Thursday, 11 May 2017

(شعر نمبر11) رکھئے جیسے ہیں خانہ زاد ہیں ہم



                        (شعر نمبر11) 
رکھئے جیسے ہیں خانہ زاد ہیں ہم
                   مول کے عیب دار پھرتے ہیں
مشکل الفاظ کے معنی
*خانہ زاد -- گھر میں ہی پیدا ہونے والا غلام * مول -- قیمت * عیب دار --عیب والا
مفہوم و تشریح
اے میرے پیارے آقا ! ﷺ ہم جیسے بھی ہیں نکمے ہیں یا کام کے ، ہمیں اپنی بارگاہ میں ہی رکھیئے کیونکہ ہم تو آپ ﷺ ہی کے ٹکڑوں پہ پلے ہوئے ہیں اور آپ ﷺ کے در کے غلام ابن غلام ہیں اور آپ ﷺ اگر بیچیں گے بھی تو بھلا ہم جیسے عیبیوں کو کون خریدے گا، اچھے بھلے قیمت والے مارے مارے پھر رہے ہیں اور ذلیل و خوار ہو رہے ہیں تو ہمارا کیا بنے گا۔
؂ تیرے ٹکڑوں پہ پلے غیر کی ٹھوکر پہ ڈال
                جھڑکیاں کھائیں کہاں چھوڑ کے صدقہ تیرا

(شعر نمبر12) ہائے غافل وہ کیا جگہ ہے جہاں



(شعر نمبر12) 
ہائے غافل وہ کیا جگہ ہے جہاں
پانچ جاتے ہیں چار پھرتے ہیں                   
مشکل الفاظ کے معنی
*ہائے -- کلمہ افسوس * غافل -- غفلت میں پڑا ہوا 
مفہوم و تشریح
اے عظمت مدینہ سے غافل ! تجھے پہ بہت افسوس ہے کہ تو نے حا ضری مدینہ کی قدر و مزلت نہیں جانی یہ تو وہ آستانہ ہے کہ جہاں قدسیوں کی لائنیں لگی ہوئی ہیں اور پانچ پانچ چار چار ہو کر حاضری سے فیض یاب ہو رہے ہیں عمومًا مزارات پہ لائنوں میں ایک ایک زائر حاضری دیتا ہے، مگر یہاں کئی کئی لائنیں تو فرشتوں کی ہیں او ر انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اس کے علاوہ ہے
یا اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ اے موت سے بے خبر ہو کر غفلت کی نیند سونے والے نادان! ہوش کر اپنے ارد گرد دیکھتا نہیں نہ جانے کتنے جنازے تیری آنکھوں کے سامنے اُٹھے اور گلیوں سے پھرتے پھراتے قبروں میں اُتار دیے جاتے ہیں۔ کبھی غور کیا کہ میت چار کندوں پہ جاتی ہے اور واپسی پہ وہی چار کندے خالی واپس آتے ہیں پانچوں تو قبر میں ہی رہ جاتا ہے۔ لہذا اس سے پہلے پہلے کہ لوگ تیری بھی میت کو لے کر قبرستان کی طرف جائیں تو اللہ رب العزت اور اس کے محبوب کو راضی کر لے اگر ہو سکے مدینے میں اپنی زندگی کے آخری ایام گزر تاکہ آقا ﷺ کی شفاعت نصیب ہو سکے 
(عقیدہ درست ہونا شرط ہے) 

Tuesday, 9 May 2017

(شعر نمبر10) ورد یاں بولتے ہیں ہر کارے


(شعر نمبر10) 
ورد یاں بولتے ہیں ہر کارے
پہرہ دیتے سوار پھرتے ہیں                     
مشکل الفاظ کے معنی
*وردیاں -- باجا ( یا درویوں ہے یعنی اس طرح وظیفہ پڑھتے ہیں) * ہرکارے -- ہر کارہ کی جمع بمعنی اعلان کرنے والا ، پیغام رساں ، قاصد ( یاکارے بمعنی پیادہ) 
مفہوم و تشریح
کئی فرشتے ( پیادہ یا سپاہی یا پیغام رسانی کی ڈیوٹی دینے والے ) آپ ﷺ کی بارگاہ کے باہر نوبت بجا کر حضور ﷺ کے کرم و رحمت کا اعلان کر رہے ہیں اور کئی دوسرے نور کی سواریوں پہ سوار پہ سوار ہو کر آپ ﷺ کے شہر کا پہرہ دے رہے ہیں اور ساتھ
ان اللہ و ملائکۃ یصلون علی النبی۔
کا عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہیں اور اپنی خدمت پہ نازکناں ہو کر کہہ رہے ہیں ۔
؂مل گئے مصطفی اور کیا چاہیے
حدیث شریف میں ہے ۔
علی کل نقب منھا ملک لا ید خلھا الدجال ولا الطا عون ۔( خلاصۃ الوفاء
مدینہ کے ہر راستے پر ایک فرشتہ معین ہے جو نہ دجال کو مدینے میں داخل نہ ہونے دے گا نہ طاعون کی وبا کو 

Saturday, 6 May 2017

(شعر نمبر09) لاکھوں قدسی ہیں کام خدمت میں



(شعر نمبر09) 
لاکھوں قدسی ہیں کام خدمت میں
لاکھوں گرد مزار پھرتے ہیں                          
مشکل الفاظ کے معنی
*کام خدمت -- نوکری * گرد مزار -- روضہ پاک کے اردگرد 
مفہوم و تشریح
سرکارِ مدینہ علیہ السلام کی بارگاہ میں ہر وقت فرشتوں کا ہجوم رہتا ہے ہر کسی کے ذمے کوئی نہ کوئی خدمت ہے اور لاکھوں روضہ انور کے گرد چکر لگا رہے ہیں اور وجد کے عالم میں جھوم کر عرض کر رہے ہیں۔
؂ جنت نہ جنت کی کلیوں میں دیکھا
 مزا جو مدینے کی گلیوں میں دیکھا                                

Madina Chor K Ab Un Ka Dewana Na Jay Ga Qari Asad Raza Attari Al Madan...

Friday, 5 May 2017

Rasool Allah ﷺ Ne Farmaya Bad'tareen Hai Wo insaan Ustaad Mohtaram Ameer...

(شعر نمبر08) پھول کیا دیکھوں میری آنکھوں میں




(شعر نمبر08) 
پھول کیا دیکھوں میری آنکھوں میں
دشت طیبہ کے خار پھرتے ہیں                              
مشکل الفاظ کے معنی
*دشت طیبہ -- مدینے کا جنگل * خار -- کانٹا 
مفہوم و تشریح
اے پھولو! مجھے معذور سمجھو، میں تمہیں نہیں دیکھ سکتا کیوں کہ میری آنکھوں میں مدینے کے کانٹے ایسے بس گئے ہیں کہ اب دنیا کے پھولوں سے زیادہ مدینے کے کانٹوں کی محبت دل میں سما گئی ہے۔
علم و حکمت کے بے تاج بادشاہ، عظیم المرتبت محدث، فقیہہ اعظم، پاسبانِ ناموسِ رسالت ﷺ ، امام اہل سنت ، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اشعار میں نبی اکرم ﷺ سے محبت کی وہ داستاں رقم کی کہ قیامت تک عاشقان رسول ﷺ کے دلوں کو عشق رسول ﷺ سے معطر کرتے رہے گی۔ ایک جگہ مزید فرماتے ہیں 
؂’’خارِ صحرائے مدینہ نہ نکل جائے کہیں
وحشتِ دل نہ پھرا بے سر و ساماں ہم کو‘‘                    
؂ خارِ صحرائے نبی پاؤں سے کیا کام تجھے
آ مِری جان مِرے دل میں ہے رستہ تیرا                    
 (مولانا حسن رضا خان)                       
؂ درد جو مجھ کو میسر ہے وہ ہر اِک کو نہیں 
یہ عجب درد ہے، اس میں ہے بلا کی تسکیں                         
کھیل سارا مجھے ڈر ہے نہ بگڑ جائے کہیں
’’خارِ صحرائے مدینہ نہ نکل جائے کہیں                                
وحشتِ دل نہ پھرا بے سر و ساماں ہم کو‘‘          
 (صاحبزادہ ابو الحسن واحدؔ رضوی)