظ کے معنی
*صدقے -- فدا ہو جاؤں * قربان -- نثار ہو جاؤں *اکرام -- عزت * عالم -- جہان
مفہوم و تشریح
اے میرے پیارے نبی! ﷺ اللہ رب العزت کے اس انعام پر نثار جاؤں اور جو اس نے آپ ﷺ کو عزت عطا کی ہے اس پر قربان جاؤں کہ دونوں جہاں میں آپ ﷺ ہی کی عظمت کے چرچے ہو رہے ہیں اور کیوں نہ ہوں کہ آپ ﷺ ہی کے لیے اور آپ ﷺ ہی کے صدقے دونوں جہاں بنائے گئے ہیں آپ ﷺ نہ ہوتے تو نہ پھولوں میں خوشبو ہوتی نہ بلبل کا ترنم ہوتا، نہ کلیوں کا تبسم ہوتا۔
؂ لولاک لما خلقت الا افلاک 
لولاک لما اظھرت الربوبیۃ               
؂ ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو
 چمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو                  
یہ نہ ساقی ہو تو پھر مئے بھی نہ ہو 
خم بھی نہ ہو بزم توحید بھی دنیا میں نہ تم بھی نہ ہو                   
خیمہء افلاک کا استادہ اسی نام سے ہے ن
بض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے                      

(شعر نمبر12) اس طرف روضہ کا نور اس سمت منبر کی بہار



(شعر نمبر12)
اس طرف روضہ کا نور اس سمت منبر کی بہار
بیچ میں جنت کی پیاری پیاری کیاری واہ واہ                       
مشکل الفاظ کے معنی
*سمت -- طرف * بہار -- رونق *بیچ -- درمیان * کیاری -- زمین کا ٹکرا
مفہوم و تشریح
سبحان اللہ ! اے عاشقان مصطفی ﷺ ذرا مدینے جا کر تو دیکھو! ایک طرف روضہء انور کا نور ہے اور دوسری طرف میرے آقا ﷺ کے منبر کی بہاریں ہیں اور واہ واہ درمیان والا حصہ (مابین بیتی و منبری روضۃ من ریاض الجنۃ میرے گھر (روضے) اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے) جنت کی پیاری پیاری زمین کا پیارا پیارا ٹکرا ہے ۔ ایسا حسین منظر بھلا تمہیں کہاں نظر آئے گا۔ وہاں جاؤ اور اپنے آقا کی بارگاہ میں ، روضہ رسول ﷺ اور منبر رسول ﷺ کے درمیان جنت کی کیاری میں با ادب سر کو جھکا کر اپنے آقا اور شب اسراء کے دولہا کو درودوں کے گجرے اور سلاموں کے سہرے جھوم جھوم کر پیش کر و۔
؂ دل جھوم اُٹھا میرا سرکار ﷺ کے روضہ پر 
* جس وقت پڑھا سہرا سرکار ﷺ کے روضہ پر                      
جب چومتی ہیں نظریں اُس گنبد خضریٰ کو
 * آتا ہے نظر چہرہ سرکار ﷺ کے روضہ پر                      
پڑھتی ہیں فضائیں بھی ہر وقت درود اُن پر
 * عشاق کا ہے ڈیرا سرکار ﷺ کے روضہ پر                    
ہر مانگنے والے کو آقا نے ہے فرمایا 
* سب کچھ ہی تو ہے تیرا سرکار ﷺ کے روضہ پر                   
آتے ہیں شہنشاہ بھی جس در پہ گدا بن کر
 * کاسہ بھی بھرے میر ا سرکار ﷺ کے روضہ پر                 
واں باغ ارم بھی ہے واں حسن کے جلوئے بھی
 * اور نور کا ہے گھیرا سرکار ﷺ کے روضہ پر               
جس طرف بھی دیکھو تم ہے بھیڑ غلاموں کی
 * اُمت کا رہے پھیرا سرکار ﷺ کے روضہ پر               
کشکول لئے میں نے دیکھا ہے نظامیؔ کو
 * ہے ڈالے ہوئے ڈیرا سرکار ﷺ کے روضہ پر            

Tuesday, 6 June 2017

(شعر نمبر11) خود رہے پردے میں اور آئینہ عکس خاص کا



(شعر نمبر11) 
خود رہے پردے میں اور آئینہ عکس خاص کا
بھیج کر انجانوں سے کی راز داری واہ واہ                               
مشکل الفاظ کے معنی
*عکس خاص-- ذاتی سایہ * انجانے -- ناواقف *رازداری -- رازچھپائے رکھنا بعض نسخوں میں (راہ داری ہے جس کا معنی راستے سے گزانے کا پروانہ ہے) 
مفہوم و تشریح
یہ شعر اگرچہ بعض نسخوں میں نہیں ہے تاہم اس کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ خود تو نظر تو نظر نہیں آتا لیکن اپنے جلوے محبوب ﷺ کو عطا کر دیے اور محبوب ﷺ کے ذریعے اپنی مخلوق کی ( جو کہ گمراہی میں بھٹکتی پھر رہی تھی) رہنمائی فرمائی ۔ قرآن مجید کی آیت وان کانو امن قبل لفی ضلل مبین اور من رانی فقدر ای الحق حدیث کو ملا کر اور سمجھ کر پڑھنے سے آئینہ عکس جمال (حدیث سے) اور انجانوں کو تصورایت سے بخوبی سمجھ میں آ جاتا ہے۔ ؂ علامہ اقبال فرماتے ہیں
رخ مصطفی ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا آئینہ
 نہ ہماری بزم خیال میں نہ دکان آئینہ ساز میں                                
 (علامہ اقبال)                                               
جبکہ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے پیارے محبوب ﷺ خود تو پردے (روضہ انور) میں تشریف لے گئے لیکن اپنا آئینہ عکس خاص ( صحابہ ،
 اہل بیت اطہار اور اولیاء کرام ) کو لوگوں کی راہنمائی کے لئے دنیا کے مختلف خطوں میں بھیج دیا۔ ان کی تعلیمات ، اخلاق اور کردار حضور ﷺ کے ہی جلووں سے معمور ہیں۔ اور ان کی صورت میں حضور ﷺ مدینے رہ کر بھی گویا ہر کسی کے سامنے جلوہ فرما ہیں۔
؂ کون کہتا ہے آقا مدینے میں ہیں
  میری آنکھوں میں ہیں میرے سینے میں ہیں                              
جلوۂ مصطفی ہو اگر سامنے
 لذتیں   کس    قدر      اشک     پینے    میں ہیں                              

(مظفر وارثی)                 

(شعر نمبر10) کیا مدینہ سے صبا آئی کہ پھولوں میں ہے آج



(شعر نمبر10) 
کیا مدینہ سے صبا آئی کہ پھولوں میں ہے آج 
کچھ نئی بُو بھینی بھینی پیاری پیاری واہ واہ                     
مشکل الفاظ کے معنی
*صبا -- صبح کی ہوا * بو -- خوشبو *بھینی بھینی -- عمدہ مہک 
مفہوم و تشریح
تبھی میں کہوں کہ آج پھولوں سے بڑی بھینی بھینی اور پیاری پیاری خوشبو کیوں آ رہی ہے ؟ یہ ان کی اپنی تو نہیں لگتی؟ ہاں ہاں اب پتہ چلا کہ مدینے سے باد صبا چلی ہے جس نے پھولوں میں اتنی عمدہ قسم کی خوشبو پیدا کر دی ہے۔
؂ ہے ترے ہی دم قدم سے میری زندگی سہانی
ہے چمن کی تازتی میں تیرے نور کا نظارا                     

(شعر نمبر09) عرض بیگی ہے شفاعت عفو کی سرکار میں



(شعر نمبر09)
عرض بیگی ہے شفاعت عفو کی سرکار میں
چھنٹ رہی ہے مجرموں کی فرد ساری واہ واہ                       
مشکل الفاظ کے معنی
*عرض بیگی ہے -- اہل کار کے ہاتھ درخواست بھیجی ہے * چھٹ رہی ہے -- تفتیش ہو رہی ہے * فرد حساب کتاب کی فہرست (فرد جرم)
مفہوم و تشریح
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے بکار خاص کارندے ( فرشتے) حضور ﷺ کی شفاعت کے نتیجے میں فہرستیں لیکر بیٹھ گئے ہیں اور دھڑا ڈھڑ حضور ﷺ کی شفاعت کی نوید گنہ گاروں کو سنا رہے ہیں ، فلاں بھی آ جائے ، فلاں کی شفاعت بھی ہو گئی، فلاں بھی بخشا گیا ( لو اب میری بھی فرد جرم پیش ہو گئی۔ یہ لو مجھے بھی شفاعت کی خوشخبری سنا دی گئی کیونکہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے شفاعتی لا ھل الکبائرمن اُمتی۔ میری شفاعت بڑے بڑے گنہ گاروں کے لیے ہے۔ اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گا جب تک میرا ایک امتی بھی دوزخ میں رہے گا اور اللہ رب العزت نے تو بہر حال اپنے محبوب کو راضی کرنا ہے ( وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی o5 )
حضرت میاں محمد صاحب عارف کھڑی شریف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
؂ؔ واہ کریم اُمت دا والی مہر شفاعت کردا 
جبرائیل جہے جس چاکر نبیاں دا سر کردہ                      
اوہ محبوب حبیب رباناں حامی روز حشر دا
آپ یتیم یتیماں تائیں ھتھ سرے تے دھر دا                    

Monday, 5 June 2017

(شعر نمبر08) مجرموں کو ڈھونڈتی پھرتی ہے رحمت کی نظر




(شعر نمبر08)
مجرموں کو ڈھونڈتی پھرتی ہے رحمت کی نظر
طالع برگشتہ تیری ساز گاری واہ واہ                               
مشکل الفاظ کے معنی
*طالع برگشتہ -- الٹے نصیب والا، بد نصیب * سازگاری -- موافقت 
مفہوم و تشریح
اِدھر ہماری حالت تو یہ ہے کہ ہر لمحہ ایک نیا گناہ کر رہے ہیں اور اُدھر بروز قیامت ہمارے آقا ﷺ کی حالت یہ ہو گئی کہ آپ ﷺ کی رحمت خود مجرموں پر سایہ شفاعت کرنے کے لئے ڈھونڈ رہی ہو گی۔ واہ رہے مجرم ! تھا تو تو بد نصیب لیکن تیری بد نصیبی کے ساتھ حضور کی رحمت نے اس طرح ساز گاری اور موافقت پیدا کر لی ہے۔
؂ جائے گی ہنستی ہوئی خلا میں اُمت ان کی
کب گوارا ہوئی اللہ کو رقّت ان کی                      
یار ہو جائے گا اک آن میں بڑا اپنا
کام کر جاے گی محشر میں شفاعت ان کی                   
(مولانا حسن رضا خان)          

(شعر نمبر07) نفس یہ کیا ظلم ہے جب دیکھو تازہ جرم ہے




(شعر نمبر07)
نفس یہ کیا ظلم ہے جب دیکھو تازہ جرم ہے
ناتواں کے سر پہ اتنا بوجھ بھاری واہ واہ                              
مشکل الفاظ کے معنی
*نفس -- جان ، روح * تازہ جرم -- نیا گناہ *ناتواں -- کمزور 
مفہوم و تشریح
اے نفس بد نفس امارہ! یہ کیا ظلم ہے اور تو کیسا ظالم ہے کہ ہر لمحے تو ایک تازہ جرم کر کے میرے کمزور کندھوں پہ اتنا بوجھ ڈالتا جا رہا ہے ( ہمارے آقا معاف کرانے پہ لگے ہوئے ہیں اور تو ہے کہ جرموں پہ جرم کرتا جا رہا ہے ۔ تجھے شرم آنی چاہیے اور اللہ کے نبی کو گناہ کر کر کے پریشان نہیں کرنا چاہیے)
؂ سرکار کی رحمت سے مایوس نہیں ہوں
ہیں گرچہ گناہ میرے سمندر کے برابر                           
(عبدالستار نیازی)                                           

Sunday, 4 June 2017

(شعر نمبر06) نیم جلوے کی نہ تاب آئے قمر ساں تو سہی



(شعر نمبر06)
نیم جلوے کی نہ تاب آئے قمر ساں تو سہی
مہر اور تلوؤں کی آئینہ داری واہ واہ                               
مشکل الفاظ کے معنی
*نیم جلوہ -- آدھی جھلک * تاب -- طاقت *قمرساں -- چاند کی طرح *آئینہ داری -- شیشہ رکھنا
مفہوم و تشریح
جن کے تلوں کا دھوں ہے آب حیات اور جس زمین پہ وہ تلوئے لگیں قرآن قسمیں اُٹھاتا ہو اور جو اگر کبھی طائف کے بازاروں میں لہولہان ہوں تو کبھی عرش پہ جلوہ گر ہوں بھلا چاند اور سورج میں اُن تلووں کے جلوہ میں سے آدھے جلوے کی آئینہ داری کی تاب بھی کہاں ہو سکتی ہے۔
؂ ان کا در چومنے کا صلہ مل گیا 
سر اُٹھایا تو مجھ کو خدا مل گیا                       
کچھ نہ پوچھو کہ میں کیسے بیکل ہوا
مجھ کو کملی میں نور خدا مل گیا                        
( بیکل رامپوری)                  

(شعر نمبر05) نور کی خیرات لینے دوڑتے ہیں مہر و ماہ



(شعر نمبر05)
نور کی خیرات لینے دوڑتے ہیں مہر و ماہ
اُٹھتی ہے کس شان سے گردِ سواری واہ واہ                        
مشکل الفاظ کے معنی
*مہر و ماہ -- چاند اور سورج * گردِ سوار -- سواری کے تیز چلنے سے اڑنے والا گرد و غبار 
مفہوم و تشریح
شب معراج سرکار ﷺ کی سواری کچھ ایسی سج دھج ، آن بان اور شان و شوکت سے چلی اور آپ ﷺ کے چہرے کا نور اندھیری رات کو یوں روشن کر رہا تھا اور اپنا پورا شباب و جوبن دکھا رہا تھا کہ سواری کی اُٹھتی ہوئی نورانی گرد میں ہی چاند اور سورج آپ سے نور کی خیرات لینے کے لیے کاسۂ گدائی لے کر دوڑ پڑے اور ہر ایک عرض کرنے لگے کہ۔
؂ میں گدا تو بادشاہ بھر دے پیالا نور کا
نور دن دونا تیرا دے ڈال صدقہ نور کا                          
اور سیارگان فلکی میں سے ہر ایک کو یہ بھی کہتے ہوئے سنا گیا کہ۔
؂ بھیک لے سرکار سے لا جلد کاسہ نور کا
ماہ نو طیبہ میں بٹتا ہے مہینہ نور کا                             
 (اعلیٰ حضرت)                

Friday, 2 June 2017

(شعر نمبر04) انگلیاں ہیں فیض پر ٹوٹے ہیں پیاسے جھوم کر



(شعر نمبر04) 
انگلیاں ہیں فیض پر ٹوٹے ہیں پیاسے جھوم کر 
ندیاں پنجاب رحمت کی ہیں جاری واہ واہ                   

مشکل الفاظ کے معنی
*فیض -- بخشش و عطا * جھوم کر -- وجد و بے خودی میں آ کر *ندیاں -- نہریں                                     
*پنجاب رحمت -- رحمت کے پانچ دریا ( جو حضور ﷺ کی پانچ انگلیوں سے جاری ہوئے                                      
مفہوم و تشریح
صلح حدبیہ اور دیگر کئی مواقع پر جب پانی ختم ہو گیا تو سرکار مدینہ ﷺ نے اپنا دست عطا برتن میں رکھا تو پانی کی نہریں جاری ہو گئیں ہزار سے زائد صحابہ کرام نے پیا ، وضو کیا ، غسل کیا، سواریوں کو پلایا اور دیگر جگہ استعمال کیا ۔ پانی ہے کہ پانی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا، اور صحابہ کرام سے پوچھا گیا کہ تم کتنے تھے تو انہوں نے فوراً جواب دیا کہ چودہ سو لیکن اگر ایک لاکھ بھی ہوتے تو پانی ختم نہ ہوتا یہ بات اس لیے فرما دی کہ سوال کرنے والا یہ نہ سمجھے کہ شاید اس کے بعد تھوڑا ہی بچا ہو گا، تھوڑا کیسے ہو سکتا ہے کہ حوض کوثر کے خالق نے کوثر کے مالک کی انگلیوں کا کنکشن و رابطہ حوض کوثر سے کر دیا تھا۔ تبھی تو اعلیٰ حضرت نے پنجاب رحمت کہا کہ رحمت کے پانچ دریا اور نہریں تھیں جو بہہ رہی تھیں ۔ آپ ﷺ کی فیض رسا انگلیوں سے جب پانی کی پانچ نہریں جاری ہوئیں تو حضور ﷺ کے عاشق صحابہ کرام اپنی پیاس بجھانے کے لیے وجد کرتے ہوئے دوڑے کہ یقیناً اس پانی میں حوض کوثر کی سی لذت ہو گی۔ پینے کا مزہ تو آج آئے گا کہ یہ پانی وجود مصطفی ﷺ کی خوشبو سے معطر ہے۔
؂ مثل اس کا کوئی آیا نہ اب آئے گا
 میرا ماضی بھی وہی ہے مرا فردا بھی وہی                       
وہ بشر ہے کہ یہی اس کا ہے ارشاد مگر
 اس جہان بشریت میں ہے یکتا بھی وہی                               
(جمال از احمد ندیم قاسمی؛ ۴۶)              

Thursday, 1 June 2017

(شعر نمبر03) اشک شب بھر انتظارِ عفوِ اُمت میں بہیں




کلام نمبر 25
(شعر نمبر03) 
اشک شب بھر انتظارِ عفوِ اُمت میں بہیں
میں فدا چاند اور یوں اختر شماری واہ واہ        
         
مشکل الفاظ کے معنی
*اشک -- آنسو * شب بھر -- ساری رات *انتظار امید * عفو معافی * بہیں جاری رہیں * فدا قربان ،صدقے * اختر شماری ستارے گننا
مفہوم و تشریح
اے ساری رات اُمت کے گناہوں کی بخشش کے لیے رونے والے ماہتاب آسمان نبوت! میں آپ ﷺ کے قدموں پہ قربان ہو جاؤں کہ آپ نے ہم گنہ گاروں کے لیے کس طرح جاگ جاگ کر اور تارے گن گن کر راتیں گزاری ہیں۔
؂ ہم احمد مختار کی امت میں ہیں شامل
 طوفانوں سے محفوظ ہوئے جس کے سفینے            
 (توفیق بٹ)                          
یا رسول اللہ فریاد ہے
اے قیامت کے دن اپنی شفاعت کے ذریعے اپنی اُمت کو دوذخ سے بچانے والے آقا ! ﷺ آج آپ کی امت پر آپ کے دشمنوں نے عرصہء حیات تنگ کر رکھا ہے ، افغاستان، عراق، کشمیر اور ارض مقدس فلسطین کے مسلمانوں پر یہود و نصاریٰ اور دشمنان اسلام ظلم کے پہاڑ گرا رہے ہیں ۔ آپ کی اُمت پر حکمرانی کرنے والے نام نہاد ( مسلمان حکمران غیر مسلم حکمرانوں کے ایجنٹ اور خوشامدی بنے ہوئے ہیں۔ دیندار لوگوں کو مجاہدین اسلام کی مدد کرنے پر دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے جبکہ جہاد کو دہشت گردی کہہ کے بدنام کیا جا رہا ہے۔ ایک راب سے زیادہ ہو کر بھی مسلمان ذلت و رسوائی کی زندگی گزار رہے ہیں، نوجوان مسلم کو حیا باختہ پروگرام دکھا کے اس کی نگاہ سے شرم و حیا اور غیرت و حمیت کو ختم کیا جا رہا ہے دین دار لوگ آپس میں ایک دوسرے پر بم چلا کر باختہ خویش شہادت کا درجہ حاصل کر رہے ہیں ، مسلمان صرف رمضان میں نماز روزے کا اہتمام کر کے باقی سارا سال عبادت کو خیر آباد کہہ چکے ہیں ان حالات میں ایک نور والی نگاہ اس دنیا میں اُمت پر ڈالیے جو حشر بپا کر دے اور بگڑے ہوئے تمام معاملات درست ہو جائیں کیونکہ کام اتنا خراب ہو چکا ہے کہ اب صرف آپ ﷺ کی نگاہ نور سے ہی کام چل سکتا ہے
؂ اے خاصہء خاصاں رسل وقت دعا ہے
 اُمت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے                           
جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن 
سے پردیس میں وہ آج غریب الغرباء ہے                       
(الطاف حسین حالی)                   

(شعر نمبر02) خامہء قدرت کا حسن دست کاری واہ واہ




کلام نمبر 25
(شعر نمبر02) 
خامہء قدرت کا حسن دست کاری واہ واہ
کیا ہی تصویر اپنے پیارے کی سنواری واہ واہ                    
مشکل الفاظ کے معنی
*خامہء قدرت -- اللہ رب العزت کی قدرت کا قلم * دستکاری -- کاری گری *سنواری آراستہ فرمائی * 
مفہوم و تشریح
اے میرے اللہ ! تیری کاری گری اور تیرے قلم کی قوت تخلیق کی دستکاری کے قربان جاؤں تو نے اپنے پیارے محبوب کی صورت کیسی بے مثال ، لا جواب اور باکمال بنائی ہے کہ ان کو دیکھ کر کہنا پڑتا ہے ۔
؂ تیری صورت سے نہیں ملتی کسی کی صورت
 ہم جہاں میں تیری تصویر لیے پھرتے ہیں                     
جبریل امین علیہ السلام نے حضور ﷺ کی بارگاہ میں عرض کیا جس کو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے روایت فرمایا! کہ اللہ رب العزت فرماتا ہے۔ 
کسوت حسن یوسف من نور الکرسی و کسرت نور وجھک من نور عرشی۔
’’ حضرت یوسف علیہ السلام کو میں نے کرسی کے نور کا حسن دیا اور اے حبیب تیرے چہرے کو میں نے اپنے عرش کا نور پہنا دیا (نصرۃ الواعظین)
؂ دیکھنے والے کہا کرتے ہیں اللہ اللہ
یاد آتا ہے خدا دیکھ کے صورت تیری                   
چین پائیں گے تڑپتے ہوئے دل محشر میں 
غم کسے یاد رہے دیکھ کے صورت تیری                    

Wednesday, 31 May 2017

کلام نمبر 25 (شعر نمبر01) کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمہاری واہ واہ




کلام نمبر 25
 (شعر نمبر01) 

کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمہاری واہ واہ
قرض لیتی ہے گنہ پرہیز گاری واہ واہ                                  
مشکل الفاظ کے معنی
*ذوق افزا -- ذوق و شوق میں اضافہ کرنے والی * واہ واہ -- کلمہ تحسین، سبحان اللہ کیا بات ہے، کیا کہنے، بلے بلے * قرض ادھار * گنہ گناہ ،غلطی،خطا * پرہیزگاری تقویٰ
مفہوم و تشریح
ھُوَالْحَبِیْبُ الَّذِیْ تُرْ جیٰ شَفَاعَتُہ‘
لِکُلِّ ھَوْلٍ مِّنَ الْاَ ھْوَ الِ مُقْتَحِمٰ          
              
واہ واہ! سبحان اللہ ! قربان جاؤں ! اے میرے شفاعت والے آقا ! ﷺ آپ کی بابرکت شفاعت کی تو بات ہی کیا ہے، اس قدر ذوق و شوق اور لذت و سرور میں اضافہ کر رہی ہے کہ پرہیز گاری بھی کچھ گناہ کسی گناہ گار سے بطور قرض لینے چل پڑی ہے۔
یعنی جب متقی و پرہیز گار لوگ قیامت والے دن حضور ﷺ کو گناہ گاروں کی شفاعت کرتا ہوا دیکھیں گے تو تمنا کریں گے کہ بجائے اپنی پرہیز گاری سے جنت میں جانے سے اچھا ہوتا کہ حضور ﷺ کی شفاعت سے جنت میں جاتے پھر یہ سعادت حاصل کرنے کے لیے وہ کسی گناہ گار کو کہیں گے یار! تھوڑے گناہ ہمیں بھی بطور قرض دینا تاکہ ہم بھی حضور ﷺ کی شفاعت کا مزہ لے کر جنت میں جائیں
؂ تمہاری زلف پہ چمکی تو حسن ٹھہرائی
 وہ تیرگی جو میرے نامہء سیاہ میں تھی               

شفاعت کی بھیک مانگنے والوں میں صرف ہم جیسے گناہ گار ہی نہیں بلکہ عطائے رسول ، ہندالولی ، غریب نواز، خواجہء خواجگان اور ننانوے لاکھ کافروں کو کلمہ پڑھانے والے حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری جیسے بھی شامل ہیں آپؒ عرض کرتے ہیں۔
؂ از محمد دیدہ باید فرض کردن در بہشت 

چونکہ بیروں آید انوار تجلی از حساب                        
یا رسول اللہ! شفاعت از تو میدارم امید

 باوجود صد ہزاراں جرم در روز حساب                    
شاید اسی تڑپ کا اظہار امام اہل سنت کے برادر خورد حضرت مولانا حسن رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے مندرجہ ذیل اشعار میں فرمایا 
؂ محشر میں کسی نے بھی میری بات نہ پوچھی
 حامی نظر آیا تو بس اک تو نظر آیا                                 

بازار قیامت میں جنہیں کوئی نہ پوچھے
 ایسو ں کا خریدار ہمیں تو نظر آیا                               

ظاہر ہیں حسن احمد مختار کے معنی
 کونین پہ سرکار کا قابو نظر آیا                            
(ذوق نعت)