Tuesday, 14 March 2017

ایسا کوئی محبوب نہ ہو گا نہ کہیں ہے



محمد اعظم چشتی

ایسا کوئی محبوب نہ ہو گا نہ کہیں ہے
 بیٹھا ہے چٹائی پہ مگر عرش نشیں ہے

مِلتا نہیں کیا کیا، دو جہاں کو ترے در سے؟
 اِک لفظ ‘‘نہیں‘‘ ہے، کہ ترے لب پہ نہیں ہے

تُو چاہے تو ہر شب ہو مثالِ شبِ اسریٰ
 تیرے لئے دو چار قدم عرش بریں ہے

رُکتے ہیں وہیں جا کے قدم اہلِ نظر کے
 اُس کوچے کے آگے نہ زماں ہے نہ زمیں ہے

ہر اِک کو مُیّسر کہاں اُس در کی غُلامی
 اُس در کا تو دربان بھی جبریلِ امیں ہے

دل گریہ کناں اور نظر سُوئے مدینہ
 اعظم ترا اندازِ طلب کتنا حسیں ہے

(رباعی نمبر 02) شب لحیہ و شارب ہے رُخِ روشن دنِ



(رباعی نمبر 02) 
شب لحیہ و شارب ہے رُخِ روشن دنِ
گیسو و وشب قدرو برات مومن
مژگاں کی صفیں چار ہیں وہ اُبرو ہیں
وَالْفَجْرِ کے پہلو میں لیَالٍ عَشْرٍ
مشکل الفاظ کے معنی
*شب --رات * لحیۂ - -داڑھی مبارک * شارب -- مونچھیں * رخ -- چہرہ *گیسو-- زلف * لیلۃ القدر -- شب برات (شعبان کی پندرھویں رات * مژگاں -- پلکیں * ابرو-- بھویں * والفجر -- صبح صادق * لیَالٍ عَشْرٍ-- دس راتیں
مفہوم و تشریح
سرکار مدینہ ﷺ کی داڑھی مبارک کالی رات کی طرح سیاہ ہے اور اسی طرح مونچھیں مبارک بھی (دو) اور چہرۂ انور روشن دن ہے ( تین ہو گئے) دو گیسوئے مبارک ایک لیلۃ القدر ہے اور دوسرا لیلۃ البرات ہے اہل ایمان کے لیے ( پانچ ہو گئے) چار پلکیں اور اسی صف میں دو بھویں مبارک ہیں (گیارہ ہو گئے) اور یہ گویا تفسیر ہوئی ،، والفجر ولیال عشر،، کی کہ صبح صادق کی قسم اور دس راتوں کی قسم ۔ صبح صادق چہرۂ والضحٰی ہوا اور دس راتیں مذکورہ دس اشیاء ہوئیں یہ ہے نعت مصطفی کا حق ادا کرنا۔ جس کے بارے میں کہا گیا۔
یہی دین و ایماں یہی ہے عبادت دروددوں کی محفل ہمیشہ سجائیں
میں نعتیں پڑھوں جھوم کر اس طرح فرشتے سبھی عرش پر جھوم جائیں
(ریاض مدینہ)

jb munafiqon ko kaha gaya k fisad na karo to kehne laga